Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

،   کیونکہ ہر سانس دو لمحوں   پر مشتمل ہوتا ہے اور میں  نے سنا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے کسی نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی جانب وحی فرمائی کہ میری تجھ پر جو نعمتیں   ہیں   تو ان کا شکر کیسے  ادا کرے گا حالانکہ ہر بال میں   میری دو نعمتیں   ہیں   یعنی جڑ کو نرم بنایا تو سرے کو ساکن۔ ‘‘ 

کبریتِ احمر: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ بندے کی باقی ماندہ عمر کے علاوہ کبریت احمر سے  بڑھ کر کوئی شے عزت والی نہیں   اور مزید فرماتے ہیں   کہ نبی یا صدیق کے علاوہ کوئی بھی اپنی باقی عمر کی مقدار نہیں   جانتا۔بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ باقی عمر کی قدر و منزلت وہی شخص پہچان سکتا ہے جو کبریتِ احمر کے چشمے کو پہچانتا ہو کیونکہ منقول ہے:  ’’یہ ایسے  چشمے ہیں   جو اندھیروں   میں   پھوٹتے ہیں   اور انہیں   سوائے ابدالوں   کے کوئی نہیں   پہچانتا۔ ‘‘ 

            کبریتِ احمر سے  مراد وہ کیمیا ہے جس سے  خالص سونا تیار کیا جاتا ہے۔ جب اس کی تھوڑی سی مقدار اس عمل میں   استعمال ہونے والی کسی شے پر ڈالی جائے تو پہلے وہ اپنی حالت پر قائم رہتی ہے اور پھر چند سالوں   کے بعد تبدیل ہو جاتی ہے۔

صاحبِ کتاب کا تبصرہ: 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)  میرے علم میں   ایسی کوئی حدیث ِ پاک نہیں   جس میں   حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبریتِ احمر کا ذکر کیا ہو،   سوائے  امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے  مروی اس حدیث ِ پاک کے،   جس میں   ابدالوں   کے اوصاف مروی ہیں  ،   اس میں   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی تعداد اور ان کی نعمتوں   کا تذکرہ فرمایا اور ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے آخر میں   ارشاد فرمایا:  ’’وہ میری امت میں   کبریتِ احمر سے  زیادہ معزز ہیں  ۔“ ([1])

            البتہ خالص سونے کا ذکر سوائے حدیث ِ ابتلا کے کہیں   نہیں   ملتا۔ چنانچہ سرکار مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  ” اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے کا امتحان ابتلا و آزمائش کے ذریعے لیتا ہے،   جیساکہ تم میں   سے  کوئی شخص سونے کو آگ سے  آزماتا ہے۔ پس ان میں   سے  کچھ خالص سونے کی طرح نکلتے ہیں   اور کچھ جلے ہوئے سیاہ سونے کی طرح اور کچھ ان دونوں   کی درمیانی حالت میں   ہوتے ہیں  ۔“ ([2])

٭ ٭ ٭

٭انوکھی شہزادی ٭

حضرتِ سیِّدُنا شیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی شہزادی جب شادی کے لائق ہوگئی اور پڑوسی ملک کے بادشاہ کے یہاں سے  رشتہ آیا تب بھی آپ نے ٹھکرا دیا اور مسجِد مسجِد گھوم کرکسی پارسا نوجوان کو تلاشنے لگے ۔ ایک نوجوان پر ان کی نگاہ پڑی جس نے اچّھی طرح نَماز ادا کی اورگِڑگِڑا کر دُعا مانگی ۔ شیخ نے اُس سے  پوچھا: تمہاری شادی ہو چکی ہے؟ اُس نے نَفی میں جواب دیا۔ پھر پوچھا: کیا نِکاح کرناچاہتے ہو؟ لڑکی قراٰنِ مجید پڑھتی ہے،   نَماز روزہ کی پابند ہے اور خوب سیرت ہے ۔ اُس نے کہا: بھلا میرے ساتھ کون رِشتہ کریگا! شیخ نے فرمایا: میں کرتا ہوں لو یہ کچھ دِرہم ،   ایک دِرہم کی روٹی ،   ایک دِرہم کا سالن اور ایک دِرہم کی خوشبو خرید لاؤ۔ اِس طرح شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی نے اپنی دُخترِ نیک اختر کا نِکاح اُس سے  پڑھا دیا۔ دُلہن جب دُولہا کے گھر آئی تو اُس نے دیکھا پانی کی صُراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی ہے ۔ اُس نے پوچھا: یہ روٹی کیسی ہے؟ دُولہا نے کہا: یہ کل کی باسی روٹی ہے میں نے اِفطار کے لئے رکھی ہے ۔ یہ سُن کر وہ واپَس ہونے لگی۔ یہ دیکھ کر دُولہا بولا: مجھے معلوم تھا کہ شیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی شہزادی مجھ غریب انسان کے گھر نہیں رُک سکتی ۔ دُلہن بولی: میں آپکی مُفلِسی کے باعِث نہیں،   اس لئے لوٹ کر جارہی ہوں کہ ربُّ العٰلمین عَزَّ وَجَلَّ پر آپ کا یقین بَہُت کمزور نظر آ رہا ہے جبھی تو کل کیلئے روٹی بچا کر رکھتے ہیں،   مجھے تو اپنے باپ پر حیرت ہے کہ اُنہوں نے آپ کو پاکیزہ خصلت اور صالِح کیسے  کہدیا! دُولہا یہ سُن کر بَہُت شرمِندہ ہوا اور اُس نے کہا: اس کمزوری سے  معذِرت خواہ ہوں۔ دُلہن نے کہا: اپنا عُذر آپ جانیں البتّہ! میں ایسے  گھر میں نہیں رُک سکتی،   جہاں ایک وَقت کی خوراک جَمع رکھی ہو،   اب یا تو میں رہوں گی یا روٹی ۔ دُولہا نے فوراً جا کر روٹی خیرات کر دی اور ایسی دَروَیش خَصلت انوکھی شہزادی کا شوہر بننے پراللہ تعا لیٰ کا شکر ادا کیا۔  (روضُ الریاحین،   ص ۱۰۳)

فصل:  29

مقربین او ر غافلین کے درمیان فرق کا بیان

عمر ایک امانت ہے: 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)    بندہ جب گزشتہ فصل میں   مذکور تمام اوصاف کا حامل ہو جائے تو اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَﭪ (۳۲) وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىٕمُوْنَﭪ (۳۳)   (پ۲۹،  المعارج:  ۳۳،  ۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور وہ جو اپنی امانتوں   اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں   اور وہ جو اپنی گواہیوں   پر قائم ہیں   ۔

            عارفین فرماتے ہیں   کہ بندے کی عمر اس کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّکی امانت ہے،   جس کے متعلق اللہ

عَزَّ وَجَلَّبندے سے  اس کی موت کے وقت پوچھے گا۔ اگر اسنے اس میں   تفریط سے  کام لیا تو اسنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی امانت ضائع کر دی اور اس کے عہد کو چھوڑ دیا اور اگر اپنے اوقات کا خیال



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الاولیاء، الحدیث: ۸، ج۲، ص۳۸۸

[2]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الاولیاء، الحدیث: ۸، ج۲، ص۳۸۸



Total Pages: 332

Go To