Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)    جو شخص دنیا میں   اپنی عقل کے ساتھ معلق ہو وہ توحید کو یقین کے بغیر اپنے ساتھ نہیں   رکھ سکتا۔ نیز فرماتے ہیں   کہ میرے خیال میں   یہ وہی ایمان ہے جس کے متعلق کہا جائے گا: ’’جس کے دل میں   مثقال بھر ایمان ہو اسے  آگ سے  نکال لاؤ۔ ‘‘  ([1] )

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ جو شخص  (خود کوئی کوشش نہ کرے اور غیر اللہ پر تکیہ کرتے ہوئے)  یہ گمان رکھے کہ وہ غیراللہ کی مدد سے  بارگاہِ خداوندی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اور جو اپنے نفس سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت پر مدد طلب کرے اسے  اس کے نفس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

مخلوق پر پڑے حجاب اور ان کے ثمرات: 

            مخلوق پر تین قسم کے حجاب پڑے ہیں  ،   ان میں   سے  بعض،   بعض سے  کثیف اور موٹے ہیں  : پہلا حجاب در پیش اسباب اور واسطوں   کا دوسرا اپنی جانب کھینچنے والی شہوتوں   کا اور تیسرا ایسی عادتوں   کا جو بار بار صادر ہوں  ۔

            اسباب بندوں   کو اپنے پاس روک لیتے ہیں   اور شہوتیں   انہیں   اپنی جانب کھینچتی ہیں   اور عادتیں   انہیں   بار بار انہی امور کی جانب لوٹا دیتی ہیں  ۔ ان حجابات میں   سے  بعض بعض سے  شدید ہیں   اور ان میں   سے  جو بھی دل میں   ظاہر ہوتا ہے شیطان کا ٹھکانا بن جاتا ہے۔ پھر اس ٹھکانے میں   وسعت پیدا ہوتی رہتی ہے اور جگہ کی وسعت کے اعتبار سے  شیطان دل پر غلبہ پا لیتا ہے۔

            شیطان کی تزیین سے  نفس قوی ہوتا ہے،   پھر نفس اسے  جھوٹی امیدوں   کے دھوکے میں   مبتلا کر دیتا ہے،   اس طرح وہ بندے کا مالک بن جاتا ہے اور جب وہ بندے کا مالک بن جاتا ہے تو بندہ اس کا غلام اور قیدی ہو کر رہ جاتا ہے اور نفس خواہش کے ذریعے حاکمِ مطلق بن جاتا ہے۔ اس کے بعد شیطان بندے کو گمراہی و سرکشی کی بنا پر اپنے جال میں   پھانس لیتا ہے اور بندے کی اولاد اور اس کے اموال میں   معنوی شرکت کے ذریعے اس پر غالب آ جاتا ہے۔ لہٰذا بندہ ان معاملات میں   مصروف ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  غافل ہو جاتا ہے اور شیطان اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر تک بھلا دیتا ہے۔ شیطان کی یہی وہ سنگت اور ہم نشینی ہے جس کی مذمت اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   بیان کی ہے: 

وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا (۳۸)  (پ۵،  النسآء:  ۳۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور جس کا مصاحب  (ساتھی و مشیر)  شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔

            یہ معاملہ شیطانی وسوسوں   اور عزم و ہمت کے بعد پیدا ہونے والے خیالات سے  بالاتر ہے،   یعنی شیطان دل پر وسوسوں   کے ذریعے یلغار کرتا ہے اور بندے کے خیالات کو مزین کر کے پیش کرتا ہے اور اس کو امیدوں   اور تمناؤں   سے  بہلاتا ہے،   اس کے لئے توبہ کی امیدوں   اور تمناؤں   کو اس قدر وسعت دیتا ہے کہ بندے پر معصیت آسان ہو جاتی ہے،   اس کے بعد اس سے  مغفرت کا وعدہ کرتا ہے یہاں   تک کہ بندہ گناہ پر جری ہو جاتا ہے اور یہی وہ دھوکے اور فریب کا وعدہ ہے جس کے بعد ہلاکت و بربادی بندے کا مقدر بن جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان سے  توبہ کا وعدہ کرتا ہے اور انہیں   مغفرت کی امیدیں   دلاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا (۱۲۰)  (پ۵،  النسآء:  ۱۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور شیطان انہیں   وعدے نہیں   دیتا مگر فریب کے۔

            یہ ساری صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بندہ شیطانی خیال کی تصدیق کرتا ہے اور اپنی نفسانی خواہش کے سبب مقامِ بُعد پر رہتے ہوئے اس کی پیروی کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کے اظہار اور اس کی مشیت کے نفاذ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم منکشف ہوتا ہے۔ یعنی یہ اس کی آزمائش کے اسباب ہیں   اور شیطان بھی امتحان کا ایک ذریعہ و سبب ہی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (۲۰)  (پ۲۲،  سبأ:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بے شک  ابلیس نے انہیں   اپنا گمان سچ کر دکھایا تو وہ اس کے پیچھے ہولئے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا۔

            پھر اپنے علم کے ساتھ اس بات کو مزید پختہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ (پ۲۲،  سبأ:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور شیطان کا ان پر کچھ قابو نہ تھا۔

            مطلب یہ ہے کہ شیطان اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قوت و طاقت اور مشیت کی وجہ سے  بندوں   پر غالب نہیں   آ سکتا۔

علم الٰہی : 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے :

اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّؕ- (پ۲۲،  سبأ:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مگر اس لئے کہ ہم دکھادیں   کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے  شک میں   ہے۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   ’’ہم دکھا دیں   ‘‘  سے  مراد یہ ہے کہ ہم اسے  آزمائیں   اور دیکھیں  ۔ ایک قول کے مطابق مراد یہ ہے کہ ہم وہ بات ظاہر کر دیں   جس پر سزا و جزا کا بدلہ دیا جائے گا اور ایک قول کے مطابق یہاں   مراد ہے کہ ہم آزمائیں   اور واضح کر دیں  ۔ ایک قول ہے کہ یہاں   مراد ہے کہ ہم مومنین کو یہ بات سکھا دیں   اور وہ ان کے لئے واضح ہو



[1]    ۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب تفاضل اھل الایمان فی الاعمال، الحدیث: ۲۲، ص۳



Total Pages: 332

Go To