Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            جب بندےنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ سے  حسنِ اخلاق کے ذریعے نہ تو کوئی معاملہ کیا اور نہ ہی اس کی مرضی سے  موافقت کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  خود سے  دور کر کے اس کی آنکھوں   پر حجاب ڈال دیا تا کہ وہ اس کے اوصاف کا مشاہدہ نہ کر سکے۔ جیسا کہ اس کا فرمان ہے: 

عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ- (پ۱۰،  الانفال:  ۶۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔

 اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت چاہئے تو زاہد بن جاؤ: 

        انجام کی انتہا کے متعلق رحمتِ عالم،   نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جب تو چاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّتجھے محبوب بنا لے تو دنیا میں   زاہد بن جا۔ ‘‘  ([1])

مومن اور بخیل میں   فرق: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)    آپ اس قابل نہیں   کہ مومنین کے اس گروہ کے دلوں   کی کیفیت بیان کریں   جن کا وصف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بیان کیا ہے،   کیونکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّان سے  ان کے اموال طلب کرتا تو ان کا بخل ظاہر ہو جاتا۔ اس لئے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے  عطا کردہ ایمان کے ظاہری لبادے میں   ملبوس ہونے کی وجہ سے  دھوکے میں   مبتلا ہیں  ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ارشاد فرمایا:

فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ (۴۵)  (پ۲۲،  فاطر:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں   ہیں  ۔

         اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے محبوب بندوں   سے  ان کی عزت بڑھانے کی خاطر کچھ طلب نہیں   کرتا کیونکہ ان کا شمار ان لوگوں

  میں   ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کوئی شے طلب کرنے پر فوراً اس کی بارگاہ میں   پیش کر دیتے ہیں  ۔ پس اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے طلب نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کریم ہے۔ اس کے نزدیک کسی شے کی کوئی عظمت وبڑائی نہیں  ۔ اگر وہ طلب کرے تو سب کچھ یعنی مال و نفس تک  (اپنی راہ میں   خرچ کرنے)  کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگر وہ صرف اسی بندے سے  یہ سب کچھ طلب کرتا ہے جسے  اسنے اپنے اخلاق میں   سے  کسی خلق کے ساتھ پیدا فرمایا ہو اور جس کے پاس اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے سوا کچھ نہ ہو تو اس کا محبوب اس سے  سب کچھ خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور جس بندے کے دل میں   فانی اشیاء کی عظمت گھر کر جاتی ہے یعنی بخل آ جاتا ہے تو وہ اس سے  کچھ بھی طلب نہیں   کرتا۔

            جب بندے کی جان میں   جان ہی نہ رہے اور نہ ہی اس کے مال پر اس کی ملکیت رہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّخود اس کے مال و جان کا عوض ہو جاتا ہے،   مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جان کے عوض کا کہیں   تذکرہ نہیں   فرمایا۔ البتہ! مال کے عوض یعنی جنت کا ذکر کیا ہے تا کہ وہ حکم کے تحت داخل نہ ہو جائے کیونکہ وہ احکم الحاکمین ہے اور اس لئے بھی کہ وہ عوض کے ساتھ نہ مل جائے ورنہ جوڑا بن جائے گا،   حالانکہ وہ اکیلا ہے،   پس اس نے خود کو مخفی رکھا اور یہی اس پر دلیل ہے اور اسنے مخلوق کا ذکر فرمایااور یہی اس کی بارگاہ تک رسائی کا راستہ ہے۔

            پس یہی وہ فہم ہے جو وہ اپنی جانب سے  اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کو عطا فرماتا ہے اور جو اس خالص محبت کی علامت ہے جس میں   اس کے سوا کوئی شریک ہے نہ اس کے علاوہ کوئی اس میں   داخل ہے اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ ان محبین کے اوصاف سے  پردہ ہٹایا جائے کیونکہ ان کا حال وصف سے  عظیم تر ہے اور ان کا مقام علومِ عقل اور وقت سے  متجاوز ہے۔

            البتہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے ان فرامینِ مبارکہ کے ساتھ اسے  محکم ضرور کیا ہے:

 (1)  وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُۚ- (پ۲۵،  الزخرف:  ۷۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اس میں   جو جی چاہے اور جس سے  آنکھ کو لذّت پہنچے۔

 (2)  تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌۖۚ- (پ۲۲،  الاحزاب:  ۴۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے لئے ملتے وقت کی دعا سلام ہے۔  (3)  وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ (۳۱)  نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ (۳۲)  (پ۲۴،  حم السجدۃ:  ۳۲،  ۳۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور تمہارے لئے اس میں   جو مانگو۔ مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے ۔

 (4)  فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ (۸۸)  فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ (پ۲۷،  الواقعہ:  ۸۹،  ۸۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر وہ مرنے والا اگر مقرّبوں   سے  ہے۔ تو راحت ہے اور پھول۔

 (5)  وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۲۷)  (پ۸،  الانعام:  ۱۲۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں   کا پھل ہے۔

 (6)  هُمْ  دَرَجٰتٌ  عِنْدَ  اللّٰهؕ-وَ  اللّٰهُ  بَصِیْرٌۢ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ (۱۶۳)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۶۳)

 



[1]     سنن ابن ماجہ ،کتاب الزھد،باب الزھد فی الدنیا،الحدیث: ۴۱۰۲،ج۴،ص۴۲۳1



Total Pages: 332

Go To