Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ان پر امورِ صادقہ منکشف ہوتے ہیں  ۔ ([1])

             اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ (۸۷)  (پ۵،  النسآء:  ۸۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ  سے  زیادہ کس کی بات سچی۔

            اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا (پ۹،  الانفال:  ۲۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اے ایمان والو اگراللہ سے  ڈرو گے تو تمہیں   وہ دے گا جس سے  حق کو باطل سے  جدا کرلو۔

            منقول ہے کہ یہاں   مراد ایسا نور ہے جس سے  شبہات کے درمیان فرق کر سکتے ہیں   اور ایسا یقین بھی مراد ہے جس سے  مشکلات میں   فرق کیا جا سکتا ہے۔      اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان بھی اسی قسم کا ہے:

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ (۲)   (پ۲۸،  الطلاق:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو اللہ سے  ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔

            منقول ہے کہ یہاں   ہر اس معاملے سے  نکلنے کا راستہ مراد ہے جو لوگوں   پر دشوار ہو اور اس کے بعد ارشاد فرمایا:

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-  (پ۲۸،  الطلاق:  ۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اسے  وہاں   سے  روزی دے گا جہاں   اس کا گمان نہ ہو۔

            مطلب یہ ہے کہ اسے  بغیر علم حاصل کئے علم کی دولت عطا فرماتا ہے اور ناتجربہ کاری کے باوجود یعنی درست مشاہدے اور واضح حق کے ذریعے اسے  سوجھ بوجھ عطا فرماتا ہے۔ اسی کی مثل مزید ارشاد فرمایا: 

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ (پ۲۱،  العنکبوت:  ۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جنہوں  نے ہماری راہ میں   کوشش کی ضرور ہم انہیں   اپنے راستے دکھادیں   گے۔

            منقول ہے کہ یہاں   اپنے علم پر عمل کرنے والے لوگ مراد ہیں  ۔  ([2])

اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق اور علم و حکمت : 

            ایک قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں   توفیق عطا فرمائے گا اور جو بات وہ ابھی تک نہیں   جانتے اس کی جانب بھی ان کی راہنمائی فرمائے گا یہاں   تک کہ وہ علم و حکمت رکھنے والے بن جائیں  ۔

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  فرماتے ہیں   کہ مذکورہ آیتِ مبارکہ ان عبادت گزاروں   کے متعلق نازل ہوئی جو لوگوں   سے  جدا ہو کر مستقل طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضر ہو جاتے ہیں   تو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کی جانب اپنے ایسے  بندے بھیجتا ہے جو انہیں   علم سکھاتے ہیں  ،   یا اللہ عَزَّ وَجَلَّبراہِ راست ان کے دلوں   پر توفیق اور عصمت الہام فرماتا ہے۔

           اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو اپنے علم پر عمل کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  اس شے کا بھی علم عطا فرما دیتا ہے جو وہ نہیں   جانتا۔ ([3])  اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  عمل کی توفیق عطا فرما دیتا ہے یہاں   تک کہ اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے اور جو اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے تو وہ اپنے علم میں   ہلاک ہو جاتا ہے اور اسے  اس پر عمل کی توفیق بھی نہیں   دی جاتی یہاں   تک کہ اس پر جہنم واجب ہو جاتا ہے۔ ‘‘  ([4])

حدیث ِ پاک کی وضاحت: 

            محبوبِ رَبِّ اَکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  ایسا علم عطا فرماتا ہے جو اس سے  پہلے وہ  نہ جانتا تھا ‘‘  سے  مراد وہ علومِ معرفت ہیں   جو اعمالِ قلوب کی میراث ہیں  ۔ مثلاً امتحان اور اختیار،   مصیبت اور خوشی،   سزا اور جزا کے درمیان فرق کرنا،   کمی وبیشی،   قبض و بسط،   حل و عقد اور جمع و تفرقہ وغیرہ علومِ عارفین کی معرفت حاصل ہونا اور یہ معرفت بندے کو وجدان اور قلوب کے صحیح ہونے کی وجہ سے  قرب،   مشاہدۂ رقیب کے ادب اور حسنِ فکر و دانش کے حصول کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ،   

 



[1]     المرجع السابق

[2]     تفسیر القرآن العظیم لا بن کثیر، پ ۲۱، العنکبوت، تحت الایۃ ۶۹، ج ۶،  ص ۲۶۶

[3]     مابعد عبارت کے متعلق حضرت سیِّدُنا محمد بن محمد حسینی زبیدیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اپنی شہرۂ آفاق کتاب’’اتحاف السادۃ المتقین‘‘ جو احیاء ُالْعُلوم کی شرح ہے میں فرماتے ہیں کہ صاحبِ قوت القلوب نے جو یہ روایت ذکر کی ہے یہ کسی تابعی کا قول ہے، جبکہ مصنف کا قول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بھی سابقہ حدیث ِ پاک کا بقیہ حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ عراقی نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’حدیث ِ پاک کا ابتدائی حصہ کتاب العلم میں بیان ہو چکا ہے جبکہ اس زائد حصہ کے حدیث ہونے کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا۔

[4]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب عجائب القلب، و بیان شواھد الشرح ، ج ۸، ص ۴۷۴ بتغیر قلیل



Total Pages: 332

Go To