Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(1)  الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ (۱۰۱)  (پ۱۶،  الکھف:  ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کی آنکھوں   پر میری یاد سے  پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے۔  (2)  اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى (۳۵)   (پ۲۷،  النجم:  ۳۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے۔

        تدبر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اس کے محبوب اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  اس کا کلام سنتے ہیں  ،   اس کے ذکر سے  انہیں   مکاشفہ ہوتا ہے اور ان کی نگاہیں   ہر لمحہ اس کے غیب کی طرف دیکھتی رہتی ہیں  ۔ چنانچہ اس کی مثل کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ  (پ۱۲،  ھود:  ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: دونوں   فریق کا حال ایسا ہے جیسے  ایک اندھا اور بہرا ۔

        یعنی یہ ایسا گروہ ہے جو سیدھا راستہ چھوڑ کر متفرق راہیں   اختیار کرنے کی وجہ سے  راہِ حق سے  بھٹک چکا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا:

وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِؕ- (پ۱۲،  ھود:  ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور دوسرا دیکھتا اور سنتا۔

یعنی یہ ایسا گروہ ہے جو ہدایت یافتہ ہے اور راہِ مستقیم کی پیروی کرنے والا ہے۔ چنانچہ انکے متعلق مزید ارشاد فرمایا:

 (1)  مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ (۲۰)  (پ۱۲،  ھود:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے۔

 (2)  اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ (۳۷)  (پ۲۶،  ق:  ۳۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یا کان لگائے اور متوجہ ہو۔

 (3)  اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْؕ-هُوَ رَبُّكُمْ (پ۱۲،  ھود:  ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جبکہ اللہ    تمہاری گمراہی چاہے وہ تمہارا رب ہے۔

تقویٰ کی جگہ اور وہاں   لگی مہریں   کھولنے کا طریقہ: 

        سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دل کی اجمالی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’تقویٰ یہاں   ہے۔ ‘‘  اور اس کے ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے قلبِ اطہر کی جانب اشارہ فرمایا۔ ([1])

           اللہ عَزَّ وَجَلَّنے گناہوں   کے سبب جن دلوں   پر قفل لگا دیئے،   ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (۱۰۰)  (پ۹،  الاعراف:  ۱۰۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم چاہیں   تو انہیں   ان کے گناہوں   پر آفت پہنچائیں   اور ہم ان کے دلوں   پر مُہر کرتے ہیں   کہ وہ کچھ نہیں   سنتے۔

            دلوں   پر لگی ہوئی مہر کو تقویٰ کے ذریعے کھولنے کے متعلق ارشاد فرمایا:

  (1)  وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ- (پ۷،  المآئدۃ:  ۱۰۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اللہسے  ڈرو اور حکم سنو۔

  (2)  وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُؕ- (پ۳،  البقرۃ:  ۲۸۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہسے  ڈرو اور اللہتمہیں   سکھاتا ہے۔

دل کی نصیحتیں  : 

            سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّجس بندے سے  خیرو بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کے لئے ایک زجر و توبیخ کرنے والا اس کے نفس سے  اور ایک نصیحت کرنے والا اس کے دل سے  بنا دیتاہے۔ ‘‘   ([2])   اور ایک روایت میں   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس کے دل میں   کوئی نصیحت کرنے والا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  اس پر ایک محافظ مقرر ہوتا ہے۔ ‘‘  ([3])

             اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان: ( رَبَّنَاۤ  اِنَّنَا  سَمِعْنَا  مُنَادِیًا  یُّنَادِیْ  لِلْاِیْمَانِ  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۹۳))([4])

 



[1]     جمع الجوامع ، حرف المیم، الحدیث: ۲۳۵۳۰، ج ۷،  ص ۳۲۷

[2]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب عجائب القلب، بیان مجامع اوصاف القلب، ج ۸ ،ص ۴۱۷ بتغیر قلیل

[3]     الزھد للامام احمد بن حنبل ، بقیۃ زھد عیسٰی علیہ السلام، الحدیث: ۵۳۴،ص  ۱۳۵

                                                اتحاف السادۃ المتقین، کتاب عجائب القلب، بیان مجامع اوصاف القلب، ج ۸ ، ص ۴۱۷

[4]     ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے۔



Total Pages: 332

Go To