Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کہ اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ نہیں   دیکھ پاتا کہ شیطان کدھر سے  آ رہا ہے۔ ‘‘  ([1])

دلوں   کی اقسام اور ایمان و نفاق کی مثال: 

            سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دل کی اقسام سے  آگاہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’ بندۂ مومن کا دل صاف ہوتا ہے اور اس میں ایک ایسا چراغ ہے جو اسے  روشن رکھتا ہے۔ ‘‘  اور ایک روایت میں   ہے کہ سَیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’دلوں   کی چار اقسام ہیں  :

 (۱) … جس دل میں   چراغ روشن ہو،   وہ مومن کا دل ہوتا ہے۔

 (۲) … جو دل سیاہ اور اوندھا ہو،   کافر کا ہوتا ہے۔

 (۳) … جس دل پر غلاف چڑھا ہو اور اس کا منہ بندھا ہوا ہو منافق کا ہوتا ہے ۔

 (۴) … اور ایک دل وہ ہوتا ہے جس میں   ایمان اور نفاق کی آمیزش ہوتی ہے۔

            پس دل میں   ایمان کی مثال اس سبزی جیسی ہے جسے  اچھا پانی مزید زیادہ کر دے اور دل میں   نفاق کی مثال ایسی ہے جیسے  کوئی زخم ہو اور پیپ اسے  مزید خراب کر دے۔ لہٰذا ان دونوں   میں   سے  جس کا مادہ اس پر غالب ہو گا اس پر اسی کا حکم نافذ ہو گا۔ ‘‘  ([2])   اور ایک روایت میں   ہے کہ’’ اس پر دل کی جو قسم غالب ہو گی وہی اسے  اپنے ساتھ لے جائے گی۔ ‘‘   ([3])

ذکر کی اہمیت: 

         اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

 (1)  وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ (پ۶،  المآئدۃ:  ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اللہسے  بہتر کس کا  (حکم) ۔

        ذکر کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

 (2)  اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ (۲۰۱)   (پ۹،  الاعراف:  ۲۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بے شک  وہ جو ڈر والے ہیں   جب انہیں   کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں   اسی وقت ان کی آنکھیں   کھل جاتی ہیں  ۔

         اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات سے  آگاہ فرمایا ہے کہ دلوں   کی جِلا ذکر کے ذریعے ہوتی ہے اور اسی سے  دل میں   بصیرت آتی ہے،   ذکر کا دروازہ تقویٰ ہے جس کے سبب بندہ ذکر کرتا ہے اور تقویٰ آخرت کا دروازہ بھی ہے جیسا کہ خواہشِ نفس دنیا کا دروازہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ذکر کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ ذکر ہی تقویٰ کی چابی ہے۔ کیونکہ یہی بچنے کا سبب و

ذریعہ ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ (۱۷۱)   (پ۹،  الاعراف:  ۱۷۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یاد کرو جو اس میں   ہے کہ کہیں   تم پرہیزگار ہو۔

        تقویٰ کے متعلق مزید ارشاد فرمایا:

 (1)  كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ (۱۸۷)  (پ۲،  البقرۃ:  ۱۸۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہیوں   ہی بیان کرتا ہے لوگوں   سے  اپنی آیتیں   کہ کہیں   انہیں   پرہیزگاری ملے۔

 (2)  یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ (۶)  الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ (۷)  (پ۳۰،  الانفطار:  ۷،  ۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے آدمی تجھے کس چیزنے فریب دیا اپنے کرم والے ربّ سے ۔ جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا پھر ہموار فرمایا۔

 (3)  لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ (۴)  (پ۳۰،  التین:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔

 (4)  وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (۴۹)  (پ۲۷،  الذّٰریٰت :  ۴۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو۔

            پس مذکورہ تمام آیاتِ مبارکہ میں   ذکر کردہ احکام یعنی یکسانیت،   تعدیل،   ازدواج اور تقویم وغیرہ سب ظاہری آلات ہیں   اور باطنی اعراض جسم اور قلب کے حواس ہیں  ۔

ظاہری و باطنی اوصاف: 

 



[1]     حلیۃ الاولیاء ، الرقم ۲۵۱ میمون بن مھران، الحدیث:۴۸۵۷، ج ۴، ص ۹۲

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی سعید، الحدیث: ۱۱۱۲۹، ج ۴، ص ۳۶

                                                 احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان مجامع اوصاف القلب، ج ۳، ص ۱۵

[3]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الایمان و الرؤیا، باب ۶، الحدیث: ۵۳، ج۷، ص ۲۲۳



Total Pages: 332

Go To