Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مستحق ٹھہرتا ہے کہ ان تجلیات کے مشاہدے کے ذریعے مقامِ معرفت پر فائز ہو جاتا ہے اور اس کے لئے انس و محبت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

خیر و شر کا ظہور اور اس کے واسطے و ذرائع: 

            بندے یقین میں   اپنے مراتب کی بلندی اور قوت کے مطابق اور استقامت میں   اپنی حیثیت کے مطابق ان معانی کا مشاہدہ کرنے میں   مختلف ہوتے ہیں   مگر خیر و بھلائی کے معانی کے اصول اور ان کے واسطے و ذرائع وہی ہیں   یعنی فرشتے کا الہام،   روح کا القا،   ایمان کی کتب اور اس کی دوسری فروعات میں   انوار کی جگمگاہٹ،   فرض یا مستحب امور کا علم اور مباح امور کا جاننا وغیرہ۔ جبکہ شر کے معانی کے اصول مذکورہ اصولوں   کی اضداد ہیں   یعنی ان کے واسطے و ذرائع نفس وشیطان اور ان کے اسباب شہوت و خواہشِ نفس ہیں  ۔ یہ سب جہالت کا مظہر ہیں  ،   حجاب کا باعث بنتے ہیں   اور سزا کی جانب لے جاتے ہیں  ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب خزانۂ روح سے  خیر و بھلائی کے اظہار کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے  حرکت دیتا ہے جس سے  دل میں   ایک نور روشن ہو کر اثر انداز ہونے لگتا ہے،   پس فرشتہ دل کی طرف متوجہ ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیدا کردہ اس خیال کو دیکھ لیتا ہے تو اس پر دل کا مقام و مرتبہ ظاہر ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ اس پر غالب آ جاتا ہے۔ شیطانی افعال خزانۂ شر یعنی نفس سے  نمودار ہوتے ہیں  ۔ فرشتہ کی جبلت میں   ہدایت شامل ہے اور طبیعت میں   طاعت کی محبت۔ شیطان کی جبلت میں   گمراہی ہے اور طبیعت میں   معصیت کی محبت۔ لہٰذا فرشتہ الہام کرتا ہے اور اس کے خیالات کا دل میں   اثر انداز ہونا کافی اہمیت رکھتا ہے ،   وہ اپنے القا کئے گئے خیالات کو عمل کے ذریعے پختہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور بندے کے لئے انہیں   خوب آراستہ کر کے ان پر عمل کرنے کے لئے ابھارتا ہے۔ اسے  ہی تقویٰ اور رشد و ہدایت کا الہام کہتے ہیں  ۔

 شیطان جس طرح نفس کی جانب نگاہیں   گاڑے رہتا ہے اسی طرح فرشتہ یقین پر نظریں   جمائے رہتا ہے،   فرشتے کے باعث بندہ یقین کا مشاہدہ کرتا ہے جس سے  اس کی عقل مطمئن ہو جاتی ہے اور مشاہدۂ یقین سے  پرسکون ہو جاتی ہے،   اب عقل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اِذن اور اس کی تائید سے  فرشتے کی سنگت اختیار کر لیتی ہے جس طرح کہ وہ پہلے نفس کی معیت میں   مطمئن تھی،   عقل کے اطمینان کی وجہ سے  شرح صدر ہوتا ہے جس سے  علم کے دلائل ظاہر ہوتے ہیں  ۔ جب ایمان کی صفائی کی بنا پر یقین کا غلبہ قوی ہو جاتا ہے اور نورِ یقین میں   خواہشِ نفس کی ظلمت غائب ہوتی ہے تو نورِ ایمان کی شمع کے ظاہر ہونے کی وجہ سے  شہوت کے شعلے بجھ جاتے ہیں   اور جب حیا کی زینت سے  ایمان مزین ہوتا ہے تو شہوت کے خاتمے سے  صفاتِ نفس کمزور پڑ جاتی ہیں   اور نفس کی کمزوری سے  دل قوی ہو جاتا ہے۔ قوتِ یقین اور علم کے دلائل کے ظہور کے باعث ایمان میں   زیادتی ہوتی ہے۔ ایمان کی زیادتی اور حیا کے لبادے کے باعث ہدایت غالب آتی ہے تو غلبۂ حق کی وجہ سے  طاعت ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ     کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (۲۱)  (پ۱۲،  یوسف:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اوراللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں   جانتے۔

 خیالات کی ایک اَور نوع کا بیان

        بعض اوقات فرشتے اور شیطان کی جانب سے  آنے والے دونوں   خیال مختلف ہوتے ہیں   اور خیر وشر کے اس الہام و وسوسہ میں   بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔

