Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            یہ علمِ یقین کے حاصل ہونے اور قرب کے آئینے میں   ذات کے مشاہدہ کے بعد عین الیقین حاصل ہونے کی مثال ہے اور یہی اس کا نور ہے،   پس اس مقام پر بندہ ہر وقت وجدان اور حضوری میں   رہتا ہے۔ پھر خیالاتِ یقین کے علم کے پگھلنے کے بعد ان سے  بلند ہو کر مشاہدۂ صفات کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے اور ذاتِ حق کی تجلی کا نورِ خالص ہو جاتا ہے۔

حقیقت ِ احسان: 

        یہ مقامِ احسان ہے اور بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّاحسان کرنے والوں   کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ اپنے نفوس سے  مجاہدہ کرتے ہیں   اور انہیں   اموال کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو بیچ دیتے ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی ان پر احسان فرماتے ہوئے ان کے نفوس کو خرید لیتا ہے،   جیسا کہ اس نے ارشا دفرمایا:

 سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْؕ- (پ۸،  الانعام:  ۱۳۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: قریب ہے کہ اللہ اُنہیں   اُن کی باتوں   کا بدلہ دے گا۔

        کیونکہ وہ لوگ احسان کرنے والے ہیں   جس کا سبب حقیقی احسان کرنے والی ذات یعنی اللہعَزَّ وَجَلَّکا ان کے ساتھ ہونا ہے،   ان کے بلند و برتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سب سے  بلند و برتر ہستی یعنی خدائے وحدہٗ لا شریک ان کے ساتھ ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ  (پ۲۶،  محمد:  ۳۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

            اور سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  احسان کے متعلق دریافت کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’ (احسان یہ ہے کہ)  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس طرح عبادت کرے گویا اسے  دیکھ رہا ہے۔ ‘‘  ([1])

راہِ سلوک کی پہلی منزل: 

            بندہ ظاہری اعضاء کے ذریعے اعمال بجا لا کرعلمِ یقین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور ظاہری اعضاء کے اعمال سے  مراد وہ مجاہدہ ہے جس کا بوجھ بندے پر ڈالا گیا تو اسنے نہ صرف اسے  اٹھا لیا بلکہ اسے  اٹھانے میں   مشکلات بھی برداشت کیں   اور جس شے کی حفاظت کا اس سے  مطالبہ کیا گیا تھا اسنے اس کی حفاظت بھی کی۔ علمِ یقین روح و رضا اور راہِ ہدایت ہے۔

        اس سارے معاملے کی ابتدا یہ ہے کہ بندہ خالص توبہ کرنے کے بعد مریدین کے احوال اور نفس و شیطان سے  مجاہدہ کرنے والوں   میں   شمار ہوتا ہے۔ پھر خیالاتِ یقین کی جانب متوجہ ہوتا ہے جو مجاہدین کی میراث ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-         تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور جنہوں  نے ہماری راہ میں   کوشش کی

وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ (۶۹)   (پ۲۱،  العنکبوت:  ۶۹)

ضرور ہم انہیں   اپنے راستے دکھادیں   گے اور بیشک اللہ  نیکوں   کے ساتھ ہے۔

         اللہعَزَّ وَجَلَّکی راہ میں   کوشش کرنے والوں   سے  مراد وہ لوگ ہیں   جنہوں  نے اپنے جان ومال کے ساتھ شیطان سے  جہاد کیا کیونکہ اسنے انہیں   فقر سے  ڈرایا اور بری و فحش باتوں   کا حکم دیا مگر انہوں  نے صبر کیا اور بالآخر اس پر غالب آ گئے،   انہوں  نے اپنے جان و مال اللہ عَزَّ وَجَلَّکو بیچ دیئے،   خواہشات کی غلامی سے  آزاد ہو گئے اور حساب و کتاب کی ہولناکیوں   سے  بھی انہوں  نے چھٹکارا پا لیا۔ چنانچہ اس کے بعد گویا ارشاد فرمایا کہ ہم انہیں   ایسی راہ دکھائیں   گے جو علوم کے مکاشفات کی جانب لے جانے والی ہو گی،   انہیں   فہم و ادراک سے  عجیب تر کلام سنائیں   گے اور انہیں   اس قریب ترین راہ تک رسائی عطا کریں   گے جو انہیں   ان کے حسنِ مجاہدہ کی وجہ سے  ہماری بارگاہ تک لے آئے گی۔ پھر آخر میں   نیک لوگوں   کے ساتھ اپنی معیت کا مژدہ دیا،   جو مشاہدۂ صفات کا مقام ہے،   جس کی کوشش کرنے والے کو ابتدا میں   اُن نیک لوگوں   کی معیت میں   اس مقام کی توفیق دی جاتی ہے جو تائید الٰہی سے  اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے صبر کرتے ہیں   اور احسان کرنے والی ذات ہر اس دن کے اختتام تک ان کے ساتھ ہو گی جس دن میں   انہوں  نے اگلے دن کے لئے اپنی جانوں   پر احسان کیا۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علم کی دو قسمیں   ہیں  :  (ان میں   سے  ایک)  علم باطن ہے جو دل میں   ہوتا ہے اور یہی نفع مند ہے۔‘‘  ([2])

شرح صدر سے  مراد: 

            تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-  (پ۸،  الانعام:  ۱۲۵) )   ([3])  کے متعلق سوال کیا گیا کہ شرحِ صدر  (سینہ کے کھولنے)  سے  کیا مراد ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ’’اس سے  مراد توسع ہے۔ ‘‘  یعنی جب دل میں   نور ڈالا جاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے۔  ([4])

            عارفین میں   سے  کسی کا قول ہے کہ میرا دل ایسا ہے اگر میں  نے اس کی نافرمانی کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی۔ مراد یہ ہے کہ اس میں   سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت و فرمانبرداری کے کوئی بات نہیں   ڈالی جاتی اور سوائے حق کے کچھ بھی اس میں   قرار پذیر نہیں   رہتا،   پس وہ دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرستادہ  (قاصد)  بن چکا ہے کہ جب اسنے اس کی نافرمانی کی تو



[1]     صحیح بخاری، کتاب الایمان،باب سوال جبرائیل    الخ، الحدیث: ۵۰، ص۶

[2]     المصنف لا بن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، الحدیث: ۶۰، ج ۸، ص ۱۳۳ بدون باطن

[3]     ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے  اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔

[4]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب عجائب القلب، بیان شواھد الشرع، ج ۸،  ص ۴۷۵



Total Pages: 332

Go To