Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ہر شے کے جوڑے سے  مراد اس کا ہم مثل اور ہم شکل ہے تا کہ تم اس کی وجہ سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کیا کرو اور انہیں   دیکھ کر بارگاہِ ربوبیت کے مشتاق رہو۔ چنانچہ اس کے بعد ارشاد فرمایا:

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ- (پ۲۷،  الذٰریٰت:  ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہ کی طرف بھاگو۔

            یعنی زاہد بن کر ان سے  بارگاہِ ربوبیت کی جانب راہِ فرار اختیار کرو اور پھر مزید ارشاد فرمایا:

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ-  (پ۲۷،  الذٰریٰت:  ۵۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ۔

            یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو معبود نہ بناؤ اور نہ ہی مرتبۂ الوہیت میں   کسی کو اس کا شریک بناؤ۔ پس مقربین نے دل کی آنکھوں   سے  مشاہدہ کرتے ہوئے اس پیغام کو سنا اور سمجھا،   لہٰذا جب وہ ان کے پاس ہوتے ہیں   تو صرف اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّہی کو پکارتے ہیں  ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکافرمانِ عالیشان ہے: 

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ﳳ- (پ۷،  الانعام:  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  مانتے تو وہی ہیں   جو سنتے ہیں  ۔

بندے کی بد بختی: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ- (پ۲۵،  الشوری:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انہیں   اپنے فضل سے  اور انعام دیتاہے۔

            وہ شخص کیسے  سن سکتا ہے جسے  دور سے  پکارا جائے؟ اور جس کے دل پر لگاہوا قفل ہی اس کا نگران ہو تو وہ کیسے  دیکھ سکتا ہے؟ اور جو سن نہ سکے وہ جواب کیسے  دے گا؟ اور جو دیکھ نہ سکے وہ مشاہدہ کیسے  کرے گا؟

محبت اندھا و بہرا کر دیتی ہے: 

            تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’کسی شے سے  تیرا محبت کرنا تجھے اندھا و بہرا کر دیتا ہے۔ ‘‘  ([1]) پس نفسانی خواہش بندے کو حق بات دیکھنے سے  اندھا بنا دیتی ہے اور شہوت نصیحت اور سچائی سننے سے  بہرا کر دیتی ہے۔ چنانچہ اگر آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو اپنا محبوب بنا لیا تو آپ کی نگاہیں   صرف اسی کی جانب لگی رہیں   گی اور اس کے ماسوا کو دیکھنے سے  اندھی ہو جائیں   گی اور اگر آپ اس کی بارگاہ کی جانب ہمہ تن گوش رہیں   گے تو اس کا کلام سننے کا شرف حاصل کر لیں   گے اور اگر سماعتِ کلام کا شرف پا لیا تو پھر غیرُ اللہ کے کلام سے  آپ کے کان بہرے ہو جائیں   گےاور  (زہے نصیب)  اگر وہ بھی آپ کو پسند کر لے تو وہ آپ کی سماعت وبصارت،   دست و قلب اور حامی و ناصر بن جائے گا۔ آپ اسے  پکاریں   گے تو وہ آپ کو جواب دے گا،   اس سے  سوال کریں   گے وہ عطا کرے گا،   آپ اس کی خاطر اخلاص کا اظہار کریں   گے تو وہ آپ کو خلوص کی دولت سے  مالا مال کر دے گا۔ ایک

 روایت میں   اسی طرح آیا ہے۔

            الغرض اپنے آپسے  غافل ہو کر اس کی عبادت میں   مصروف ہو جائیں   اور خود کو اس کی خاطر ہر شے سے  فارغ و خالی کر لیں  ،   اس طرح آپ اسی کا کلام سنیں   گے،   اسی کی جانب دیکھیں   گے،   اسی کے سامنے حرکات و سکنات سر انجام دیں   گے اور اپنے نفس،   خواہش،   شہوت اور دنیا کے لئے کوئی کام نہ کریں   گے۔ پس محبت میں   یہ ہوتا ہے کہ محبت کرنے والا بدل جاتا ہے لیکن محبوب اپنی حالت پر رہتا ہے۔

بندے کی حالت ِ عین الیقین: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)  بندہ جب عین الیقین کے مقام پر فائز ہو اور ظنی یقین سے  اس کا کوئی تعلق نہ ہو اور اسنے ہماری ذکر کردہ باتیں   بھی سن رکھی ہوں   یعنی وقت بڑی تیزی سے  گزر رہا ہے اور اسے  اس کی تلافی کا موقع بھی نہیں   مل پا رہا تو یہ فوت شدہ وقت پر حزن و ملال اسے  وقت کی قدر کرنے میں   مشغول رکھے گا تا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں   بھی وقت کے فوت ہونے پر اسے  نادم نہ ہونا پڑے اور پہلے کی طرح دوسری مرتبہ بھی وقت کے ضیاع پر اسے  پھر حزن و ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ چنانچہ یہ کیسے  ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی حالت و کیفیت میں   ایسے  اوصاف پیدا ہونے دے جن پر اسے  ندامت ہو ؟ مثلاً برے اعمال کرنے لگے یا ایسے  کام کرے جن کا انجام قابلِ تعریف نہ ہو اور اس کی وجہ سے  آخرت میں   رشک نہ ہو۔

بڑھاپے میں   عبادت کی مثال: 

            جو شخص اپنی غفلت کے آخری لمحات میں   بیدار ہو اس کی مثال اس بندے جیسی ہے جس پر کوئی کام دن کے اوقات میں   پایۂ تکمیل تک پہنچانا لازم و ضروری ہو لیکن وہ غفلت یا نیند کی وجہ سے  اس کام کو بھول جائے اور پھر عصر کے بعد اس کی تکمیل کا ہوش آئے،   اب دن کے باقی حصے میں   اس کی حرص،   کام میں   جلد بازی اور تیزی کے متعلق سوال نہیں   کیا جا سکتا،   کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ دن کے ابتدائی حصے میں   جو کام کرنے سے  رہ گیا اس تھوڑے سے  وقت میں   مکمل کر لے،   اب اس کی خواہش ہے کہ اس کا وقت رات تک وسیع ہو جائے اور کئی گنا



[1]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الھوی، الحدیث: ۵۱۳۰، ص۱۵۹۸



Total Pages: 332

Go To