Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سب سے  بڑا عالم: 

        کسی عارف کا قول ہے کہ میں  نے ایک ابدال سے  مشاہدۂ یقین کا مسئلہ دریافت کیا تو وہ بائیں   جانب متوجہ ہو کر مخاطب ہوئے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّتجھ پر رحم فرمائے! اس بارے میں   کیا کہتے ہو؟ ‘‘  اس کے بعد دائیں   جانب متوجہ ہو کر بولے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّتجھ پر رحم فرمائے! تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ ‘‘  اس کے بعد سر اپنے سینہ پر جھکا کر کہنے لگے:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے! تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ ‘‘  پھر مجھے ایک ایسا بہترین اور عجیب و غریب جواب دیا جو آج تک میں  نے نہ سنا تھا۔ میں  نے ان سے  عرض کی: ’’میں  نے آپ کو دائیں   بائیں   اور پھر اپنے سینے کی جانب جھکتے ہوئے دیکھا،   اس کی کیا وجہ ہے؟ ‘‘  بولے:  ’’ تم نے مجھ سے  ایک ایسا مسئلہ پوچھا جس کا جواب میرے پاس نہیں   تھا،   لہٰذا میں   بائیں   جانب والے فرشتے کی جانب متوجہ ہوا اور اس سے  اس کے متعلق پوچھا حالانکہ میرا گمان تھا کہ اسے  اس کے متعلق کچھ علم ہو گا،   تو اسنے جواب دیا کہ میں   نہیں   جانتا،   پھر میں  نے دائیں   جانب والے فرشتے سے  پوچھا جو اس سے  بڑھ کر عالم ہے تو اس نے بھی جواب دیا کہ مجھے بھی اس کے متعلق علم نہیں  ۔ اس کے بعد میں  نے اپنے دل کی جانب متوجہ ہو کر اس سے  پوچھا تو اسنے مجھے جو کچھ بتایا میں  نے تمہیں   بتا دیا اور اس طرح معلوم ہوا کہ دل ان دونوں   فرشتوں   سے  زیادہ بڑا عالم ہے۔ ([1])  

عالم ربانی کسے  کہتے ہیں  ؟

            حضرت سیِّدُنا ابو یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْمَجِیۡد  فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب زبانی یاد کر لینا علم نہیں   کیونکہ جب کسی کو قرآنِ کریم میں   سے  جو یاد کیا تھا بھول جائے تو وہ بھی ایک جاہل کی طرح ہو جاتا ہے اور علم تو یہ ہے کہ بندہ اپنے پَرْوَرْدگارعَزَّ وَجَلَّسے  بغیر درس کے اور بغیر حفظ کے جس وقت چاہے علم حاصل کرے۔ ([2])

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)    میری عمر کی قسم! ایسا بندہ کبھی بھی اپنا علم نہ بھلا پائے گا بلکہ وہ ہمیشہ اسے  یاد رکھے گا اور اسے  کسی کتاب کی بھی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ اسے  ہی عالم ربانی کہتے ہیں  ۔ یہ اوصاف اہلِ یقین میں   سے  ابدالوں   کے قلوب کے ہیں   کیونکہ وہ حفظ سے  اپنا تعلق مضبوط نہیں   کرتے بلکہ ہر دم حافظ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضر رہتے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں   محدثین اور متکلمین ہوں   گے اور عمر انہی میں   سے  ایک ہے۔ ‘‘  اس کے بعد حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےاس طرح پڑھا :  (وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیّ  وَّ لَا مُحَدِّث)  یہاں   محدث سے  مراد صدیقین ہیں  ۔ ([3])

            حضرات صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان سے  مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ توقف فرماتے یہاں   تک کہ انہیں   حق بات الہام کر دی جاتی کیونکہ وہ حسنِ توفیق کی وجہ سے  منزلِ قرب میں   تھے۔ ان کے سلوک کا یہ انداز ہی حقیقت میں   صحیح راستے کی دلیل ہے۔ چنانچہ خیالِ یقین جب کسی مومن کے دل پر وارد ہوتا ہے تو اس کا مشاہدہ اسے  اس خیال پر عمل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے خواہ وہ خیال دوسرے افراد پر مخفی ہی ہو۔ نیز وہ خیال اس بندۂ مومن پر اپنی دلیل کے صحیح ہونے کی وجہ سے  بیان و برہان کو محکم کر دیتا ہے خواہ دوسرے افراد التباس کا ہی شکار ہوں ۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے  اہلِ یقین کے اوصاف کے متعلق ارشاد فرمایا:

  (1)  قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (۱۱۸)   (پ۱،  البقرۃ:  ۱۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بے شک  ہم نے نشانیاں   کھول دیں   یقین والوں   کے لئے۔

 (2)  هٰذَا بَصَآىٕرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (۲۰)  (پ۲۵،  الجاثیۃ:  ۲۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ لوگوں   کی آنکھیں   کھولنا ہے اور ایمان والوں   کے لئے ہدایت و رحمت۔

        اہلِ تقویٰ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 (1)  وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ (۶)  (پ۱۱،  یونس:  ۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو کچھ اللہنے آسمانوں   اور زمین میں   پیدا کیا ان میں   نشانیاں   ہیں   ڈر والوں   کے لئے۔

 (2)  هٰذَا  بَیَانٌ  لِّلنَّاسِ   وَ  هُدًى  وَّ  مَوْعِظَةٌ  لِّلْمُتَّقِیْنَ (۱۳۸)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۳۸)  

تر جمعہ ٔ کنز لایمان:  یہ لوگوں   کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں   کو نصیحت ہے۔

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کی فضیلت کے متعلق ارشاد فرمایا:

 (1)  بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ- (پ۲۱،  العنکبوت:  ۴۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بلکہ وہ روشن آیتیں   ہیں   ان کے سینوں   میں   جن کو علم دیا گیا۔

 (2)  قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (۹۷)   (پ۷،  الانعام:  ۹۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم نے نشانیاں   مفصّل بیان کردیں   علم والوں   کے لئے۔

 



[1]     المرجع السابق

[2]     احیاء علوم الدین، شرح عجائب القلب، بیان شواھد الشرع، ج ۳،  ص ۳۰

[3]     المرجع السابق،ص۲۹



Total Pages: 332

Go To