Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        پس جسم کے آلات اس کی ظاہری صفات ہیں   اور دل کے اعراض وہ باطنی معانی ہیں   جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی حکمت سے  پیدا فرمایا اور انہیں   اپنی مشیت کے مطابق یکسانیت عطا فرمائی اور ان کی تقویم کو پختہ کیا۔

        ان باطنی اوصاف میں   سب سے  پہلے نفس اور روح ہیں  ،   یہ دونوں   ایسی جگہوں   کی حیثیت رکھتے ہیں   جہاں   شیطان اور فرشتہ باہم ملاقات کرتے ہیں   اور یہی دونوں   بندے کے دل میں   فسق و فجور اور تقویٰ و طہارت کی باتیں  ڈالتے ہیں  ۔باطنی اوصاف کے دو مقصود ایسے  بھی ہیں   جو ان دونوں   مقامات یعنی عقل اور خواہش پر متمکن ہیں   اور ان پر حاکم کی مشیت کے دو حکم بھی نافذ ہوتے ہیں   یعنی توفیق اور عدمِ توفیق۔

        باطنی اوصاف میں   سے  ایک یہ بھی ہے کہ دل میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاص رحمت سے  دو قسم کے نور فروزاں   ہوتے ہیں   اور وہ علم اور ایمان ہیں  ۔ پس یہ دل کے آلات اور اس کے حواس و معانی ہیں  ۔ دل ان آلات کے درمیان ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اس کے لشکری ہیں   جو اس کی جانب رہنمائی کرتے ہیں  ۔ یا اس کی مثال ایک صاف و شفاف شیشے کی مانند ہے اور یہ آلات دل کے گرد نمایاں   ہیں  ،   پس جو شے اس میں   ظاہر ہو بندہ اسے  دیکھ لیتا ہے اور جب بھی اس میں   کوئی شے اثر انداز ہوتی ہے وہ اسے  پا لیتا ہے۔

خیالات کی چھ اقسام اور ان کی وضاحت: 

            دل میں   پیدا ہونے والے خیالات چھ قسم کے ہوتے ہیں   جو کہ دل کی حدود ہیں   اور اس کے بعد خزائنِ غیب اور ملکوتِ قدرت دل پر اثر انداز ہوتے ہیں  ،   یہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مضبوط لشکر اور اس کی واضح سلطنت کی علامت ہیں  ۔ جبکہ دل ملکوت کے خزانوں   میں   سے  ایک خزانہ ہے جس میں   مقلب القلوب عَزَّ وَجَلَّنے رغبتیں   اور خوف بطورِ ودیعت  (امانت)  رکھے ہیں   اور دل کے رفیقِ اعلیٰ کا اہل ہونے اور ملکوتِ ادنیٰ کا مالک ہونے کی وجہ سے  اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی منشا و مرضی کے مطابق عظمت و جبروت کے انوار جگمگا تے رہتے ہیں   ۔

            اس کی تفصیل یہ ہے:  (۱) … نفس اور  (۲) … شیطان کا خیال۔

            یہ دونوں   ایسے  خیال ہیں   جن سے  عام مومنین جدا نہیں   ہوتے ،   یہ دونوں   خیال مذموم ہیں   اور ان کے برے ہونے کا حکم لگایا گیا ہے،   ان خیالات کے پیدا ہونے کا سبب نفسانی خواہشات اور جہالت ہیں  ۔

         (۳) … روح اور  (۴) … فرشتے کا خیال۔

        یہ دونوں   خیال خواص مومنین سے  کبھی جدا نہیں   ہوتے اور یہ دونوں   خیال قابلِ تعریف ہوتے ہیں   اور ان کے پیدا ہونے کا سبب حق اور ایسی بات ہوتی ہے جس پر علم دلالت کرتا ہے۔

