Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں  نے یہ جو چند باتیں   ذکر کی ہیں   یہ معرفتِ حدیث میں   اصول کا درجہ رکھتی ہیں   اور معرفتِ حدیث ایک ایسا علم ہے جو صرف عارفین ہی جانتے ہیں   اور یہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر وہ چلتے ہیں  ۔ مگر سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے بعد اب ایک ایسی قوم پیدا ہو چکی ہے جن کے پاس نہ تو کوئی خاص علم ہے اور نہ ہی ان کی علمی حالت قابل ذکر ہے بلکہ ان کا تو عبادت سے  بھی کوئی کام نہیں  ۔ انہوں  نے سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا راستہ چھوڑ کر اپنے نفوس کے بہلاوے کے لئے ایک ایسا علم بنا لیا ہے جس میں   نہ صرف خود مصروفِ عمل ہیں   بلکہ جو ان کی باتیں   سنتا ہے وہ بھی اس علم میں   مشغول ہو جاتا ہے۔ پس یہ لوگ کتابیں   لکھنے میں   مصروف ہیں   اور انہوں  نے اخبار و آثار کے نقل کرنے والوں   کے متعلق ان کے معلول ہونے کے بارے میں   کلام کرنا شروع کر دیا ہے اور ہر وقت وہ اس تلاش میں   رہتے ہیں   کہ ناقلینِ احادیث کی لغزشوں   کو جان سکیں  ۔ اس طرح انہوں  نے بدمذہبوں   کے لئے یہ راستہ فراہم کیا کہ جب وہ روایات میں   طعن دیکھیں   تو سنن کو ردّ کر دیں   اور رائے اور قیاس کو ترجیح دیں   اور جب لوگوں   کو بالخصوص اس زمانے میں   سنت سے  ہٹا ہوا پائیں   تو اپنے نظر و قیاس پر عمل کرنے پر رشک کریں  ۔ لہٰذا جان لیجئے کہ وہ تمام احادیثِ مبارکہ جو امورِ آخرت کی ترغیب دلائیں  ،   دنیا سے  کنارہ کشی اختیار کرنے پر آمادہ کریں  ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وعیدوں   سے  ڈرائیں   اور اعمال و اصحاب کے فضائل و مناقب کے بارے میں   مروی ہیں  ،   ہر حال میں   قبول کی جائیں   گی۔ خواہ مقطوع و مرسل ہی ہوں  ۔ ان سے  منہ پھیرا جا سکتا ہے نہ انہیں   ردّ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جن احادیثِ مبارکہ میں   قیامت کی ہولناکیوں  ،   اس کے زلزلوں   اور دوسری بڑی بڑی مصیبتوں   کا ذکر ہے،   انہیں   عقل کے پیمانے پر تولتے ہوئے ماننے سے  انکار نہ کیا جائے گا بلکہ انہیں   قبول کیا جائے گا۔ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا یہی طریقہ تھا۔ کیونکہ علم اسی بات پر دلالت کرتا ہے اور اصول بھی اسی بارے میں   مروی ہیں  ۔ چنانچہ مروی ہے کہ جسے  کتاب و سنت سے  کوئی فضیلت معلوم ہو اور وہ اس پر  (ثواب کی امید رکھتے ہوئے) عمل کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  اس پر عمل کا ثواب عطا فرماتا ہے اگرچہ ویسا نہ ہو جیسے  کہا گیا تھا۔ ([1])

مضامین و مفاہیم: 

