Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ وہ اعمال جو اس سے  ظاہر ہوئے ان پر کسنے عمل کیا تا کہ اس پر اس وجہ سے  حجت قائم ہو سکے اور اس کی کذب بیانی بھی واضح ہو جائے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ (۳)  (پ۲۰،  العنکبوت:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ضروراللہسچوں   کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں   کو دیکھے گا۔

            قرآنِ کریم میں   جہاں   بھی (لِنَعْلَم)   اور  (حَتّٰی نَعْلَم)  کے الفاظ آئے ہیں   وہ سب مجازی طور پر ہیں  ،   اس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم تو ہر قسم کی معلومات سے  پہلے کا ہے اور چونکہ اس کے علم سے  پیدا شدہ اشیاءاس کے علم کے ذریعے جاری ہیں   تو شیطان کا تسلط اس کے غلبہ کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخفی علم کو ظاہر کرنے والا اور واضح کرنے والا بن جائے گا۔ جس طرح کہ بندوں   کے افعال اللہ عَزَّ وَجَلَّکے باطنی ارادے کو ظاہر اور واضح کرنے والے ہوتے ہیں  ۔ چنانچہ،   

             سرکارِ مکۂ مکرمہ،   سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’علم سبقت لے گیا اور قلم خشک ہو چکا ہے،  فیصلہ ہو چکا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  اہلِ سعادت کے لئے سعادت کی اور اہلِ معصیت کے لئے شقاوت کی تقدیر مکمل ہو چکی ہے۔ ‘‘  ([1])

خیالات کی تقسیم اور ان کے نام

خیالات کے مختلف نام: 

        وہ تمام خیالات جو دل میں   پیدا ہوتے ہیں   ان کے اسما یہ ہیں  :

 (۱) … دل میں   خیر و بھلائی کی جو بھی بات پیدا ہو اسے  ’’اِلہام ‘‘  کہتے ہیں  ۔

 (۲) … دل میں   جو شر اور برائی پیدا ہوتی ہے اسے  ’’وسوسہ ‘‘  کہتے ہیں  ۔

 (۳) … دل میں   پیدا ہونے والا خیال اگر ڈراور خوف کی جگہوں   کی جانب سے  ہو تو اسے  ’’حسّاس ‘‘  کہتے ہیں  ۔

  (۴) … جو خیال خیر کی تقدیر اور امید سے  پیدا ہو اسے  ’’نیت ‘‘  کہتے ہیں  ۔

 (۵) … اور جو مباح امور کی تدبیر،   ترجیح اور طمع سے  پیدا ہو اسے  ’’امید ‘‘  اور ’’آرزو ‘‘  کہتے ہیں   ۔

 (۶) … آخرت کی یاد دلانے والا اور وعدہ و وعید پر دلالت کرنے والاخیال ’’تذکر و تفکیر ‘‘  کہلاتا ہے۔

 (۷) … جو خیال عینِ یقین کے ساتھ امورِ غیبیہ کو واضح طور پر دیکھنے سے  پیدا ہو اسے  ’’مشاہدہ ‘‘  کہتے ہیں  ۔

 (۸) … معاش اور نفس کے احوال کی تبدیلی کے متعلق جو خیال پیدا ہوتا ہے اسے  ’’ھَمٌّ   ‘‘  کہتے ہیں  ۔

 (۹) … اور جو خیال عادات و شہوات کے تخیل سے  پیدا ہو اسے  ’’لمم   ‘‘  کہتے ہیں  ۔

            مذکورہ تمام خیالات کو خواطر کہا جاتا ہے اس لئے کہ یہ نفس کے ارادے سے  پیدا ہوتے ہیں   یا حسد کی وجہ سے  شیطان کی جانب سے  آتے ہیں   یا فرشتہ انہیں   القا کرتا ہے۔

خیالات کی تقسیم: 

        دل میں   اثر انداز ہونے والے اور خزانۂ غیب سے  پیدا ہونے والے مذکورہ خیالات کی چھ قسمیں   ہیں  ۔ ان میں   سے  تین قابلِ معافی اور تین قابلِ مواخذہ ہیں  ۔ چنانچہ دل میں   سب سے  پہلے ’’ہمت و ارادہ ‘‘  پیدا ہوتا ہے یعنی جس کا اظہار نفس میں   کسی شے کے وسوسے  سے  ہوتا ہے اور بندہ بجلی کی طرح اسے  محسوس کر لیتا ہے۔

        اب اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کر کے اس خیال کو ہٹا دے تو وہ ختم ہو جاتا ہے اور اگر غفلت کی وجہ سے  چھوڑ دے تو وہی خیال ’’خطرہ ‘‘  یعنی کھٹکا بن جاتا ہے اور یہی وہ خیال ہے جسے  شیطان بندے کے سامنے مزین کر کے پیش کرتا ہے۔ پس اگر بندہ اس کھٹکے کی فوراً نفی کر دے تو وہ ختم ہو جاتا ہے اور اگر اس کی جانب متوجہ ہو تو وہی خیال قوی ہو کر ’’وسوسہ ‘‘  بن جاتا ہے اور یہی وسوسہ درحقیقت نفس کی شیطان سے  بات چیت کا نام ہے،   پھر نفس شیطانی کلام کو توجہ سے  سننے لگتا ہے ۔ اگر بندہ اللہعَزَّ وَجَلَّکا ذکر کر کے وسوسہ کی نفی کر دے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور نفس دوبارہ فرمانبردار بن جاتا ہے۔ پس یہ تینوں   صورتیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے  قابلِ معافی ہیں   اور ان کی وجہ سے  بندے کا مواخذہ نہ ہو گا۔

            اگر بندہ نفس کو شیطان کی باتوں   میں   مگن کر دے اور وہ توجہ سے  شیطان کی باتیں   سن کر واپس لوٹنے میں   تاخیر کر دے تو یہی باہمی گفتگو قوی ہو کر ’’وسوسہ ‘‘  کی صورت اختیار کر لیتی ہے،   جو بعد میں   ’’نیت ‘‘  بن جاتی ہے۔ اگر بندےنے اس نیت کو کسی اچھی نیت سے  بدل دیا اور توبہ کر لی تو ٹھیک ہے ورنہ وہی نیت قوت پکڑ کر ’’عقد ‘‘  بن جائے گی اور اگر اب بھی اسنے اس عقد کو توبہ کے ذریعے کھول دیا تو صحیح ہے ورنہ یہی عقد طاقتور ہو کر ’’عزم ‘‘  کی صورت اختیار کر لے گا جسے  قصد بھی کہتے ہیں  ۔

            دل کے یہ تین اعمال ایسے  ہیں   جن کی وجہ سے  بندے کا مواخذہ اور پوچھ گچھ ہو گی۔ الغرض اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عزم کے بعد بھی اس خیال کا تدارک کر دیا تو بھی بہتر ہے ورنہ وہی عزم طلب و کوشش بن جائے گا۔

            جب عمل اعضاء و جوارح پر غیب و ملکوت کے خزانوں   سے  ظاہر ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعمال ملک و شہادت کے خزانوں   میں   شمار ہونے لگتے ہیں  ۔ پھر یہ اعمال نیکی و برائی



[1]    ۔ القضاء والقدر للبیھقی، باب ذکر البیان ان اللہ عزوجل    الخ، الحدیث: ۹، ج۱، ص۱۲باختصارٍ

                                                جامع الترمذی، ابواب القدر، باب ما جاء فی الشقاء و السعادۃ، الحدیث: ۲۱۳۵، ص۱۸۶۵ مفھوماً

 



Total Pages: 332

Go To