Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

گویا اسنے سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی۔ چنانچہ یہ مفہوم اس حدیث ِ پاک میں   اس طرح بیان ہوا ہے۔

        شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ایمان اس شے کا نام ہے جو دل میں   پختہ ہو جائے اور عمل اس کی تصدیق کرے۔ ‘‘  ([1])

        پھر اہلِ ایمان کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’مومن اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نور سے  دیکھتا ہے۔ ‘‘   ([2])

        پس جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نور سے  دیکھے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  مقامِ بصیرت پر فائز ہو گا اور اس کا عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور کے باعث اطاعت شمار ہو گا۔ چنانچہ ایک عارف کا قول ہے کہ 20 سال سے  میرے دلنے میرے نفس کے پاس سکون نہیں   پایا اور میں  نے اسے  ایک پل کے لئے بھی اس کے پاس آرام نہیں   کرنے دیا۔

عرفانِ الٰہی: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  میں   سے  کسی سے  علمِ باطن کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں  نے فرمایا:  ’’یہ اللہ

 عَزَّ وَجَلَّکے  رازوں   میں   سے  ہے جو وہ اپنے پسندیدہ لوگوں   کے دلوں   میں   ڈالتا ہے اور جس پر کوئی فرشتہ و بشر آگاہ نہیں  ۔ ‘‘  ([3])

            ایک روایت میں   ہے کہ ایک شخص نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی: ’’مجھے علم الغرائب میں   سے  کچھ سکھائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے  پوچھا:  ’’کیا تونے اپنے پَرْوَرْدگار

عَزَّ وَجَلَّکا عرفان حاصل کر لیا ہے۔ ‘‘  ([4])

            پس حضور نبی ٔپاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات سے  آگاہ فرمایا کہ غرائب العلوم معرفت ِ الٰہیہ میں   سے  ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علوم کی اس اصل کے ساتھ تعلق استوار کرنے کا حکم دیا جس میں   غرائب موجود ہیں   اور ارشاد فرمایا: ’’قرآنِ کریم پڑھو اور اس کے غرائب تلاش کرو۔  ‘‘  

            مراد یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے معانی میں   تدبر کرو اور اس کے پوشیدہ مفاہیم سے  استنباط کرو۔ چنانچہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اپنے پَرْوَرْدگارعَزَّ وَجَلَّکی معرفت اس کے کلام سے  حاصل کی اور منقول ہے کہ بولو! خود ہی پہچان جاؤ گے۔ پس جسے  کلام کے معانی اور خطاب کی وجوہ کی معرفت حاصل ہو جائے اسے  اسمائے ذات کے علوم کے غرائب اور صفات کے معانی کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ جو اولین و آخرین کا علم حاصل کرنا چاہے اسے  چاہئے کہ وہ قرآنِ کریم میں   غورو فکر کیاکرے ۔ ([5])

            اہلِ معرفت میں   سے  کسی کا اللہعَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان: ( اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ  (پ۱۴،   النحل:  ۹۰) )   ([6]) کی تفسیر میں   قول ہے کہ عدل ہی قرآنِ کریم کا تدبر اور اس کی فہم ہے۔ جبکہ احسان اس فہم کے مشاہدے کا نام ہے۔

ایمان اور عدل کے ستون: 

        ایک روایت میں   ایمان کے مختلف حصوں   کے اوصاف منقول ہیں  : ایمان کے چار ستون ہیں  :

         (۱) … صبر  (۲) …یقین  (۳) … عدل اور  (۴) … جہاد۔

        اس کے بعد عدل کے متعلق ارشاد فرمایا کہ عدل کے بھی چار حصے ہیں  :  (۱) … فہم کی مہارت و باریک بینی  (۲) … علم کی روشنی  (۳) … بردباری کا خوشنما باغ اور  (۴) … حکمت کے راستے۔

        پس جسے  فہم حاصل ہو وہ مجمل علم کی تفسیر بیان کر سکتا ہے اور جسے  علم کی دولت نصیب ہو جائے وہ حکمت کے راستوں   کا عرفان حاصل کر لیتا ہے اور جو بردبار ہو وہ کبھی اپنے معاملہ میں   افراط کا شکار نہیں   ہوتا بلکہ لوگوں   میں   قابلِ

تعریف بن کر زندگی بسر کرتا ہے۔  ([7])

فرشتوں   کے قربِ الٰہی حاصل کرنے کا ایک انداز: 

        اہلِ مکاشفہ میں   سے  کسی کا قول ہے کہ میرے سامنے ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور مجھ سے  مطالبہ کیا کہ میں   اسے  اپنے مخفی مشاہدۂ توحید میں   سے  کچھ املا کراؤں   اور مزید کہنے لگا اگرچہ ہم آپ کا کوئی عمل لکھنے پر مامور نہیں  ،   لیکن ہم چاہتے ہیں   کہ آپ کا کوئی عمل لے کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   تقرب حاصل کریں  ۔ تو میں  نے اس سے  کہا:  ’’کیا یہ دونوں   فرشتے  (یعنی کراماً کاتبین)  فرائض لکھنے پر مامور نہیں   ہیں  ؟ ‘‘  وہ بولا کہ’’ہاں  ! کیوں   نہیں۔ ‘‘  تو میں  نے کہا:  ’’  (پھر تو)  ان کے لئے یہی کام کافی ہے۔ ‘‘  ([8])

 



[1]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الایمان و الرؤیا، باب ۵، الحدیث: ۸، ج۷، ص۲۱۷

[2]     فردوس الاخبار بما ثور الخطاب، الحدیث: ۶۸۳۷،ج ۲، ص۳۵۱

[3]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان شواھد الشرح ، ج ۳،  ص ۲۹

[4]     حلیۃ الاولیاء، مقدمۃ المصنف، الحدیث: ۳ ۵، ج۱، ص۵۶

[5]     الاتقان فی علوم القرآن، النوع الثامن والسبعون ، فی معرفۃ شروط المفسر، ج ۲ ، ص ۵۶۱

[6]     ترجمۂ کنز الایمان:بے شک  اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا۔

[7]     جمع الجوامع، مسند علی بن ابی طالب، الحدیث: ۷۰۱۱، ج ۱۳، ص ۲۶۹ بتغیر قلیل

[8]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان شواھد الشرع    الخ، ج ۸، ص ۴۸۵



Total Pages: 332

Go To