         (۵) … پانچواں   خیال،   خیالِ عقل ہے جو مذکورہ چاروں   خیالات کے درمیان ہوتا ہے،   یہ پہلے دو مذموم خیالات کے متعلق بھی ہو سکتا ہے،   اگر ایسا ہو تو یہ بندے کے خلاف اسے  عقل کی تمیز اور عقلی اشیاءکی تقسیم کا مرتبہ حاصل ہونے کی وجہ سے  حجت بن جائے گا،   کیونکہ بندہ اپنی نفسانی خواہش کی پیروی شہوت کے سبب کرتا ہے یا اس اختیار کے سبب کرتا ہے جو اس پر مشکل نہیں   تھا کیونکہ نہ تو اسے  روکا گیا اور نہ ہی اسے  مجبور کیا گیا۔ یہ خیال آخری دونوں   قابلِ تعریف خیالوں   کے ساتھ متصل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے،   اس صورت میں   یہ فرشتے کے لئے گواہ اور خیالِ روح کی تائید کرنے والا ہو گا اور بندے کو حسنِ نیت اور مقصود کے اچھے ہونے کی وجہ سے  اجر و ثواب دیا جائے گا۔

            خیالِ عقل کا کبھی تو نفس اور شیطان کے ساتھ ہونا اور کبھی روح اور فرشتے کے ساتھ ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حکمت پر مبنی ہے تا کہ بندہ عقل کے پائے جانے اور مشاہدہ و تمیز کے صحیح ہونے کے سبب خیر و شر کی پیروی کرے۔ پھر اس عمل کے انجام یعنی جزا و سزا کا اس کے حق میں   یا اس کے خلاف فیصلہ ہو اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی حکمت کے مبانی میں   جسم کو احکام کے اِجرااور مشیت کے نفاذ کا محل بنایا ہے۔ اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عقل کو خیر و شر کی سواری بنایا جو جسم میں   ان دونوں   کے ہمراہ جاری ہے کیونکہ جسم ہی تکلیف و تصرف کا مرکز اور اس تعریف کا سبب ہے جس کا مرجع وہ معانی و مفاہیم ہیں   جن کی بنا پر بندہ نعمتوں   کی لذت یا دردناک عذاب پاتا ہے۔ پس عقل کبھی غائب نہیں   ہوتی کہ بندہ مفقود العقل ہو جائے اور نہ ہی شہوت ختم ہوتی ہے کہ نفس ہی گم ہو کر رہ جائے،   کیونکہ اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حجت اور اس کے دلائل کو ضعیف و کمزور قرار دینا ہے اور اس لئے بھی کہ عقل حجت کی شاہد ہوتی ہے اور نفس میں   شہوت کا وجود مقامِ ابتلا و آزمائش ہے جبکہ دل میں   نیت کا ہونا حجت کا راستہ ہے اور یہی امر و نہی کی جزا کے لوٹنے کا اصل سبب ہے۔

        پس عقل میں   طبعی طور پر اشیاءمیں   تمیز کرنا اور جبلی طور پر کسی شے کو اچھا و بُرا قرار دینا شامل ہے جبکہ نفس کی فطرت میں   شہوت اور طبیعت میں   خواہش کی پیروی کرنا پایا جاتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا و بخشش میں   سے  دونوں   کا حصہ یہی ہے اور اسنے ان دونوں   کو خیر و شر کی راہ دکھا دی ہے،   دونوں   کو تقدیر میں   لکھ دیا ہے اور اسباب کے پلٹنے کو دونوں   میں   تقسیم کر دیا ہے۔ چنانچہ ہم نے اس کے جو احکام بیان کئے ہیں   ان کے متعلق بطورِ تکملہ یہ فرامینِ باری تعالیٰ پڑھئے:

 (1)  اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (۵۰)  (پ۱۶،  طٰہٰ:  ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی۔  

(2)  اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِؕ- (پ۸،  الاعراف :  ۳۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: انہیں   ان کے نصیب کا لکھا پہونچے گا۔

 (3) كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ (۴)  (پ۱۷،  الحج :  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے  گمراہ کردے گا اور اسے  عذابِ دوزخ کی راہ بتائے گا۔

 



Total Pages: 332

Go To