Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں   مبتلا ہونے والا ہے اور جو یہ گمان کرے کہ وہ بغیر عمل کے جنت میں   داخل ہو جائے گا وہ محض تمنا کرنے والا ہی ہے۔ یعنی اسے  چاہئے کہ وہ ہر اس بات پر عمل کرے جو اس پر لازم ہے اور اس کی جانب مت دیکھے ،   بلکہ اس کی ادائیگی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسا رکھے اور امید رکھے کہ وہ اپنے کرم سے  اسے  شرفِ قبولیت عطا فرمائے گا اور اس بات سے  ڈرے کہ اگر اسنے عدل کیا تو واپس اسے  منہ پر دے مارے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے ان صابر بندوں   کی مدح و تعریف فرماتا ہے جو اپنے اعمال کی ادائیگی میں   اس پر بھروسا رکھتے ہیں   تو وہ انہیں   اجر و ثواب سے  نوازتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ (۵۸)  الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ (۵۹)  (پ۲۱،  العنکبوت:  ۵۹،  ۵۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہی اچھا اجر کام والوں   کا۔ وہ جنہوں  نے صبر کیا اور اپنے ربّ ہی پر بھروسا رکھتے ہیں  ۔

نعمتوں   کی زیادتی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل و کرم: 

        جنت میں   مزید نعمتوں   کا حصول اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم اور اس کی رحمت سے  ہی ممکن ہے،   یعنی آج دنیا میں   کسی عمل پر عطا کی گئی جزاکا دائمی ہونا اور اس دائمی جزاکے نتیجے میں   عامل کو دائمی زندگی بخشنا صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ کیا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہ فرامینِ مبارکہ نہیں   سنے: 

 (1)  وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًاؕ-ؕ (پ۲۵،  الشوری:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لئے اس میں   اور خوبی بڑھائیں  ۔

 (2)  لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ- (پ۱۱،  یونس:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بھلائی والوں   کے لئے بھلائی ہے اور اس سے  بھی زائد۔

 (3)  فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا (پ۲۲،  سبا:  ۳۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے لئے دونا دوں    (کئی گنا)  صلہ ان کے عمل کا بدلہ۔

 (4)  وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاؕ- (پ۸،  الانعام:  ۱۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہر ایک کے لئے ان کے کاموں   سے  درجے ہیں  ۔

دوہرا اجر و ثواب: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ  (پ۲۰،  القصص:  ۵۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہ بھلائی سے  برائی کو ٹالتے ہیں  ۔

            یعنی وہ تازہ نیکی کے ساتھ پرانی برائی کو دور کرتے ہیں  ۔ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   دنیا میں   دو باتوں   کا عامل بنایا یعنی صبر کرنے اور گزشتہ برائی کو نئی نیکی سے  دور کرنے کا تو انہیں   آخرت میں   اجر بھی دو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ اس سے  مراد یہ ہے کہ وہ اس برائی کو جو ان سے  پہلے سر زد ہو چکی تھی اس نیکی سے  دور کرتے ہیں   جس پر وہ برائی کے بعد عمل کرتے ہیں  ،   اس طرح آنے والی نیکی ان سے  گزشتہ گناہ کا عذاب دور کرنے والی ہو جاتی ہے۔

            پس مصیبت پر صبر کرنا،   صبر کی بہترین صورت ہے اور گزشتہ گناہوں   اور کوتاہیوں   پر سچی توبہ کرنا بہترین نیکی ہے۔ گویا کہ انہوں  نے دو عمل کئے: ایک تو انہوں  نے شہوت پر صبر کیا اور دوسرا توبہ کے ذریعے گزشتہ گناہوں   کو دور کر دیا۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں   دو اجر عطا فرمائے گا،   کیونکہ اسنے انہیں   دو عملوں   کی توفیق بخشی ہے،   اس لئے کہ نہ تو صبر اس کی مدد کے بغیر ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی دوسرا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ چنانچہ،   

            صبر کے متعلق اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

 وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ (پ۱۴،  النحل:  ۱۲۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور تمہارا صبر اللہ  ہی کی توفیق سے  ہے۔

             اور توبہ کے متعلق ارشاد فرمایا:

 تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِؕ- (پ۵،  النسآء:  ۹۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ اللہ  کے یہاں   اس کی توبہ ہے۔

            لہٰذا وہ تمام امور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے متعلق ہوں   نہ تو بندے کی مدد سے  سر انجام پاتے ہیں   اور نہ ہی اس کی جانب رجوع کرنے سے ،   اگر کسینے اس طرح کیا تو وہ مشرک ہو گا۔ نیکیوں   میں   سب سے  بہتر نیکی یہ ہے کہ دل میں   پیدا ہونے والے خیالات کے وقت رقیبِ حقیقی کا مراقبہ کیا جائے اور سب سے  زیادہ فضیلت والی عبادت یہ ہے کہ حقیقی محاسبہ کرنے والے کی خاطر اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے اور محبوبِ حقیقی کی طاعت پر قائم رہا جائے۔

کافروں   کی سزا میں   تفاوت: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حکمت یہی ہے کہ وہ جہنمیوں   میں   سے  بعض کو بعض سے  سرکشی اور فساد میں   زیادہ درجات سے  نوازے گا۔ پس کافروں   کی سزا قرآنِ کریم میں   مختلف مقامات



Total Pages: 332

Go To