Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(11)  اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُؕ- (پ۸،  الاعراف:  ۵۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: سُن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا۔

مقربین کے مشاہدے کا چھٹا مقام

مومنین کے اوصاف: 

            نیکی کے کام ایمان کے ثمرات ہیں   اور اعمالِ صالح یقین کا تقاضا کرتے ہیں   جبکہ لہو و لعب شک کے متقاضی ہوتے ہیں  ۔ سننا و دیکھنا متقین کے اوصاف ہیں   جبکہ اندھا و بہرا ہونا شک کی صفتیں   ہیں  ۔ یہ تمام معانی اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان میں   جمع ہیں  :

قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۹۳)  (پ۱،  البقرۃ:  ۹۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو۔

            یہ آیتِ مبارکہ دلالت کر رہی ہے کہ ایمان مومنین کو نیکی و تقویٰ کا حکم دیتا ہے ۔ جس کی خبر اللہ

عَزَّ وَجَلَّنے یقین رکھنے والوں   کو دی تو انہوں  نے سنا اور دیکھا پھر نیک عمل کو پا لیا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی اس کیفیت کا اظہار قرآنِ کریم میں   کچھ یوں   فرمایا:

رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ (۱۲)  (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اے ہمارے ربّ اب ہم نے دیکھا اور سنا ہمیں   پھر بھیج کہ نیک کام کریں   ہم کو یقین آ گیا۔

غافلین کے اوصاف: 

            اور لہو و لعب میں   مبتلا افراد کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ (۹)  (پ۲۵،  الدخان:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بلکہ وہ شک میں   پڑے کھیل رہے ہیں  ۔

            اس کے بعد عدمِ یقین کی وجہ سے  ان کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ (۲۰)  (پ۱۲،  ھود:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے۔

            کیونکہ وہ اہلِ یقین میں   سے  نہ تھے اور جب ان کے پاس یقین کی دولت آئی یعنی انہیں   دیکھنے و سمجھنے کی قوت ملی تو انہوں  نے دیکھا اور سنا بھی،   پس کہنے لگے:

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ (۴۶)  حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ (۴۷)  (پ۲۹،  المدثر:  ۴۷،  ۴۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔ یہاں   تک کہ ہمیں   موت آئی۔

            اور جب یقین کی دولت سے  مالا مال ہوئے تو ان کی سماعت و بصارت کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْۙ-یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا  (پ۱۶،  مریم:  ۳۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کتنا سنیں   گے اور کتنا دیکھیں   گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے۔

            مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انہوں  نے ہمارے پاس حاضر ہو کر جزا و سزا کو دیکھ لیا تو وہ کس قدر سننے اور دیکھنے والے ہو گئے۔ یہ قول صفت میں   مبالغہ بیان کرنے کے لئے ہے،   جیسا کہ عام طور پر کہتے ہیں  :  (اَکْرِمْ وَاَعْظِمْ بِہٖ)  ’’یعنی وہ کس قدر عزت و عظمت والا ہے! ‘‘  اسی طرح جب قیامت کے دن یقین کی حالت میں   تم بارگاہِ ربوبیت میں   حاضر ہو گے تو وہ کچھ سنو گے جو اس سے  قبل نہ سنا ہو گا اور وہ کچھ دیکھو گے جو اس سے  قبل نہ دیکھا ہو گا۔

قربِ خداوندی کے حصول کے اسباب: 

            تمہاری بیویوں  نے تمہیں   مشغول رکھا جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہاری خاطر پیدا فرمایا تھا اور ان اشکال و اشباہ میں   مصروف رہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ظاہر فرمائی تھیں  ،   پس تم نے انہیں   معبود بنا ڈالااور انہی کے پاس براجمان ہو کر رہ گئے،   اگر ان سب سے  فرار ہو کر بارگاہِ ربوبیت میں   حاضر ہو جاتے تو تمہارا یہ فرار ہونا ایک بہتر جائے پناہ کی طرف ہوتا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی تمہیں   اپنے ہاں   ایک بہترین جائے پناہ عطا فرماتا۔ حالانکہ اسنے تمہیں   ان سب سے  راہِ فرار اختیار کر کے اپنی بارگاہ میں   حاضر رہنے کا حکم دیا تھا کاش تم یہ حکم قبول کر لیتے،   اسنے تمہیں   ان اشیاء کو معبود بنانے سے  منع کیا تھا،   کاش! تمنے اس کا یہ حکم سنا ہوتا۔ اسنے تمہارے لئے ڈر کو واضح کر دیا تھا،   کاش! تمنے سمجھا ہوتا،   اسنے تمہاری بیویوں   کو اپنے ذکر کا ذریعہ و سبب بنایا تھا،   کاش! تم یہ پہچان جاتے اور اسنے تمہاری بیویوں   کو اپنی بارگاہ تک رسائی کا ذریعہ بھی بنایا تھا،   کاش! تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کی پیروی کرتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہاری ان بیویوں   کو اپنی بارگاہ کا شوق دلانے کا باعث بنایا تھا،   کاش! تم اس کے قرب کو محبوب رکھتے۔ کیا تم نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سنا؟

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (۴۹)  (پ۲۷،  الذٰریٰت:  ۴۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو۔

 



Total Pages: 332

Go To