Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        یہ سب خیالات نفس کو پیدا کرنے اور اسے  درست فرمانے والے اور دلوں   کی کمی پوری کرنے اور انہیں   بدلنے والے اللہعَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  الہام اور القا کی حیثیت رکھتے ہیں   اور اس کی حکمت و عدل کا نتیجہ ہیں  ،   جسے  وہ عطا فرمانا چاہے اور جسے  محبوب بنا لے اس پر اس کا یہ خاص فضل و کرم ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-  (پ۸،  الانعام:  ۱۱۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں  ۔

        مراد یہ ہے کہ آپ کے پَرْوَرْدگارعَزَّ وَجَلَّکی بات ہدایت کے ذریعے پوری ہو گئی جو اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے لئے ایک سچ کی حیثیت رکھتی ہے،   یعنی جس اجر و ثواب کا اسنے وعدہ فرمایا تھا انہیں   عطا کر دیا اور اس کے دشمنوں   پر گمراہی کے ذریعے بطورِ عدل اس کا یہ وعدہ بھی پورا ہو گیا کہ وہ انہیں   سزا دے گا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ (۲۳)  (پ۱۷،  الانبیآء:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس سے  نہیں   پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے  سوال ہوگا۔

            الغرض یہ خیالات اس کے امر کی اطاعت کرنے والے لشکر ہیں  ،   حالانکہ وہ جبار،   عزیز اور قہار مالک عَزَّ وَجَلَّہر قسم کی اشیاءکی آمیزش سے  پاک ہے،   تمام اشیاءاس کی مشیت اور قدرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں  ،   اسی کی قدرت اور ارادہ نافذ ہے،   اس کی حکمت اس کے افعال کی مظہر ہے۔ جب وہ کسی شے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے  صرف یہی کہتا ہےـ: کُن“ یعنی اس کی مخفی قدرت کی مدد سے  وجود کا لباس پہن لے تو وہ شے اس کی حکمت کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر موجود شے کا روپ دھار لیتی ہے۔

            اللہ رب العزت ہر شے پر قادر ہے،   اسی کے دست ِ قدرت میں   ہر شے کی بادشاہی ہے اور وہ ہر معاملے میں   حکمت رکھنے والا ہے اور بندہ ضعیف و عاجز اور اس کی حکمت سے  جاہل اور کسی شے پر قادر نہیں  ۔ اسباب سے  اس کی آزمائش کی گئی اور اس پر حجاب ڈال دیا گیا اور اسے  سزا و جزا کے ذریعے احکام کا محل بنا دیا گیا۔ یقیناً اسباب آزمائش کے واسطے ہیں   اور بندہ ان آزمائشوں   کا محل ہے ۔اللہعَزَّ وَجَلَّجو اوّل ہے،   وہی آزمانے والا،   ارادہ کرنے والا،   پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمان ہے:

 (1)  وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (۶۱)  (پ۲۷،  الواقعۃ:  ۶۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور تمہاری صورتیں   وہ کردیں   جس کی تمہیں   خبر نہیں  ۔

 (2)  وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ- (پ۹،  الانفال:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اس لئے کہ مسلمانوں   کو اس سے  اچھا انعام عطا فرمائے۔

            البتہ بندہ گواہی صرف اسی معاملے کی دیتا ہے جس کا اسے  مشاہدہ کرایا جاتا ہے،   اس طرح مشاہدہ میں   بندوں   کی حالتیں   مختلف ہو جاتی ہیں   اور ان پر صرف وہی معاملہ ظاہر ہوتا ہے جو ظاہر کیا جاتا ہے اور جو حقیقت میں   مراد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے  حالات میں   بندے دلائل میں   اختلاف کرنے لگتے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            اللہعَزَّ وَجَلَّجب غیب کے خزانوں   میں   سے  کوئی خزانہ ظاہر فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنی قدرت کی لطافت سے  نفس کو حرکت دیتا ہے جس سے  وہ اس کا اذن پا کر متحرک ہو جاتا ہے اور اگر اس کی حرکت کے باعث اس کے جوہر سے  ظلمت پیدا ہو تو دل میں   ایک برا ارادہ لکھ دیا جاتا ہے،   شیطان ہر لمحہ ٹکٹکی باندھے اسی انتظار میں   رہتا ہے کیونکہ دل اور نفوس اس کے سامنے بکھرے و پھیلے ہوتے ہیں   اور وہ دل کی جانب دیکھتا رہتا ہے اور جب اس میں   ایک ایسا عمل پاتا ہے جس سے  بندے کی آزمائش کی جا رہی ہو تو وہ دل میں   ظلمت کے مؤثر ہونے کا باعث بننے والے ارادے کی وجہ سے  دل پر غالب آ جاتا ہے۔

ہمت و ارادہ کی مختلف صورتیں  : 

            ہمت و ارادہ کی تین صورتیں   اصل ہیں   اور اس کی فروعات کا کوئی شمار نہیں   کیونکہ ہر بندے کا خیال اور ارادہ اس کی خواہشات کے اعتبار سے  ہوتا ہے:

 (۱) … ارادہ حصولِ لذت میں   جلدی کرنے والی نفسانی خواہش پر مبنی ہوتا ہے۔

 (۲) … ارادہ ایسی امیدوں   اور آرزوئوں   پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کی فطری جہالت کا نتیجہ ہوتی ہیں  ۔

 (۳) … ارادہ ان حرکات و سکنات کے دعویٰ کا ثمرہ ہوتا ہے جو عقل کی آفت اور دل کی محبت کا باعث ہوتی ہیں  ۔             مذکورہ تینوں   ارادوں   میں   سے  جو ارادہ بھی دل میں   پیدا ہوتا ہے وہ نفس کے وسوسے  اور شیطان کی موجودگی پر دلالت کرتا ہے اور اسی کی جانب منسوب ہوتا ہے اور اسے  مذموم کہا گیا ہے۔ ان تینوں   ارادوں   میں   سے  کوئی بھی ان تین اصولوں   کے بغیر واقع نہیں   ہو سکتا: جہالت،   غفلت اور دنیا کی فالتو اور فضول اشیاءکی طلب اور یہ سب لایعنی اور دنیاوی اشیاءاور اس کے اعمال کی جانب منسوب ہیں  ۔

٭اگر مذکورہ دنیاوی فضولیات میں  سے  کچھ مباح ہوں   تو افضل یہ ہے کہ نفس اور شیطان سے  مذکورہ امور کی بجا آوری میں   مجاہدہ کیا جائے اور ظاہری اعضاء کو ان کی جانب متوجہ ہونے سے  روکا جائے۔

٭اگر یہ تینوں   کسی حرام کام کے متعلق ہوں   تو بندے پر فرض ہے کہ اپنے اعضاء و جوارح کو ان کی بجاآوری سے  روکے کیونکہ اگر اسنے اپنے دل کو ان امور کی یاد میں   مگن کر دیا اور اپنے قدموں   کو ان کے حصول میں   چلایا تو یہی امور اس کے دل اور یقین کے درمیان حجاب بن جائیں   گے۔

٭اگر یہ دنیاوی فضولیات کسی مباح کام میں   واقع ہوں   تو بندے کے لئے فضیلت اس امر میں   ہے کہ وہ اپنے دل سے  انہیں   جھٹک دے تا کہ اس کا دل غفلت کا محل نہ بن سکے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل و کرم: 

 



Total Pages: 332

Go To