Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(2)  وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۚۖ- (پ۲۶،  ق:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں   جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔

 (3)  فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ (پ۶،  المآئدۃ:  ۳۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اُس کے نفس نے اُسے  بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا  (قتل پر اُبھارا)  تو اسے  قتل کردیا۔

 (4)  مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ (۴)  (پ۳۰،  الناس:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس کے شر سے  جو دل میں   بُرے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔

 (5)  اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ-اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ (پ۲۲،  فاطر:  ۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے  دشمن سمجھو وہ تو اپنے گروہ کو بلاتا ہے۔

 (6)  اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ- (پ۲۸،  المجادلۃ:  ۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں   اللہ کی یاد بُھلا دی۔

 (7)  اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِۚ-  (پ۳،  البقرۃ:  ۲۶۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  شیطان تمہیں   اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا۔

        اور شیطان کا قول اس طرح ذکر فرمایا:

لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ (۱۶)ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْؕ-وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ (۱۷)  (پ۸،  الاعراف:  ۱۷،  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مَیں   ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں   بیٹھوں   گا۔ پھر ضرور میں   ان کے پاس آؤں   گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے داہنے اور بائیں   سے  اور تو ان میں   اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

انسان کو گمراہ کرنے کی شیطانی چارہ جوئی: 

        حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: شیطان ابنِ آدم کے راستوں   میں   بیٹھ جاتا ہے،   پس جب وہ اسلام کی شاہراہ پر بیٹھا تو اسنے ابن آدم سے  کہا: ’’کیا تو اپنا اور اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ کر اسلام قبول کر رہا ہے؟ ‘‘  لیکن ابنِ آدمنے اس کی بات نہ مانی اور اسلام لے آیا۔ اس کے بعد وہ ہجرت کے راستے پر بیٹھ گیا اور بولا: ’’کیا اپنی زمین اور آسمان چھوڑ کر ہجرت کر رہا ہے؟ ‘‘  تو بندےنے اس کی یہ بات بھی نہ مانی اور ہجرت کی،   اس کے بعد وہ جہاد کے راستے پر آ بیٹھا اور بولا:  ’’کیا جہاد کر رہا ہے؟ حالانکہ یہ جان و مال کی مشقت ہے،   تو مارا جائے گا تو تیری بیویوں   سے  نکاح کر لیا جائے گا اور تیرا مال تقسیم کر لیا جائے گا۔ ‘‘  لیکن بندےنے اس کی یہ بات بھی نہ مانی اور جہاد کیا۔ اس کے بعد حضورنبی ٔاکرم،  نورمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ایسا کیا اور اسے  اسی حالت میں   موت آئی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ اسے  جنت میں   داخل فرمادے ۔ ‘‘  ([1])                                       اللہ عَزَّ وَجَلَّنے شیطان کے قول کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ (۱۱۹)  (پ۵،  النسآء:  ۱۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: قسم ہے میں   ضرورانہیں   بہکادوں   گا اور ضرور انہیں   آرزوئیں   دلاؤں   گا اور ضرور انہیں   کہوں   گا کہ وہ چوپایوں   کے کان چیریں   گے اور ضرور انہیں   کہوں   گا کہ وہ اللہکی پیدا کی ہوئی چیزیں   بدل دیں   گے اور جو اللہکو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں   پڑا۔

شیطانی وسوسوں   کے متعلق چار فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم : 

 (1) … حضرت سیِّدُنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! شیطان میرے،   میری نماز اور میری قراء ت کے درمیان حائل ہو گیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اس شیطان کو خُنْزَب کہا جاتا ہے جب تم اسے  محسوس کرو تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگو اور اپنے بائیں   جانب تین مرتبہ تھوک دو۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ میں  نے ایسا ہی کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  مجھ سے  دور فرما دیا۔ ([2])   (2) …وضو کا بھی شیطان ہوتا ہے،   اسے  وَلْھَان کہتے ہیں  ،   پس اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگا کرو۔ ([3])  

 



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث بسرۃ بن ابی فاکہ رضی اللہ تعالی عنہ، الحدیث: ۱۵۹۵۸، ج ۵ ، ص ۴۰۳

[2]     صحیح مسلم، کتاب السلام، باب التعوذ من الشیطان     الخ ، الحدیث: ۴۷۳۸، ص ۱۰۶۹

[3]     جامع الترمذی، ابواب الطھارۃ، باب ماجا ء فی کراھیۃ الاسراف     الخ، الحدیث: ۵۷ ، ص ۱۶۳۶

                                                 احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان تسلط الشیطان   الخ، ج ۳، ص ۳۴



Total Pages: 332

Go To