Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            مذکورہ امورِ دنیا کی اصل یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّدل کو الٹ پلٹ کر کے آزماتا ہے،   یہی وجہ ہے کہ اسنے نفس،   روح اور موت و حیات کو پیدا کیا اور زمین پر موجود تمام اشیاءکو اس کی زینت بنا دیا تا کہ ان میں   زہد کے ذریعے سب سے  بہتر عمل ظاہر فرمائے اور دیکھے کہ تم اس پر کیسے  عمل کرتے ہو۔ بندہ نفس کی ٹال مٹول اور شیطان کے غلبے کی وجہ سے  ہلاکت اور بعد ودوری کی اتھاہ گہرائی میں جھانک رہا ہوتا ہے کہ اچانک اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  اس میں   گرنے سے  محفوظ رکھنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو ابتلا کے وقت اس کے دل پر نظرِ کرم فرماتا ہے،   جس کے سبب نفس اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  عطا کردہ نورِ ایمان سے  مقامِ ہدایت پر فائز ہو جاتا ہے۔پھر وہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   التجا سے  خوش ہوتا ہے،   اس کی پناہ طلب کرتے ہوئے اس پر ہی بھروسا کرتا ہے اور اس کے لئے خلوص کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس مقام پر جب بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کا اظہار کرتا ہے تو وہی اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور جس وقت وہ اپنا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کر

 دیتا ہے تو وہ اسے  شیطان کے مکر و فریب سے  بھی محفوظ کر دیتا ہے اور جس صورت میں   بندہ شیطان سے  بچنے کی کوشش کے باوجود اس کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہو تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے چھٹکارے کا راستہ پیدا فرما کر نجات عطا فرماتا ہے۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّدل پر ایسی نظرِ کرم فرماتا ہے کہ نفس کی آگ ٹھنڈی ہو جاتی ہے،   ہمت و ارادہ مٹ جاتا ہے،   شیطان اپنے بسیرے کے ختم ہو جانے کی وجہ سے  پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے  اس کے غلبہ کی شدت بھی ختم ہو جاتی ہے،   دل سراجِ منیر کے نور سے  مؤثر ہو کر صاف ہو جاتا ہے اور غالب قوت والےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی قوت سے  شیطانی گرفت سے  آزادی پا لیتا ہے،   پس بندہ دل کی صفائی کی وجہ سے  اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّکی جانب دیکھتا ہے تو رَبِّ ذُو الجلال کی عظمت کا خوف اس کے دل میں   پیدا ہو جاتا ہے اور وہ گناہوں   سے  ڈر جاتا ہے اور ان سے  راہِ فرار اختیار کر کے بخشش چاہنے لگتا ہے،   توبہ کرتا ہے اور متقین کی علامات کا مظہر بن جاتا ہے۔

دل کے عقل کی جانب متوجہ ہونے کے ثمرات: 

            اگر کسی بندے کے برائی میں   مبتلا ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے اس بندے کی ہلاکت کا ارادہ فرما لے تو دل نفسانی خواہش کے ارادے کے بعد عقل کی جانب دیکھتا ہے،   عقل نفس کی جانب رجوع کرتی ہے اور نفس اسے  دھوکے میں   مبتلا کر دیتا ہے جس سے  اس کے لئے گناہ پر عمل کرنا آسان ہو جاتا۔ پس عقل نفس کے دھوکے و اتباع میں   مطمئن و پرسکون ہو جاتی ہے،   سینہ بھی عقل کے سکون کی وجہ سے  نفسانی خواہش کی خاطر کھل جاتا ہے اور اس طرح سینے کے کھلنے اور وسیع ہونے کی بنا پر دل میں   خواہشِ نفس خوب پھیل جاتی ہے اور شیطان کا غلبہ مکان کی وسعت کی وجہ سے  مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی آرائش و زیبائش،   دھوکا و فریب،   آرزوؤں  ،   امیدوں   اور وعدوں   کے ساتھ دل کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور خوبصورت اور پُرفریب باتیں   دل میں   ڈالتا ہے جس سے  ایمان کا غلبہ مزید کمزور پڑ جاتا ہے جس کا سبب شیطان کا دل پر غالب آ جانا اور نورِ یقین کا مخفی ہونا ہے۔ اس وقت شہوت کے قوی ہونے کی وجہ سے  خواہشِ نفس غالب آ کر شہوتِ علم و بیان کو خاکستر کر دیتی ہے اور حیا مفقود ہو جاتی ہے،   ایمان شہوت کے پردے میں   چھپ جاتا ہے اور نفسانی خواہش کے غلبہ اور حیا کے اٹھ جانے کی وجہ سے  معصیت ظاہر ہو جاتی ہے۔

