Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

افسوس کرے گا کہ زیادہ نیک اعمال کیوں   نہ کئے؟“ ([1])

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں  ،   جن میں   سے  بعض بعض سے  اعلیٰ و افضل ہیں  ،   جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے۔ البتہ! ان میں   سے  بھی بعض بعض سے  پستی میں   ہیں  ۔ لہٰذا جن کے بائیں   ہاتھ میں   نامۂ اعمال ہو گا وہ اس حسرت میں   مبتلا ہوں   گے کہ وہ دائیں   ہاتھ والوں   میں   کیونکر نہ ہوئے؟ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ (۳۸)  اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ (۳۹)  (پ۲۹،  المدثر:  ۳۹،  ۳۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہر جان اپنی کرنی میں   گروی ہے۔ مگر دہنی طرف والے۔

            اور دائیں   ہاتھ میں   نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں   مبتلا ہوں   گے کہ وہ مقربین میں   سے  کیونکر نہیں   ہیں  ؟ اور پھر مقربین میں   سے  صالحین اس حسرت میں   مبتلا ہوں   گے کہ وہ شہدا میں   کیوں   شامل نہیں   ہیں  ؟ اور شہدا چاہتے ہوں   گے کہ کاش وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے۔

        الغرض یہ دن حسرت کا ہو گا جس سے  غافلین کو ڈرایا گیا ہے،   پس جو لوگ آج یہاں   مردہ ہیں   تو کل وہاں   ان کی حالت کیسی ہو گی؟ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی بلکہ ان کے لئے تو صرف ڈر اور نصیحت ہے۔ چنانچہ،   

            اس کے متعلق چند فرامینِ باری تعالیٰ ذیل میں   مذکور ہیں  :

 (1)  وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ (پ۱۶،  مریم:  ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور انہیں   ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں   ہیں  ۔

 (2)  لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا (پ۲۳،  یس:  ۷۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  کہ اسے  ڈرائے جو زندہ ہو۔

 (3)  اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ (۴۵)  (پ۳۰،  النازعات:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم تو فقط اسے  ڈرانے والے ہو جو اس سے  ڈرے۔

 (4)  اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِۚ- (پ۲۲،  یس:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم تو اسی کو ڈر سناتے ہو جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے  بے دیکھے ڈرے۔

 (5)  فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (۲۲)   (پ۲۶،  ق:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ہم نے تجھ پر سے  پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔

        مراد یہ ہے کہ تیری آنکھ جو تونے آگے بھیجا ہے اسے  دیکھ رہی ہو گی۔ ایک قول میں   ہے کہ تیری آنکھ ترازو کی نوک دیکھ رہی ہو گی اور اعمال نامے کی کمی سے  ڈر رہی ہو گی۔

 (6)  وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ- (پ۲۶،  ق:  ۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ۔

            مطلب یہ ہے کہ موت کا ان کی جانب جلدی جلدی بڑھنا حق ہے،   خواہ وہ ان کے موافق ہو یا مخالف۔

 (7)  سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ- (پ۱۷،  الانبیآء:  ۱۰۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا۔

 (8)  حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ (۹۶)  (پ۱۱،  یونس:  ۹۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جن پر تیرے ربّ کی بات ٹھیک پڑچکی ہے ایمان نہ لائیں   گے۔ یعنی جب ان پر رب کا حکم لازم ہو چکا کہ وہ ایمان نہ لائیں   گے تو اب باقی ہر حکم خود بخود ساقط ہو جائے گا۔ ایک قول ہے کہ اعمال کے خاتموں   کا وزن کیا جائے گا۔ ([2])  اور اعمال کا خاتمہ بھی ان کی ابتدا جیسا ہی ہو گا اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ضائع ہو جانے والا ہے۔

 (9)  وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- (پ۸،  الاعراف:  ۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اس دن تول ضرور ہونی ہے۔

 (10)  وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ- (پ۸،  الانعام :  ۱۵۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور پوری ہے تیرے ربّ کی بات سچ اور انصاف میں  ۔

            یعنی سچ اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے لئے ہے اور انصاف اس کے دشمنوں   کے لئے ہے ۔

 



[1]     تفسیر القرطبی، پ۲۸، التغابن، تحت الایۃ۹، ج۹،الجزء الثامن عشر، ص۱۰۵ بتغیر قلیل

[2]     احیاء  علوم الدین، کتاب قواعد العقائد، الفصل الرابع، البحث الثالث، ج۱، ص۱۷۱



Total Pages: 332

Go To