Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            لہٰذا حقیقی علم،   تقویٰ و یقین کا نام ہے اور یہی علمِ معرفت بھی ہے جو مقربین کے ساتھ خاص ہے،  اللہ

عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   آیات و نشانیاں   عطا فرما کر بیان و دلیل کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: 

بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَۚ- (پ۶،  المآئدۃ:  ۴۴)  

تر جمۂ کنز الایمان: کہ ان سے  کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے۔

            پس یہ خیالاتِ یقین دل میں   ان واسطوں   سے  ظاہر ہوتے ہیں   جو زمین میں  اللہعَزَّ وَجَلَّکے خزانے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ لِلّٰهِ خَزَآىٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ (۷)  (پ۲۸،  المنافقون:  ۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہ ہی کے لئے ہیں   آسمانوں   اور زمین کے خزانے مگر منافقوں   کو سمجھ نہیں  ۔

            ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍفقہ دل کی صفت ہے نہ کہ زبان کی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان  (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘- (پ۹،  الاعراف:  ۱۷۹))   ([1]) کی تفسیر میں   فقہ کو فہم قرار دیا ہے۔ ([2])

نفس و روح کی تخلیق اور ان کا میلان: 

        یقین،   روح اور فرشتے کے خیالات اللہعَزَّ وَجَلَّکے خزانے ہیں   اور عقل،   نفس اور شیطان کے خیالات زمین کے خزانے ہیں  ۔ جیسا کہ منقول ہے کہ نفس مٹی سے  پیدا کیا گیا ہے اور مٹی ہی کی جانب مائل ہوتا ہے اور روح ملکوت سے  پیدا ہوئی ہے جو بلندی کی جانب اٹھ کر راحت پاتی ہے۔

خیالات کی مختلف صورتیں   اور ان کے واسطے و اسباب: 

        دل ملکوتی خزانوں میں سے  ایک خزانہ ہے جو آئینہ کی مثل ہے،   جب غیب کے خزانوں   میں   سے  منتخب کردہ خیالات کا ظہور ہوتا ہے تو یہ دل میں   روشن ہوتے ہیں   اور دل ان کی تاثیر سے  چمک اٹھتے ہیں  ۔

٭… بعض خیالات دل کی سماعت پر مؤثر ہو کر اس کی فہم کا باعث بنتے ہیں  ۔

٭…بعض دل کی بصارت پر واقع ہو کر اس کی بصیرت کا باعث بنتے ہیں  ،   اسے  مشاہدہ بھی کہتے ہیں  ۔

٭… بعض دل کی زبان پر اثر انداز ہو کر اس کا کلام بن جاتے ہیں  ۔ اسے  ذوق کہتے ہیں  ۔

 ٭… بعض خیالات دل کی سونگھنے کی حس میں   وقوع پذیر ہوتے ہیں   تو علم بن جاتے ہیں   جسے  فکر بھی کہتے ہیں   اور یہی وہ عقل و دانش ہے جو فطری عقل سے  پیدا ہوتی ہے۔ البتہ یہ دل میں   بہت کم ٹھہرتی ہے مگر مشقت کے لحاظ سے  یہ بہت آسان ہے۔

٭… جو خیال دل کی زبان اور اس کی حس پر اثر انداز ہو کر اس کے تصفیہ کو چیرتے ہوئے براہِ راست سودائے قلب تک پہنچ جائے اسے  وجد کہتے ہیں   اور یہی مقامِ مشاہدہ کا حال ہے۔ چنانچہ، 

            مروی ہے کہ سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہعَزَّ وَجَلَّسے  یہ دعا مانگی: ’’اے اللہعَزَّ وَجَلَّ!میں   تجھ سے  ایسے  ایمان کا سوال کرتا ہوں   جو براہِ راست میرے دل میں   اتر جائے۔ ‘‘  ([3])

            عارفین فرماتے ہیں   کہ جب ایمان دل کے ظاہر میں   ہو تو بندہ آخرت اور دنیا دونوں   سے  محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ ایک مرتبہ اللہعَزَّ وَجَلَّکے ساتھ ہوتا ہے اور دوسری مرتبہ اپنے نفس کے ساتھ مگر جب ایمان دل کے باطن میں   داخل ہوتا ہے تو بندہ دنیا سے  نفرت کرنے لگتا ہے اور اپنی خواہشات چھوڑ دیتا ہے۔ ([4])

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ دل کے دو حصے ہیں  :  (۱) باطنی حصہ: اس میں   سماعت و بصارت ہوتی ہے،   اس حصے کو دل کا دل کہتے ہیں   اور  (۲)  ظاہری حصہ: اس میں   عقل ہوتی ہے۔ دل میں   عقل کی مثال ایسے  ہی ہے جیسے  آنکھ میں   دیکھنے کی صلاحیت ہے۔ عقل اس چمک اور روشنی کا نام ہے جو دل میں   ایک مخصوص مقام رکھتی ہے جیسا کہ آنکھ کی سیاہی میں   ایک مخصوص چمک ہوتی ہے۔

            یہ خیالات جب ہدایت دینے والے واسطوں   سے  متعلق ہوں   یعنی فرشتے اور روح سے  ان کا تعلق ہو تو ٭تقویٰ اور رشد وہدایت کا سبب ہوتے ہیں   ٭خیر کے خزانوں   سے  ہونے کے علاوہ رحمت کے حصول کا ذریعہ بھی بنتے ہیں٭بندے کے دل میں   نور اور پاکیزگی کی شمع فروزاں   کرتے ہیں اور ٭حفاظت پر مامور فرشتے یعنی ملائکۂ یمین بندے کو تھام کر نیکیوں   پر ثابت قدم رکھتے ہیں  ۔ اگر یہ خیالات شیطان اور نفس کے واسطے کی پیداوار ہوں   تو ٭گمراہی اور فسق و فجور کا باعث بنتے ہیں٭اس وقت ان کا تعلق شر کے خزانوں   اور اسبابِ دنیا سے  ہوتا ہے ٭یہ دل میں   ظلمت اور بدبو پیدا کرتے ہیں اور ٭بائیں   جانب والے فرشتے ان خیالات کا ادراک کر کے انہیں   برائیوں   میں   لکھ لیتے ہیں  ۔

خیالات کا اصلی منبع: 

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان:وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں۔

[2]     تفسیر الخازن، پ ۹، الاعراف، تحت الایۃ ۱۷۹، ج ۲، ص۱۶۲

[3]     جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف الھمزۃ، الحدیث: ۴۰۴۰ ، ج ۲، ص ۷۹

[4]     تفسیر روح البیان، پ۱۱، یونس ، تحت الایۃ ۳۶ ، ج ۴، ص ۴۵



Total Pages: 332

Go To