Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(3)  وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ-  (پ۱۱،  ایونس:  ۱۰۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اگر تجھے اللہ  کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں   اس کے سوا اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں  ۔ 

            پس جب ہدایت دینے والا ہی بھٹکانے والا ہو تو پھر ہدایت کون دے سکتا ہے؟ چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا:

فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ (پ۱۴،  النحل :  ۳۷)                                        تر جمعہ ٔ کنز الایمان: توبےشک اللہ ہدایت نہیں   دیتا

جسے  گمراہ کرے۔

            شانِ خداوندی یہ ہے کہ کوئی بھی اس شخص کو ہدایت نہیں   دے سکتا جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّگمراہ کر دے اور جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے علم کے مطابق گمراہ کر دے اسے  اب کوئی ہدایت کیسے  دے سکتا ہے؟ اسی لئے حرفِ آخر کے طور پر ارشاد فرمایا: ’’تو بے شک  اللہ  ہدایت نہیں   دیتا جسے  گمراہ کرے۔ ‘‘ 

            الغرض عطا کرنے والا ہی روکنے والا ہو تو پھر عطا کون کرے گا؟ چنانچہ اگر ہر قسم کی خیر وبھلائی بندے کے دل میں   ہو تب بھی وہ اس بات پر قادر نہیں   کہ اپنے دل کے اس بیش قیمت خزانے سے  ذرہ بھر اپنے دل تک پہنچا سکے اور نہ ہی وہ اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ رائی کے دانے کے برابر اپنے دل کو کوئی نفع پہنچا سکے کیونکہ اس کا دل اگرچہ اسی کا ایک عضو ہے مگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خزانہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس خزانے میں   جو کچھ ہے بندہ نہیں   جانتا اور نہ ہی اس میں   جو کچھ ہے اس سے  وہ آگاہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جاہل و گمراہ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ (۷۸)  (پ۱۶،  مریم:  ۷۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمٰن کے پاس کوئی قرار  (عہد) رکھا ہے۔

            لہٰذا یہ کیسے  ہو سکتا ہے کہ بندہ دل کے خزانے کا مالک بن کر اپنی مرضی و منشا سے  اس میں   تصرف کرنے لگے؟ چنانچہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح اس طرح بیان کی:  (سُبْحَانَ مُصَرِّفِ الْقُلُوْب) یعنی دلوں   کو پھیرنے والا پاک ہے۔ ([1])

          اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سید البشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  خطاب فرماتے ہوئے حکم دیا کہ اعلان کر دیں  :

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ- (پ۹،  الاعراف:  ۱۸۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  تم فرماؤ میں   اپنی جان کے بھلے بُرے کا خود مختار نہیں   مگر جواللہ  چاہے۔

            اس کے بعد ارشاد فرمایا:

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا (۲۱)  (پ۲۹،  الجن:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ میں   تمہارے کسی بُرے بھلے کا مالک نہیں  ۔

            پھر یہ ارشاد فرمایا:

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ﳔ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ (۲۲)  (پ۲۹،  الجن:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ ہر گز مجھے اللہ  سے  کوئی نہ بچائے گا اور ہر گز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤں   گا۔

بارگاہِ الٰہی تک رسائی: 

        جب مالک عزیزو جبار ہو اور ہر شے اس کے دست ِ قدرت میں   ہو تو اس کے خزانوں   تک رسائی کسی قوت سے  حاصل کی جا سکتی ہے نہ ہی کسی حیلہ سے ۔ اس کی بارگاہ تک رسائی کا راستہ صرف صدق و اخلاص اور عاجزی وانکساری ہے۔ لہٰذا جو شخص ظاہری بصارت سے  محروم یعنی اندھا ہو وہ عالم ظاہر کی کوئی شے نہیں   دیکھ سکتا اور اسی طرح جو باطنی بصیرت سے  محروم ہو یعنی اس کے دل پر حجاب ہو تو وہ عالم غیب میں   سے  کچھ نہیں   دیکھ سکتا۔ پس وہ عدمِ یقین کی وجہ سے  مشاہدہ کے وقت اندھا تھا اور اس کے بعد حجت و حجاب کے وقوع کی وجہ سے  عقلی اشیاءکے ذریعے اسے  مشاہدہ حاصل ہوا اور اگر وہ اصحابِ بصیرت سے  ہوتا تو شے کی حرکت ِ غیبیہ میں   غورو فکر کرتا کہ کس طرح حرکت جسم میں   غائب ہوتی ہے اور اس سے  متحرک جسم کا ظہور ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی حکمت سے  متحرک جسم کو ظاہر فرما دیا مگر حرکت کو مخفی رکھا جس طرح مصنوعات کو ظاہر فرمایا مگر فنِ صنعت کو مخفی رکھا۔ پس اسی طرح اس صنعت کا خالق،   سب سے  پہلا صانع اور صاحبِ حکمت،   حاکمِ اعلیٰ و اغلب اس حرکت سے  بڑھ کر غیب ہے جسے  اسنے مخفی رکھا جس کا سبب قدرت کی لطافتیں   ہیں  ۔ پس بندہ اس عقلی شے کا مشاہدہ کرتا ہے جو ان دونوں   سے  زیادہ واضح اور اس کے لئے زیادہ ظاہر ہو اور اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ وہ شے اس کی عقل میں   آنے والی ہے اور اس کی پہنچ میں   ہے اور جو اس سے  غائب ہے عدمِ یقین کی وجہ سے  اس سے  اندھا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا وہ ان دونوں   باتوں   کی وجہ سے  شاہد کے لئے حرکت و سکون کا دعویٰ کر دیتا ہے اور یہ دعویٰ اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا مشاہدہ کرنے سے  حجاب زدہ کر دیتا ہے۔ موحد،   توحید کی شہادت کے سبب مشاہدہ کرتا ہے تو حق پا لیتا ہے اور جب اس کے لئے نورِ یقین کے باعث عالم غیب ظاہر ہوتا ہے تو وہ بے مثل یقین والوں   میں   سے  ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کسی عارف کا قول ہے کہ جس نے توحید کے معاملہ میں   عقل کی جانب دیکھا تو اس کی توحید اسے  آگ سے  بچا نہ پائے گی۔ ([2])

 



[1]     الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم۴۱۳۲،زینب بنت جحش،ج۸، ص۸۰

[2]    ۔ تاریخ مدینہ دمشق، الرقم۲۱۱۱ذوالنون بن ابراھیم، ج۱۷، ص۴۳۷



Total Pages: 332

Go To