خیالِ خیر و شر کی تقدیم و تاخیر اور ان کے اثرات وکیفیات: 

            بعض اوقات شر کی پیروی کرنے والا شیطانی وسوسہ دل میں   پیدا ہوتا ہے اور اس کے بعد فرشتے کی جانب سے  القا ہوتا ہے جس کا مقصود  (شر کے خلاف)  بندے کی مدد کرنا،   اسے  خیر پر ثابت قدم رکھنا اور اس کے پَرْوَرْدگار  عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  کرم کی نوید دینا ہوتا ہے،   فرشتے کا یہ القا بندے کو شر پر عمل کرنے سے  روکتا ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ پہلے خیال کو نہ مانے اور صرف دوسرے خیال کی پیروی کرے۔             بعض اوقات فرشتے کی جانب سے  خیر کی بجا آوری کا خیال دل میں   پہلے آتا ہے جس کے بعد شیطانی وسوسہ پیدا ہوتا ہے جو اس پر عمل کرنے سے  روکتا ہے اور اس میں   تاخیر پیدا کر کے دور کر دیتا ہے،   در حقیقت اس شیطانی وسوسہ کا ایک سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  بندے کا امتحان لینا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ بندہ کیسے  اس خیال کی پیروی کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ شیطان بندے سے  حسد کرتا ہے،   لہٰذا بندے پر لازم ہے کہ وہ پہلے خیال کی پیروی کرے اور دوسرے خیال کو جھٹک دے۔

            بعض اوقات فرشتے کی جانب سے  خیر کا الہام اور برائی کا شیطانی وسوسہ انتہائی دقیق ہوتا ہے اور ان میں   تفاوت پیدا ہو جاتا ہے،   جس کی چند صورتیں   ہیں  ۔ مثلاً: ٭ رغبت دنیا کے قوی ہونے کی وجہ سے  خیالِ خیر کمزور پڑ جاتا ہے۔٭شہوت و خواہشِ نفسانیہ کے قوی ہونے کی وجہ سے  خیالِ شر قوی ہو جاتا ہے اور٭کبھی ان دونوں   قسم کے خیالوں   میں   کمی وبیشی اور تقدیم و تاخیر پائی جاتی ہے۔

            اس کا سبب ان کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ارادے اور احکام میں   تفاوت ہونا اور مشیت کے ساتھ قائم غرائبِ احکام اور قدرت کی تبدیلی کا پایا جانا ہے کیونکہ وہ جب چاہے خزانۂ خیر میں   خزانۂ شر رکھ دے اور جب اپنے کسی محبوب بندے کے لئے پسند کرے تو خزانۂ شر میں   خزانۂ خیر رکھ دے تا کہ وہ اس کے ما سوا سے  سکون پائے نہ ہی جو کچھ اسنے اس پر ظاہر کیا ہے اس کے سبب ناز و نخرے دکھائے۔

        جب عارف اس بات کا مشاہدہ کر لیتا ہے تو کبھی بھی خیر و بھلائی کے اعمال کا قطعی ہونا خیال نہیں   کرتا اور نہ ہی کبھی اس پر اِتراتا ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس خفیہ تدبیر سے  ڈرتا رہتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس پر جو خزائنِ خیر ظاہر فرمائے ہیں   انہیں   شر کے خزانوں   میں   تبدیل کر دے اور جو شر کے خزانے اس پر ظاہر ہیں   ان سے  مایوس نہیں   ہوتا کیونکہ اسے  امید ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّشر کے خزانوں   کو خیر کے خزانوں   میں   بدل دے گا۔ لہٰذا وہ اسی امید و خوف کی کیفیت میں  رہتا ہے۔ ان کیفیات کا ادراک رحیم و جبارعَزَّ وَجَلَّکی تعلیم سے  انوار کی صفائی،   گہری ذہانت و فطانت،   فہم کی لطافت اور علوم کی باریک بینی کے بغیر نہیں   ہو سکتا۔ لہٰذا خیالِ شر کے بعد جو خیالِ خیر بندے کے دل میں   پیدا ہوتا ہے وہ اسے  برائی پر عمل کرنے سے  روکتا ہے اور یہی اس کے ہاں   پسندیدہ اور تلافی کرنے والا ہے۔ نیز یہ ایک ایسا واعظ ہے جو ہر لمحہ دل میں   عمل پیرا رہتا ہے اور ایک ایسا تنبیہ کرنے والا ہے جو عقل کی تائید



Total Pages: 332

Go To