Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

یہ دونوں   برابر ہیں   لیکن ان دونوں   کے ایمان میں   قرب و بلندی اور زیادتی و نقصان کے اعتبار سے  بہت فرق

 ہے،   جیسا کہ دس اور لاکھ کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ الغرض ایک مسلمان کا قلبی ایمان اہلِ یقین کے قلبی ایمان کا لاکھواں   حصہ ہوتا ہے۔

                 (ذیل میں   حقیقت ِ کمال اور نفسِ ایمان میں   مومنین کے درمیان جو تفاوت ہے اسے  واضح کرنے کے لئے چند مثالیں   مذکور ہیں  )  

 (1)  (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)  اس کی مثال ہم یوں   سمجھ سکتے ہیں   کہ کوئی آپسے  یہ کہے کہ فلاں   شخص میرے پاس موجود ہے۔ تو اس سے  آپ کو صرف یہ بات معلوم ہو گی کہ وہ شخص اس کے پاس موجود ہے مگر یہ یقینی علم نہیں   ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اسے  شبہ ہوا ہو یا اس وقت تو اس کے پاس ہو لیکن اب وہاں   سے  نکل چکا ہو اور اس وقت اس کے پاس موجود نہ ہو۔ یہ مثال ایک مسلمان کے ایمان کی طرح ہے کہ جس کے ایمان کا دارومدار خبر کے علم پر ہوتا ہے نہ کہ خبر پر۔ اس کے بعد اگر وہ یہ کہے کہ آپ خود میرے پاس آ کر اس شخص کی باتیں   پردے کے پیچھے چھپ کر سن لیں  ۔ اس طرح آپ کو یہ تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ واقعی اس کے پاس موجود ہے کیونکہ آپ نے اس کی باتیں   خود سن کر اس کی موجودگی پر استدلال کیا ہے۔ مگر یہ علم ابھی تک حقیقت پر مبنی نہیں   ہے کیونکہ آوازیں   ایک دوسرے سے  ملتی جلتی ہو سکتی ہیں   اور اگر وہ آپسے  یہ کہے کہ وہ میرے پاس نہ تھا بلکہ وہ تو کوئی دوسرا شخص تھا جس کی آواز اس سے  ملتی جلتی تھی تو اس احتمال کی وجہ سے  آپ شک میں   مبتلا ہو جائیں   گے اور آپ کے پاس کوئی ایسی پختہ ویقینی دلیل نہ ہو گی جس سے  اس کی اس بات کا رد کر سکیں   اور نہ ہی کسی آنکھنے اسے  دیکھا ہو گا جو اس کے قول کو جھٹلا سکے۔ یہ عام مومنین کے ایمان کی مثال ہے جو کہ خبر پر مبنی ہے اور اس میں   ایسا یقینی استدلال پایا جا رہا ہے جو ظن کے ساتھ ملا ہوا ہے مگر یہ عارفین کا مشاہدہ نہیں   ہے،   اس لئے کہ بسا اوقات عام مومنین پر تخیل اور شبہات آتے ہیں   تو وہ یقینی مشاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے  اس سے  اپنا بچاؤ نہیں   کر پاتے اور جب آپسے  کہا جائے کہ وہ میرے پاس ہے یا پھر آپ اس کی باتیں   سننے کے بعد اندر بھی داخل ہو جائیں   اور اسے  وہاں   بیٹھاہوا اپنی آنکھوں   سے  دیکھ لیں  ،   آپ کے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہ ہو تو اس صورت میں   جو علم حاصل ہو گا اسے  یقینی معرفت کہیں   گے اور یہی مقام اہلِ یقین کے مشاہدہ کا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں   ہر قسم کا شک و شبہ ختم ہو جاتا ہے اور علم کی خبر متحقق ہو جاتی ہے۔ یہ ان اہلِ یقین کے ایمان کی مثال ہے جس میں   عام مومنین کا ایمان بھی شامل ہے یعنی احتمال شدہ خبر کا

علم اور پردے کے پیچھے سے  مشتبہ آواز کی سماعت بھی اس ایمان میں   شامل ہے۔

            لفظ ِ ایمان مذکورہ تمام افراد پر بولا گیا ہے لیکن سب سے  پہلا شخص وہ ہے جسے  اس بات کا علم ہوا اور جس سے  کہا گیا تھا کہ وہ میرے پاس ہے تو اسنے اس بات کی تصدیق کی۔ دوسرا شخص وہ ہے جس نے سماعت سے  علم حاصل ہونے کے ساتھ استدلال بھی کیا لیکن مشاہدہ نہ کر سکا کہ اسے  علمِ قطعی حاصل ہوتا اور تیسرا وہ ہے جس نے آنکھوں   سے  دیکھ کر علم قطعی حاصل کیا اور تاجدارِ رسالت،  ماہِ نُبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اسی قسم کے ایمان میں   زیادتی کے متعلق ارشاد فرمایا:  ’’ خبر دیکھنے کی طرح نہیں   ہوتی۔ ‘‘    ([1])  اور ایک روایت میں   ہے کہ ’’خبر دینے والا دیکھنے والے کی طرح نہیں   ہوتا۔ ‘‘   ([2])

