Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

خیالِ یقین: 

         (۶)  چھٹا خیال،   خیالِ یقین ہے اور یہ ایمان کی روح اور علم کی زیادتی کا سبب ہے اور ان دونوں    (یعنی ایمان کی روح اور علم کی زیادتی)  کا خیالِ یقین کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے اور یہ اسی سے  صادر ہوتے ہیں  ۔ خیالِ یقین ایک مخصوص خیال ہے اور صرف مرتبۂ شہدا وصدیقین پر فائز اہلِ یقین ہی اس کا ادراک کر پاتے ہیں  ۔ یہ خیال خواہ خفیف و دقیق ہی ہو صرف اور صرف حق پر مبنی ہوتا ہے اور اس خیال کی مراد کے مختار ہونے کی وجہ سے  ا س پر بغیر علمِ اختیاری کے اعتراض نہیں   کیا جا سکتا اگرچہ اس کے دلائل لطیف ہی کیوں   نہ ہوں   اور اس سے  استدلال کی صورت مخفی ہو۔ مگر یہ خیال اپنے مقصود ومراد پر مخفی نہیں   رہتا،   یہی وہ لوگ ہیں   جن کے اوصاف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ذکریٰ کے ساتھ بیان کئے ہیں  ۔ چنانچہ،   

            شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  اس کے متعلق عرض کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ  (پ۲۶،   ق:  ۳۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک اس میں   نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتا ہو۔

        یعنی جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو دوست بنایا اس کا دل محفوظ رہا۔

گناہ کا دل پر اثر ہوتا ہے: 

            تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نُبوت،   مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اس کے متعلق فرمانِ عالیشان ہے: ’’تیرے دل میں   جو شے کھٹکے اسے  چھوڑ دے۔ ‘‘  ([1])

ایک قول ہے کہ’’گناہ دلوں   کی چبھن ہیں  ۔ ‘‘  ([2]) مطلب یہ ہے کہ گناہ دلوں   پر اثر انداز ہو کر انہیں   ان کی رقت،   صفائی،   نرمی اور لطافت سے  جدا کر دیتے ہیں  ۔

علمِ باطن کی اہمیت و فضیلت: 

            ایک شخص  (یعنی حضرت سیِّدُنا وابصہ بن معبد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے جب پیکرِعظمت و شرافت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا جو کہ خیر و شر کی اصل ہیں   تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اپنے دل سے  پوچھو،   اگرچہ فتویٰ دینے والے تمہیں   فتویٰ دیں  ۔ ‘‘   ([3])

            مراد یہ ہے کہ فتویٰ دینے والے اپنے ظاہری علم کے مطابق رخصت اور تاویل کے معانی کا علم جانتے ہیں    (اور اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں  )  جبکہ تم ان سے  بہتر علم پر فائز ہو یعنی اپنے باطنی علم کے مطابق عزیمت اور تحقیق طلب کرنے والے ہو۔ اہلِ ظاہر اپنے ظاہری علم سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ظاہری احکام جانتے ہیں   حالانکہ ان کا ظاہری علم صرف اس علم کے جاننے والوں   پر حجت ہے،   جبکہ تمہارا دل فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان سے  بھی منور ہے،   جس کی روشنی میں   تم اپنے قلبی وباطنی علم کے ذریعے نہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے باطنی احکام دیکھتے ہو بلکہ زبان سے  ان کا اظہار بھی کرتے ہو اور تمہارا یہ قلبی وباطنی علم ہی ایمان کی حقیقت ہے اور باطنی علم رکھنے والے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے لئے منفعت کا باعث ہے۔

         اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان کے لائق یہی تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سائل کو کسی فقیہ سے  رجوع کرنے کا حکم دیتے۔ اس لئے کہ اگر علمِ باطن جو کہ علمِ فقہ کی حقیقت ہے نہ ہوتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اہلِ ظاہر کا فتویٰ چھوڑ کر اس کی جانب رجوع کرنے کا اپنے صحابی کو کبھی نہ فرماتے اور نہ ہی فتویٰ دینے والوں   کے برعکس دل کی جانب متوجہ ہونے کا فیصلہ فرماتے۔ پس باطنی علم ہی حقیقی علم ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے  فتویٰ دینے والوں   کے بر عکس قولِ فیصل قرار دیا اور اس طرح باطنی عالم استاذ العلماء بن جائے گا

کیونکہ علمائے ظاہر کی تقلید کرنے کی اس کے ہاں   کوئی گنجائش نہیں  ۔

نیکی کیا ہے؟

            سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ ذی شان ہے: ’’نیکی وہ ہے جس سے  دل مطمئن ہو اور نفس سکون محسوس کرے،   اگرچہ لوگ تمہیں   فتویٰ دیں   اور وہ تمہیں   فتویٰ دیں  ۔  ‘‘  

            پس یہ اس دل کا وصف ہے جسے  ذکر کے ذریعے مکاشفہ حاصل ہو اور اس نفس کی صفت ہے جسے  سکون کے ساتھ آرام و چین میسر ہو اور نیکی کی کیفیت ایسی ہے جیسا کہ صریح کلام میں   اور واضح خطاب کے دلائل میں   مومنین کے دلوں   کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 (1)  اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸)   (پ۱۳،  الرعد:  ۲۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہکی یاد سے  چین پاتے ہیں   سن لو اللہکی یاد ہی میں   دلوں   کا چین ہے۔

 (2)  هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْؕ- (پ۲۶،  الفتح:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں   کے دلوں   میں   اطمینان اتارا تاکہ انہیں   یقین پر یقین بڑھے۔

حجاب زدہ دلوں   کے اوصاف: 

         اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے دشمنوں   کے حجاب زدہ دلوں   کے جو اوصاف بیان کئے ہیں   وہ تدبر کے شاہد ہیں  ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

 



[1]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۸۷۴۸ ، ج ۹ ، ص ۱۴۹

[2]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۵۳۹، ج ۸،  ص ۱۱۷ مفھوماً

[3]     مسند ابی یعلی ، مسند وابصۃ بن معبد، الحدیث: ۱۵۸۳، ج ۲ ، ص ۱۰۵



Total Pages: 332

Go To