Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائیں   کیونکہ آپ نے دنیا میں   ہی ان نعمتوں   کے پائے جانے کے اوقات کو کھو دیا تھا مگر جس شخص نے یہاں   دنیا میں   اپنے اوقات کو آباد کر کے اپنی حسرت کا تدارک کر لیا وہاں   قیامت کے دن ابدی جزابھی وہی پائے گا۔

        اسے  ہی تغابن کہتے ہیں  ۔ یعنی عاملین اہلِ باطل کے پاس سے ،   سبقت لے جانے والے پیچھے رہ جانے والوں   کے پاس سے  اور نیکی کی جانب جلدی کرنے والے بیٹھے رہنے والوں   کے پاس سے  اس طرح گزر جائیں   گے کہ انہیں   احساس تک نہ ہو گا۔ پھر دنیا کے دھوکے میں   مبتلا ہو جانے والا بندہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائے گا جبکہ عمل کرنے والا ہمیشہ کے لئے انعامات کی زیادتی پائے گا۔ چنانچہ،   

        اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’بندے پر آنے والی ہر وہ ساعت جس میں   وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر نہ کر سکے اس پر حسرت ہو گی اگرچہ وہ جنت میں   بھی داخل ہو جائے۔ ‘‘  ([1])

            ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں   جواس سے  بھی زیادہ سخت ہیں   یعنی:  ’’قیامت کے دن اس سے  اس ساعت کے متعلق پوچھ گچھ اور مواخذہ ہو گا۔ ‘‘  ([2])

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  جنت میں   داخل ہونے اور اس کی نعمتیں   پانے کے بعد حسرت سے  مراد جنت میں   عاملین کو ملنے والی نعمتوں   کی زیادتی سے  محرومی ہے جس کا تذکرہ ہم کر چکے ہیں  ۔ اس کے بعد دائمی محرومی دائمی حسرت کا باعث بن جائے گی یعنی بندہ دوسروں   سے  ایک درجہ نقصان میں   ہو گا اور پھر اسی نقصان میں   ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا،   اس کے باوجود اسے  نہ تو اس کی کوئی پروا ہو گی اور نہ ہی احساس،   

تاکہ اس پر جنت کی نعمتیں   کم نہ ہوں  ۔ ہر وہ لمحہ اور سانس جو بیداری اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے  خالی ہو خالی ساعت اور گھڑی کی طرح ہے۔ البتہ! محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف ساعت پر نص قائم کی اور اس سے  کم وقت کا تذکرہ نہ فرمایا،   کیونکہ عربوں   کے ہاں   عام طور پر لفظِ ساعت سب سے  قلیل وقت کے لئے بولا جاتا ہے اور اس لئے بھی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ ذیل کے موافق ہو جائے:

 فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (۳۴)  (پ۸،  الاعراف:  ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔

حکمت ِ سرکارحکمت ِ خداوندی ہے: 

        یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب موت کا وقت آ جائے گا تو لوگ ایک سانس کیا،   پلک جھپکنے کی بھی دیر نہ کریں   گے اور اسی طرح پلک جھپکنے سے  پہلے مریں   گے نہ ہی ایک سانس کی مقدار پہلے مریں   گے۔ پس مذکورہ آیتِ مبارکہ میں   ساعت کا ذکر ہے اور اس سے  کم وقت کا تذکرہ نہیں  ،   تاکہ کلام لوگوں   کی عمومی گفتگو اور عرف سے  خارج نہ ہو اور اس لئے بھی کہ اس سے  استدلال کیا جا سکے کہ یہ لفظ قلت میں   خود سے  کم تر یعنی سانس لینے اور پلک جھپکنے کی مقدار پر بھی بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے فرمان میں   ساعت کا ذکر فرمایا اور اس سے  کم تر کا ذکر نہ کیا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حکمت اور کلام اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّکی حکمت اور کلام کے معانی پر دلالت کرتا ہے اور بعض اوقات دنوں   کے تذکرے میں   ساعت اور اس سے  کم اوقات بھی شامل ہوتے ہیں   ۔ جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ (۲۴)  (پ۲۹،  الحآقۃ:  ۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کھاؤ اور پیؤ رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں   میں   آ گے بھیجا۔

            ایک قول میں   ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! یہی وہ دن ہیں   اور عنقریب یہ خالی ہی گزر جائیں   گے،   لہٰذا انہیں   خود سے  جدا ہونے اور اپنے پاس سے  گزر جانے سے  قبل ہی اعمالِ صالحہ سے  بھر دو۔

وقت کے متعلق سلف صالحین کے اقوال: 

        حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ اے ابنِ آدم! تو مختلف مرحلوں   کا مجموعہ ہے،   جب بھی تیرے پاس سے  دن یا رات گزرتے ہیں   تو تیرا ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور جب تیرے تمام مراحل ختم ہو جائیں   گے تو تو اپنی منزل یعنی جنت یا جہنم تک پہنچ جائے گا۔ پس یہ ساعات ہمیں   منتقل کرتی ہیں   اور دن ہماری زندگیوں   کو لپیٹتے یعنی ختم کرتے جاتے ہیں  ۔

            ایک حکیم و دانا شخص سے  منقول ہے کہ بندے کی زندگی کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ایک کشتی میں   بیٹھا ہو اور وہ کشتی  (اپنی منزل کی جانب)  رواں   دواں   ہو۔ اسی طرح بندہ بھی ہر لمحہ قیامت کے قریب ہوتا جا رہا ہے لیکن وہ اس بات سے  غافل ہے۔

            منقول ہے کہ بندے پر دن اور رات کی تمام ساعتیں   پیش کی جاتی ہیں   تو وہ ان ساعتوں   کو صف در صف چوبیس خزانے  (الماریاں  )  خیال کرتا ہے اور پاتا ہے کہ ہر خزانے میں   نعمت و لذت اور عطا و جزا ہے،   جب وہ دنیا کی ساعتوں   میں   اپنی نیکیاں   ان خزانوں   میں   بطورِ امانت رکھے گا تو کل بروزِ قیامت انہیں   پا کر خوش ہو گا اور ان پر رشک کرے گا،   مگر جب دنیا کی کوئی ساعت گزر جائے اور اس ساعت میں   اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر نہ کیا تو آخرت میں   اس ساعت کے خزانے کو خالی پائے گا کہ اس میں   کوئی عطا ہو گی نہ کوئی جزا۔ پس اسے  بہت برا لگے گا اور اس پر حسرت کرے گا کہ وہ ساعت اس سے  کیسے  فوت ہو گئی کہ اسنے اس میں   کوئی شے ذخیرہ نہ کی؟ تاکہ اس کی جزا بھی ذخیرہ شدہ پاتا اور پھر اس کے دل میں   رضا و سکون



[1]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی محبۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ، فصل فی ادامۃ    الخ، الحدیث: ۵۱۱، ج۱، ص۳۹۲ بتغیر قلیل

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۹۵۸۹،ج۳، ص۴۲۶



Total Pages: 332

Go To