 (2) … اس کی مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ آپ دن کے وقت کسی شے کو دیکھ کر اسے  مکمل طور پر پہچان جائیں   اور نگاہوں   سے  اس کا ٹھکانا اتنی اچھی طرح جان لیں   جس میں   کوئی خطا و غلطی نہ ہو۔ پھر جب رات کے وقت اسی شے کی آپ کو ضرورت پیش آئے تو کھلی آنکھوں   کے باوجود اس کی جگہ نہ پہچان پائیں   بلکہ استدلال سے  اس کی جگہ پہچاننے کی کوشش کریں   اور حسنِ ظن رکھیں   کہ وہ اپنی حالت پر اسی جگہ موجود ہو گی یا بعض اوقات کسی ایسی مخصوص شے کی وجہ سے  اسے  پہچان لیا جاتا ہے جو اپنی جگہ سے  حرکت نہ کرتی ہو۔ اسی طرح دلائل اگرچہ غائب ہوتے ہیں   مگر مشاہدات کے ساتھ ان کا غائب ہونا ختم ہو جاتا ہے۔

 (3) … اسی مفہوم میں   یہ مثال بھی دی جا سکتی ہے کہ ایک شے کو چاند کی روشنی میں  دیکھیں   تو وہ دھندلی نظر آتی ہے یا کبھی نظر آتی ہے اور کبھی چھپ جاتی ہے لیکن سورج کی روشنی میں   اسے  دیکھیں   تو وہ شے اپنی اصلی حالت پر نظر آتی ہے۔ پس یہ نورِ یقین کو نورِ ایمان کے مشابہ قرار دینا ہے۔

 (4) … حقیقت ِ کمال اور نفسِ ایمان میں   مومنین کے درمیان جو تفاوت پایا جاتا ہے اس کی چوتھی مثال یہ ہے کہ چار رکعتی نماز باجماعت کھڑی ہو اور ایک شخص آ کر تکبیر ِ تحریمہ پا لے اور ایک دوسرا شخص آئے اور رکوع میں   جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے جبکہ ایک اور شخص آئے اور دوسری رکعت میں   شامل ہو،   اس کے بعد ایک تیسرا شخص آ کر تیسری

رکعت میں   شامل ہو اور پھر چوتھا شخص آ کر چوتھی رکعت میں   شامل ہو تو سب نے نماز ادا کر لی اور سبنے جماعت کا ثواب بھی پا لیا اور سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے  اجر و ثواب بھی پانے میں   کامیاب ہو گئے کہ ’’جس نے  (با جماعت)  نماز کی ایک بھی رکعت پالی اس نے ساری نمازپالی ۔ ‘‘  ([3]) مگر پہلی رکعت پانے والا شخص کمالِ صلاۃ اور حقیقت ِ صلاۃ میں   تیسری اور چوتھی رکعت پانے والے کی طرح نہیں   ہو سکتا اور نہ ہی جس شخص نے تکبیر ِ تحریمہ پا لی تھی وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو حالت ِ قیام میں   سے  کچھ بھی نہ پا سکا تھا حالانکہ دونوں   مدرک یعنی نماز کی رکعت پانے والے ہیں  ۔

            جس طرح حقیقت ِ کمال اور نفسِ ایمان میں   مومنین کے درمیان تفاوت پایا جاتا ہے اسی طرح کمالِ ایمان اور حقیقت ِ ایمان میں   بھی اہلِ ایمان برابر نہیں  ،   اگرچہ نام اور معنی کے اعتبار سے  ان میں   یکسانیت پائی جاتی ہے اور جس طرح یہاں   دنیا میں   ان کے درمیان فرق ہے اسی طرح آخرت میں   بھی ان کے درجات میں   تفاوت ہو گا۔ چنانچہ،   

            ایک حدیث ِ پاک میں   ہے کہ  (جب جنتی اور جہنمی اپنے اپنے ٹھکانوں   پر چلے جائیں   گے تو)  کہا جائے گا: ’’ان لوگوں   کو  (جہنم سے )  باہر نکال لاؤ جن کے دل میں   ایک مثقال یا نصف



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عباس، الحدیث: ۱۸۴۲، ج ۱، ص ۴۶۱

[2]     المعجم الاوسط ، الحدیث: ۶۹۸۶ ، ج ۵، ص ۱۷۹

[3]     صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ ، من ادرک من الصلاۃ رکعۃ ،الحدیث: ۵۸۰ ،ص ۴۷



Total Pages: 332

Go To