Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ایک جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَۚ- (پ۱۷،  الانبیآء:  ۷۹)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا۔

            پس اللہعَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فہم کے ساتھ خاص فرمایا اور اس کے ذریعے انہیں   اس حکم اور علم پر فوقیت دی جس میں   ان کے والدِ محترم حضرت سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی شریک تھے،   لہٰذا وہ اپنے والد ِ ماجد سے  فتویٰ دینے میں   بڑھ گئے۔

یقین کے چار حصے: 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے  مروی ایک طویل حدیث ِ پاک میں   منقول ہے کہ یقین کے چار حصے ہیں  :  (۱)  ذہانت کی بصیرت  (۲)  حکمت کی تاویل  (۳)  عبرت کی نصیحت اور  (۴)  اَوَّلین کی سنت۔ جسے  فطانت کی بصیرت نصیب ہو وہ حکمت کی تاویل سے  بھی آگاہ ہوتا ہے اور جو حکمت کی تاویل سے  آگاہ ہو وہ عبرت کا بھی عارف ہوتا ہے اور جو عبرت کا عارف ہو وہ اَوَّلین میں   شمار ہوتا ہے۔ ([1])

اہلِ یقین مومنین کا مقام و مرتبہ: 

            اہلِ یقین سے  مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّکے باطنی احکام جاننے والے عارفین ہیں   جو خیالاتِ یقین کی تفصیل اور ان کے تقاضوں   کو اچھی طرح جانتے ہیں  ،   اس اعتبار سے  کہ انہوں  نے ان خیالاتِ یقین کی جائے ظہور کا مشاہدہ غیب میں   کر

 

رکھا ہوتا ہے اور اس لئے بھی کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نورِ ثاقب،   اس کے قرب اور اس کے نافذ حکم کی مدد سے  ان خیالات کے موجب سے  بھی اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں  ۔ چنانچہ ایک حدیث ِ پاک میں   ہے کہ ’’مومن کی فراست سے  بچو! بے شک  وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نور  (یعنی یقین)  سے  دیکھتا ہے۔ ‘‘  ([2])

            ایک روایت میں   پیکر ِعظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی فراست سے  بچو۔ ‘‘  ([3])

            گویا کہ یہ بعد والی حدیث ِ مبارکہ پہلی حدیثِ مبارکہ کی وضاحت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہ فرامینِ مبارکہ بھی اسی قسم کے ہیں  :

  (1)  اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ (۷۵)   (پ۱۴،  الحجر:  ۷۵)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  اس میں   نشانیاں   ہیں   فراست والوں   کے لئے۔

 (2)  قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (۱۱۸)  (پ۱،  البقرۃ:  ۱۱۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بے شک  ہم نے نشانیاں   کھول دیں   یقین والوں   کے لئے۔

        یہاں   بھی مراد نورِ یقین ہے۔

        حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ مومن باریک پردے کے پیچھے سے  غیب دیکھتا ہے اور اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم! ہر وہ بات حق ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کے دلوں   میں   ڈالتا ہے اور جو ان کی زبانوں   پر جاری فرماتا ہے۔ ([4])

        بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ مومن کے بعض گمان کہانت پر مبنی ہوتے ہیں  ۔ گویا کہ وہ گمان نافذ ہونے اور وقوع کے صحیح ہونے میں   جادو  (کی طرح)  ہوں ۔ ([5])

        بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا دست ِ قدرت حکماء کے مونہوں   پر ہوتا ہے اور وہ صرف وہی حق بات بولتے ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   عطا فرمائی ہوتی ہے۔ ([6])

 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  سے  یہ بھی منقول ہے کہ اگر آپ چاہیں   تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ

 عَزَّ وَجَلَّخاشعین کو اپنے بعض اسرار سے  آگاہ فرماتا ہے۔ ([7])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے لشکروں   کے امیروں   کے نام یہ خط لکھا کہ نصیحت کرنے والوں   سے  جو کچھ سنیں   اسے  یاد رکھا کریں   کیونکہ



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث: ۱۰، ج۱، ص ۲۴

[2]     جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الحجر، الحدیث :۳۱۲۷ ، ص ۱۹۶۸

[3]     جامع بیان العلم و فضلہ، باب اجتھاد الرأی علی الاصول، الحدیث: ۹۱۴، ۹۱۵، ص ۳۲۱

[4]     عیون الاخبار للدینوری، کتاب السلطان، الاصابۃ بالظن والرأی، ج۱، ص ۹۱ مختصراً

[5]     المرجع السابق، ص ۹۳۔ المؤمن بدلہ العاقل

[6]     الدرالمنثور، پ ۲۱، لقمان ، تحت الایۃ  ۱۳، ج ۶، ص ۵۱۶

[7]     فیض القدیر، تحت الحدیث: ۲۳۴۹، ج ۲ ،ص ۶۰۵



Total Pages: 332

Go To