قوت القلوب کے 48فصلوں   میں   بیان کردہ بے شمار مختلف قسم کے مضامین ہی اس کی انفرادیت کے لیے کافی ہیں   اگرچہ ان مضامین پر بعد کے اکثر بزرگانِ دیننے بھی کلام فرمایاہے۔ مثلاً حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَالی  (متوفی ۵۰۵ھ)  کی احیاء علوم الدین ہو یا شیخ شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۵۳۹ھ)  کی عوارف المعارف،   ہر ایک میں   قوت القلوب کا فیض نظر آتا ہے۔ لہٰذا آئیے قوت القلوب کے مضامین و مفاہیم پر ایک نظر ڈالتے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے سب سے  پہلے راہِ طریقت پر چلنے والوں   کی رہنمائی کے لیے ابتدائی آٹھ فصلوں   میں   قرآن و حدیث سے  مستنبط متفرق اوراد و وظائف ذکر کیے ہیں   جن پر اعتماد کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَالینے بھی انہیں   تقریباً بعینہ احیاء علوم الدین میں   نقل فرمایا ہے۔ اس کے بعد نویں   فصل میں   ایک سالک کو فرماتے ہیں   کہ وہ اپنے دن کا آغاز نمازِ فجر سے  کرے اور پھر دسویں   فصل میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اوقات کی پہچان کے حوالے سے  علم توقیت کے جو مدنی پھول نقل فرمائے ہیں   وہ اس بات کا ثبوت ہیں   کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک ماہر توقیت داں   ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ہیئت داں   بھی تھے۔ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 15ویں   فصل تک دن رات میں   پڑھے جانے والے مختلف نوافل اور دیگر سرانجام دی جانے والی عبادات کا تذکرہ فرمایا اور 16ویں   سے  لے کر 19 ویں   فصل تک صرف قرآن اور آدابِ قرآن سے  متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔ اگر کوئی حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے قرآن فہمی سے  متعلق علم کو جاننا چاہتا ہو تو اسے  چاہیے کہ قوت القلوب کی 17ویں   فصل کا ضرور مطالعہ کرے۔ 21ویں   فصل میں   جمعہ اور اس کے آداب اور 22ویں   میں   روزہ اور اس کے آداب وغیرہ درج ہیں  ۔

23ویں   سے  30ویں   فصل تک سالکینِ راہِ طریقت کی رہنمائی کے لیے نفس،   محاسبۂ نفس،   مراقبہ،   مشاہدہ اورمقاماتِ یقین و علاماتِ اہلِ یقین کے متعلق انتہائی مفید معلومات بیان کی گئی ہیں  ۔ 31ویں   فصل سے  ایک عام انسان کو علم اور علمائے حق کی نہ صرف پہچان ہوتی ہے بلکہ اس پر یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ علم باطن علم ظاہر سے  کیوں   افضل ہے۔ 32ویں   فصل تصوف کی جان ہے ،   اس فصل میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بالتفصیل مقاماتِ یقین مثلاً توبہ،   صبر،   شکر،   رجا،   خوف،   زہد،   توکل،   رضا اور محبت کے متعلق کلام کیا ہے۔ 33ویں   فصل میں   ارکانِ اسلام اور ان کے آداب و احکام ہیں  ۔ اس کے بعد 37ویں   فصل تک آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے علم کلام کی دقیق ابحاث کو آسان پیرائے میں   بیان کیا ہے تا کہ راہِ طریقت پر چلنے والے راہِ حق پر ثابت قدم رہیں   اور مسلک اہل سنت وجماعت پر کاربند رہتے ہوئے کبھی بھی بدمذہبوں   کے ہتھے نہ چڑھیں  ۔ 38ویں   فصل میں   نیت اور اس کے ثمرات کا تذکرہ ہے۔ 39ویں   اور 40ویں   میں   کھانا کھانے کے آداب ،   41ویں   میں   فقر کے فضائل و فرائض وغیرہ ،   42ویں   میں   سفر اور مسافر کے احکام،   43ویں   میں   امامت اور اس کے احکام،   44ویں   میں   اخوت و بھائی چارے کے احکام،   45ویں   میں   نکاح وغیرہ کے احکام،   46ویں   میں   حمام میں   جانے کے احکام،   47ویں   میں   تجارت اور تاجر کے احکام اور 48ویں   فصل میں   حلال و حرام وغیرہ کے احکام کا بیان ہے۔

قوت القلوب کی اہمیت: 

قُوتُ الْقُلُوب کی اہمیت و افادیت سے  اہل علم خوب آگاہ ہیں   انہیں   بتانے کی حاجت نہیں  ،   عام لوگوں   کے لیے یہی ایک مثال کافی ہے کہ آٹھویں   صدی ہجری کے ایک عظیم مؤرخ اور بزرگ صلاح الدين خليل بن ايبك بن عبد اللہ صفدي عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں   کہ میں  نے خانقاہِ سریاقوس کے شیخ المشائخ حضرت سیِّدُنا شیخ مجدد الدین اقصرائی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس قوت القلوب کا ایک نسخہ دیکھا،   اس کی مثل کوئی کتاب میں  نے آج تک نہ دیکھی تھی،   کاش! اگر میرے لیے اس کو خریدنا ممکن ہوتا تو میں   تین ہزار درہم کے بدلے بھی اسے  خرید لیتا مگر وہ کتاب اس خانقاہ کے نام پر وقف تھی۔

٭٭٭

 



[1]     جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف المیم، الحدیث:۲۱۵۹۰،ج۷ ،ص۱۲۴



Total Pages: 332

Go To