            پس یہ دو باتیں   ہیں   یعنی خیر و شر کا ظہور اور طاعت و معصیت۔ یہ باتیں   مذکورہ اسباب کی وجہ سے  پلک جھپکنے میں   پائی جا سکتی ہیں   اس طرح کہ بندے کے تمام اجزا اور جوڑاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ارادے سے  ایک ہی جزو بن جائیں   جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کوئی ارادہ فرماتا ہے تو اس کی مشیت پر اس کی قدرت غالب آ کر بجلی کی سی تیزی سے  اس ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیتی ہے۔ چنانچہ،   

            فرمان باری تعالیٰ ہے: 

كُنْ فَیَكُوْنُ (۵۹)  (پ۳،  اٰل عمران:  ۵۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔

خیر و بھلائی کے تین اصول: 

            اگراللہ عَزَّ وَجَلَّخزائنِ ملکوت میں   سے  خیر کے اظہار اور تقویٰ کے الہام کا ارادہ فرما لے تو اپنے مخفی لطف و کرم کے ساتھ روح کو حرکت دیتا ہے اور وہ اس کے امر سے  متحرک ہو جاتی ہے،   اس کی قدرت کی جلالت ظاہر ہوتی ہے تو اس کے جوہر سے  نور کی ایک شمع فروزاں   ہوتی ہے جو دل میں   بلند ہمت کو منور کرتی ہے۔

            خیر و بھلائی کا ارادہ تین معانی و اصول میں   سے  کسی ایک کے ساتھ پایا جاتا ہے،   البتہ! اس کی فروعات کا شمار نہیں   کیا جاسکتا،   اس لئے کہ ہر بندے کی ہمت خیر و بھلائی میں   اس کے علم اور مقام کی انتہا کے مطابق ہوتی ہے:

 (۱) … ہر اس امر کی جانب جلدی کی جائے جو فرض ہو یا مستحب کیونکہ فضیلت بندے کی حالت کے عمل سے  ہوتی ہے۔

 (۲) … ایسے  علم کے حصول میں   جلدی کرے جو اس کے لئے باعث ِ فطانت ہو اور ملک یا ملکوت کی جانب سے  اس پر مکاشفۂ غیب کا مظہر ہو۔

 (۳) … ایسے  مباح کاموں   میں   مصروف رہے جو نفع بخش ہوں   اور جن میں   اسے  فائدہ ہو اور نفس راحت پائے یا ان مباح کاموں   کا نفع دوسروں   کے لئے ہو یا ان کاموں   میں   افکار سے  نجات وراحت پائے کیونکہ اس کا دل افکار کے سمندر میں   غوطہ زن ہوتا ہے جو مصائب برداشت کرنے کا اور بھاری بوجھ سے  تخفیف کا سبب بن چکا ہے۔

            بندے کا ان اصولوں   کے موافق ہونااللہ عَزَّ وَجَلَّکے اختیار اور حکمت کی وجہ سے  ہے،   نیز ان سب میں   اس کی رضا مضمر ہے اور بندے کا ان پر عمل کرنا بہتر ہے اور ان میں   بعض بعض سے  افضل ہیں  ۔  خیر و شر کے یہی اصول ہیں  ،   یہ سب روحانی اور شیطانی خیالات کے درمیان اور تقویٰ اور فسق وفجور کے الہام کے درمیان فرق کرنے والے ہیں  ۔ یعنی نیت اور وسوسہ کے درمیان فرق کرتے ہیں   جو اختیار و اختبار کا محل ہیں  ۔ بعض اوقات یہ معانی ایسے  مکاشفات پر مبنی ہوتے ہیں   جو بندے کے لئے انعام و اکرام کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں  ،   بندہ ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب دیکھتا ہے اور اس کے عطا کردہ وجدان سے  اس کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے،   اس صورت میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے  ایسے  عرفان کا



Total Pages: 332

Go To