Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

بڑھ جائے یا اسے  دن کے ابتدائی حصے کی جانب لوٹا دیا جائے تاکہ وہ رہ جانے والے کام کی تکمیل کر سکے۔             یہی حال اس توبہ کرنے والے کا ہے جو اپنی نیند سے  بیدار ہونے والا ہو،   مگر اب اس کے لئے یہ معاملہ موت کے بعد ہی ظاہر ہو گا کہ جب وہ اوقات کے ضائع ہونے کو دیکھ لے گا اور فوت شدہ کی تلافی نہ کر سکنے کا اسے  یقین ہو جائے گا ۔ پس یہی وقت سب سے  بڑی ندامت کا ہو گا اور اس وقت ہی سب سے  بڑی حسرت ہو گی۔

اربابِ عقل و دانش کے لئے نصیحت: 

            اہلِ یقین،   اربابِ عقل و دانش کے نزدیک احتیاط اس بات میں   ہے کہ بندہ باقی ماندہ تھوڑی سی عمر میں   تیزی سے  عمل کرنے لگے کیونکہ مستقبل میں   بھی ماضی کی مثل وقت برباد کرنے میں   مصروف رہنا ایک دوسرا ضیاع ہو گا اور اس لئے بھی کہ وہ وقت تو بس آنے والا ہی ہے۔ پس اس بیدار مغز کی حرص اور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر وقت اور ساعت میں   اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہو اور وہ اپنے اعمال کی ساعتوں   کے ہر خزانے میں   تھوڑی تھوڑی اشیاء ودیعت رکھتا جائے تاکہ کل اپنے خزانوں   کو خالی نہ دیکھے اور نہ ہی وہ ان کے خالی ہونے پر حسرت میں   مبتلا ہو۔

            یہ اہلِ رجا کا طریقہ ہے جو اعمال کی زیادتی کی تمنا رکھتے ہیں   اور اپنے پَرْوَرْدْگارعَزَّ وَجَلَّکی اچھے طریقے سے  عبادت کرنے میں   ساری زندگی گزارنے میں   رغبت رکھتے ہیں   اور یہی صحیح توبہ کرنے والے کا مقام ہے تا کہ وہ گزشتہ غفلت میں   گزرے ہوئے اوقات کا تدارک نئے اوقات سے  کر سکے۔ چنانچہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کے نزدیک احتیاط یہی ہے،   یعنی اگر معاملہ حد درجہ سخت ہو جیسا کہ پیدا ہوا تھا تو وہ اپنی اس مشکل سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حسنِ توفیق کے ساتھ ہی محفوظ رہ سکتا ہے اور اگر معاملہ آسان ہو جیسا کہ لوگ امید رکھتے ہیں   تو انہیں   چاہئے کہ جان لیں   اعمال و فضائل کے اپنے اپنے درجات و مقامات ہیں  ۔

اہلِ یقین کے مشاہدے کا ساتواں   مقام

وقت کی تلافی: 

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  جان لیجئے کہ ہم نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ اوقات کی تلافی ان کے فوت ہو جانے کا ڈر اور اندیشہ ہے تو اس سے  مراد یہ نہیں   کہ بندہ ایک کے بجائے دوسرے مقام کی تمنا کرنے لگے اور نہ ہی اس سے  مراد یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے وقت کا انتظار کرتا رہے کہ اس طرح تو وہ درحقیقت وقت کی فکر میں   مبتلا ہوجائے گا۔ نیز اوقات کی تلافی سے  یہ بھی مراد نہیں   کہ اپنی موجودہ حالت کوچھوڑ کر کسی دوسری حالت کی توقع رکھنے لگے بلکہ وقت کی تلافی و تدارک سے  مراد ہے:

                        ٭…  دن میں   روزہ رکھنا                                 ٭…  رات کے وقت قیام کرنا

                        ٭…  ہر ساعت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنا   ٭…  دل کے متفرق خیالات کو جمع کرنا

                        ٭…  دل میں   پیدا ہونے والے اثرات ختم کرنا

        نیز اس سے  یہ امور بھی مراد ہیں  :

٭…  آنکھیں   جھکائے رکھنا                                                     ٭…  کانوں   کی حفاظت کرنا

٭…  ہاتھوں   کو روکے رکھنا                                                    ٭…  پاؤں   کو قابو میں   رکھنا

٭…  گھٹیا باتیں   کرنے سے  خاموش رہنا                                     ٭…  شہوت پیدا کرنے والا لقمہ چھوڑ دینا

٭…  خوراک میں   کمی کرنا                                                       ٭…  بھوک کی زیادتی کرنا

٭…  نیکی کا حکم دینا                                                                ٭…  برائی سے  منع کرنا

٭…  اچھی نیت کرنا                                                                ٭…  بری نیت سے  بچنا

٭…  نئے سرے سے  توبہ کرنا                                                  ٭…  دل کو فکر میں   مبتلا رکھنا اور بدگمانی سے  نکالنا

٭…  حسنِ ظن کا عقیدہ اپنانا                                                    ٭…  ثابت قدمی و استقامت اختیار کرنا

٭…  نیکی و تقویٰ کے امور پر تعاون کرنا

٭…  اور مقصود میں   عزم کا صحیح ہونا اور عزم کو قوی کرنے والے اسباب اختیار کرنا۔

            بندے کو چاہئے کہ مذکورہ تمام امور فوراً اور اسی حالت میں   کرنے لگے،   ٹال مٹول سے  کام لے نہ کسی کا انتظار کرے اور نہ ہی کسی دوسرے وقت کی توقع رکھے،   نہ اس کام کو ایک وقت سے  دوسرے وقت تک مؤخر کرے اور نہ ہی ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ اس پر عمل پیرا ہونے کا انتظار کرے۔ کیونکہ اسی طرح فوت شدہ اوقات کا تدارک اور ان کی تلافی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اسے  جو وقت میسر ہے اس کے فوت ہو جانے کے اندیشہ کی وجہ سے  اسے  ہی غنیمت جانے،   ورنہ ٹال مٹول اور امیدیں   ہی رہ جائیں   گی یا پھر انتظار و تراخی رہ جائیں   گے جو شیطان کے لشکر ہیں   اور جن سے  وہ سالکینِ طریقت کی راہیں   بند کر دیتا ہے۔

            یہ دھوکے و فریب میں   مبتلا افراد کا مقام اور ان اہلِ باطل کا حال ہے جنہوں  نے خود کو اپنے نفس کے سپرد کر دیا اور پھر نفس کو اپنی خواہشات کی تکمیل کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا ،   نہ تو انہوں  نے اپنی موجودہ حالت میں   وقت کے ضیاع کی تلافی کی اور نہ ہی انہوں  نے اپنے کل کے لئے کچھ تیاری کی ۔ پس وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بھول چکے ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   چھوڑ دیا ہے۔

 



Total Pages: 332

Go To