Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کے اعمال میں   پائے جاتے ہیں  ۔ تو ان میں   سے  جو عمل نیکی کا ہو اور اس کا سبب ہمت،   عزم اور نیت ہو تو بندے کو نیت کے اعتبار سے  اس کا ثواب دیا جائے گا اور وہ عمل نیکیوں   کے نامۂ اعمال میں   لکھ دیا جاتا ہے۔ البتہ! وہ عمل جس کا تعلق شر اور برائی سے  ہو اور اس کا سبب بھی نیت،   عقد اور عزم جیسے  خیالات ہوں   تو اس پر بندے کا مواخذہ ہو گا اس لئے کہ عمل اعمالِ قلوب،   بری نیتوں   اور معاصی کے ارادے میں   سے  ہے۔

نفس اور شیطان: 

            شیطان کے لئے مواخات میں   نفس کے علاوہ کچھ نہیں  ،   یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان دونوں   کو وسوسہ انگیزی میں   اکٹھا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 (1)  الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ (۴)  (پ۳۰،  الناس:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جو دل میں   بُرے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔

 (2)  وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۚۖ- (پ۲۶،  ق:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم جانتے ہیں   جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوقات میں   سے  ہر شے کی مثل اور ضد پیدا کی ہے۔ پس نفس کی مثل شیطان ہے اور ان دونوں   کی ضد روح ہے۔

اعمالِ جوارح کی اقسام: 

            اعمالِ جوارح کی دو قسمیں   ہیں  :  (۱) … طاعت اور  (۲) … معصیت۔ یہ دونوں   اجر و گناہ میں   ایک جیسے  ہیں  ،   البتہ! جو عمل ظاہری جسم کے ذریعے ادا نہیں   کئے جاتے ان کا ان سے  کوئی تعلق نہیں   یعنی توحید کی گواہی دینا یا کسی شک یا کفر میں   مبتلا ہونا یا کسی بدعت کا اعتقاد رکھنا۔

 بیان و تفصیل کا دوسرا باب

خیالِ قلب کی آمد کے ذرائع: 

٭ اگر کسی کے دل میں   معصیت کا خیال پیدا ہو لیکن بدلتا رہے اور ٹھہرے نہیں   تو یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔

٭اگر دل میں   کوئی خواہش ٹھہر جائے یا کوئی حال ٹھہر کر ہر دم پریشان کرتا رہے تو وہ نفسِ امارہ کی طرف سے  ہے جس کا سبب اس کی طبیعت یا اس کا بری عادت میں   مبتلا ہونا ہے۔

٭ہر وہ خیال جو بندے پر اس کی کسی خطا کی وجہ سے  وارد ہو اور وہ اسے  ناپسند کرے تو ایسا خیال شیطان کی جانب سے  اور اس سے  نفرت ایمان کی جانب سے  ہوتی ہے۔

٭کسی نفسانی خواہش یا کسی معصیت سے  بندہ لذت پائے،   پھر اس لذت میں   کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے تو یہ لذت نفس کی جانب سے  اور اس میں   رکاوٹ فرشتے کی جانب سے  ہوتی ہے۔

٭ہر وہ فکر جو بندے کے دل میں   دنیا کے انجام یا حال کی تدبیر کے متعلق پیدا ہو اور وہ اس خیال کی جانب متوجہ ہو جائے تو وہ عقل کی جانب سے  ہوتی ہے۔

٭جو خیال خوف،   حیا،   ورع،   زہد یا کسی دوسرے امرِ آخرت کے سبب سے  پیدا ہو اس کا سبب ایمان ہے۔

٭ دل جس تعظیم یا ہیبت یا عظمت یا قرب کا مشاہدہ کرتا ہے،   یقین کے باعث ہے اور اسے  ہی ایمان کی زیادتی بھی کہتے ہیں  ۔ اسی کی طرف ہر معاملے میں   رجوع کیا جاتا ہے لہٰذا ہر دم اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسا رکھو۔ جس طرح کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا کی: ’’میں   تیری پناہ مانگتا ہوں  ۔ ‘‘   ([1])

        یہ حدود کی تفصیل،   اظہارِ مکان اور علم کی پختگی ہے ۔ چنانچہ ایک جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا (۱۲)  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی۔

        اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (۹۷)  (پ۷،  الانعام:  ۹۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم نے نشانیاں   مفصّل بیان کردیں   علم والوں   کے لئے۔

        توحید اور مشاہدہ میں   کوئی تفکر نہیں   اور نہ ہی کسی اشارے میں   کوئی معائنہ اور قدرت میں   کوئی ترتیب ہے،   البتہ! تفصیل کا معلوم ہونا ضروری ہے نہ کہ توحید کا اور اس سے  مراد شریعت کی زبان سے  تمام اشیاءکی ذات میں   فرق بیان کرنا ہے تا کہ مختلف طریقوں   کا اظہار ہو،   راستے منور ہوں  ،   سالکینِ راہِ طریقت اپنے راستے پر گامزن ہو سکیں   اور عمل کرنے والوں   میں   ترتیب کا لحاظ رکھا جا سکے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍؕ-  (پ۱۰،  الانفال:  ۴۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  جو ہلاک ہو دلیل سے  ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے  جئے۔

 

 



[1]    ۔ صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلوۃ، باب الدعاء فی السجود، الحدیث: ۶۷۱ ، ج ۱ ، ص ۳۳۵

 



Total Pages: 332

Go To