Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

طالبِ دنیا و آخرت کے اوصاف: 

                                                 اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جب اپنے محبوب بندوں   کو دنیا سے  اعراض کرنے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ہی ان لوگوں   کے اوصاف بھی بیان کئے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے  منہ موڑ لیتے ہیں   اور صرف دنیاوی زندگی کے خواہش مند ہوتے ہیں  ،   

کیونکہ وہ چاہتے ہیں   کہ دنیا فوراً مل جائے اور اس طرح اپنی حد درجہ جہالت اور ضعف ِ یقین کے سبب مغفرت کے معاملہ کو آخرت تک مؤخر کر دیتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسے  بندوں   کے متعلق ارشاد فرمایا:

 (1)  یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَاۚ- (پ۹،  الاعراف:  ۱۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس دنیا کا مال لیتے ہیں   اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی۔

 (2)  فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ﳔ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ (۲۹)  (پ۲۷،  النجم:  ۲۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو تم اس سے  منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے  پھرا اور اسنے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی۔

            اور سچے مومنین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ- (پ۲۱،  الاحزاب:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جنہوں  نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے  کیا تھا۔

            جبکہ ان کے علاوہ دوسروں   کے متعلق فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ (پ۲۸،  الصف:  ۳،  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اے ایمان والو کیوں   کہتے ہو وہ جو نہیں   کرتے۔ کتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو۔

وعدہ پورا کرنے اور نہ کرنے والے: 

        وہ تمام افراد جو عہد کو سچا کر دکھانے والے ہیں   اور جو اس وعدہ کو توڑنے والے اور اس سے  منہ موڑنے والے ہیں   ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان میں   سے  ایک گروہ کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (۲۰)  (پ۲۲،  سبا:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور بیشک ابلیس نے انہیں   اپنا گمان سچ کر دکھایا تو وہ اسکے پیچھے ہولئے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا۔

           اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو شیطان کی پیروی ترک کرنے کے ساتھ خاص فرمایا مگر ایک گروہ یعنی صدیقین کو چھوڑ کر بعض مومنین کو شیطان کے گمان کی تصدیق اور اس کی پیروی میں   داخل فرمایا ہے۔ چنانچہ،   

            جنہیں   نجات دی ان کے متعلق ارشاد فرمایا:

فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ (۶۹)  (پ۵،  النسآء:  ۶۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اُسے  ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں  ۔

            ایسے  لوگ صدیق ،   شہدا اور صالحین ہیں   جن کی سنگت بہت اچھی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں   جو حقیقی مومن ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسا کرنے والے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: 

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ (۹۹)  (پ۱۴،  النحل:  ۹۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں   جو ایمان لائے اور اپنے ربّ ہی پر بھروسا رکھتے ہیں  ۔

سخاوت زہد کی ابتدا ہے: 

            جو شخص اپنے مال و جان کو ربّ  عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں   بیچ دے وہ اس شخص کی طرح نہیں   ہو سکتا جس سے  اس کا ربّ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے نفس کے متعلق پوچھے گا تا کہ وہ اس سے  اصرار نہ کرے کہ جس کے سبب بندے کے دل کا میل ظاہر ہو جائے۔ جیسا کہ اسنے مومنین کے ایک گروہ کے متعلق ارشاد فرمایا:

یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْــٴَـلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ (۳۶) اِنْ یَّسْــٴَـلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِ جْ اَضْغَانَكُمْ (۳۷)  (پ۲۶،  محمد:  ۳۷،  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے  تمہارے مال نہ مانگے گا۔ اگر انہیں   تم سے  طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بُخل کرو گے اور وہ بُخل تمہارے دلوں   کے میل ظاہر کردے گا۔

            یعنی اگر وہ تم سے  پوچھ گچھ کرے گا تو سب اشیاء کے متعلق کرے گا۔ البتہ اسنے تم سے  تمہاری جانوں   کے متعلق زہد پسند کیا ہے اور دلوں   کے میل سے  مراد کینہ ہے اور تمہارا خیال ہے کہ تم سے  اس کے متعلق کوئی سوال نہیں   ہو گا؟ بخیل زاہد نہیں   ہو سکتا۔ کیونکہ زہد کی ابتدا سخاوت سے  ہوتی ہے اور جو سخی نہ ہو وہ زاہد نہیں   ہو سکتا اور جو دنیا میں   زاہد نہ ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا محبوب بھی نہیں   ہو سکتا کیونکہ یہ اس سے  محبت کرنے والا ہے جسے  وہ پسند نہیں   کرتا اور یہ اس شے کا چاہنے والا ہے جو اس کی پسندیدہ نہیں   ہے۔

 



Total Pages: 332

Go To