Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تیرا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس طرح عبادت کرنا گویا کہ تو اسے  دیکھ رہا ہے۔ ‘‘   ([1])

اچھے و برے اعمال و اقوال والے بندے:

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نیک بندوں   کو نیک اعمال کے ساتھ خاص فرمایا اور برے بندوں   کو برے اعمال کی آزمائش میں   مبتلا کیا اور وہ اس تمام معاملے کو  (یعنی بندوں   کے حالات لوحِ محفوظ میں   لکھنے کو)  اپنے علم کی بناپر پایۂ تکمیل تک پہنچا چکا ہے،   مگر اسنے اپنی حکمت سے  اسے  مقدر کر کے اپنے لطف و کرم سے  مخلوق سے  مخفی رکھا ہے۔ چنانچہ ارشادفرمایا:

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ (پ۱۸،  النور:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: گندیاں   گندوں   کے لئے۔

            اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   منقول ہے کہ برے اقوال و افعال برے بندوں   کے لئے ہیں  ۔ مزید ارشاد

وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ (پ۱۸،  النور:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ستھریاں   ستھروں   کے لئے۔

            اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   منقول ہے کہ نیک اور اچھے اقوال و افعال نیک بندوں   کے لئے ہیں  ۔ ([2])  

اچھے و برے خاتمہ والے لوگ: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اچھے خاتمے اور اپنے دشمنوں   کے برے خاتمے کے متعلق ارشاد فرمایا:

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ طَیِّبِیْنَۙ-یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُۙ-ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۳۲)   (پ۱۴،  النحل:  ۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  وہ جن کی جان نکالتے ہیں   فرشتے ستھرے پن میں   یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر جنّت میں   جاؤ بدلہ اپنے کئے کا۔

            اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   منقول ہے کہ جن لوگوں   کی زندگی پاکیزہ ہو ان کی موت بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور جن کے اعمال عمدہ ہوں   ان کے لئے موت بھی عمدہ ہو تی ہے۔ ([3]) اپنی جانوں   پر ظلم کرنے والوں   کے بارے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: 

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ-قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ-قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ-فَاُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ (۹۷)  (پ۵،  النسآء:  ۹۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں   اس حال میں   کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے اُن سے  فرشتے کہتے ہیں   تم کا ہے میں   تھے کہتے ہیں   کہ ہم زمین میں   کمزور تھے کہتے ہیں   کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں   ہجرت کرتے تو ایسوں   کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔

            پس منقول ہے کہ جن کی زندگیاں   اور اعمال تاریک ہوئے تو ان کی قبریں   اور اُخروی ٹھکانے بھی تاریک ہو گئے۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے جو بھی اس کا یقینی مشاہدہ کرے گا اس کا مراقبہ دائمی ہو جائے گا،   معاملہ بہترین ہو گا اور اس کے اورادو وظائف میں   تسلسل برقرار رہے گا اور نیکیوں   کی بھی کثرت ہو جائے گی۔ پس اس وقت یقین کی صفائی اور دائمی نعمتوں   کی زیادتی کی وجہ سے  اس کے مشاہدے کے ذرائع ختم ہو جائیں   گے اور وہ ان بندوں   میں   شمار ہونے لگے گا جن کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس آیتِ مبارکہ میں   تذکرہ فرمایا ہے:

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (۶۱)  (پ۲۳،  الصّٰٓفّٰت:  ۶۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ایسی ہی بات کے لئے کامیوں   کو کام کرنا چاہئے۔

            اسی کی مثل ارشاد فرمایا:

وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ (۲۶)   (پ۳۰،  المطففین:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اسی پر چاہئے کہ للچائیں   للچانے والے۔

            نیز اس کا شمار ان لوگوں   میں   ہونے لگے گا جن کے اوصاف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   مذکور ہیں  :

اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ (۶۱)  (پ۱۸،  المؤمنون:  ۶۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ لوگ بھلائیوں   میں   جلدی کرتے ہیں   اور یہی سب سے  پہلے انہیں   پہنچے۔      یعنی وہ موت کی جانب تیزی سے  جاتے ہیں   اور جو اعمالِ خیر فوت ہو جائیں   ان کی ادائیگی پہلے کرتے ہیں  ،   غافل اور باطل افراد سے  بڑی تیزی سے  آگے بڑھ جاتے ہیں  ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطابغیر عوض کے ہوتی ہے: 

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  ہو سکتا ہے کوئی غلط باتیں   کرنے والا حکیم عَزَّ وَجَلَّکی حکمت سے  غافل و جاہل انسان ہمارے متعلق یہ



[1]     صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الایمان ما ھو     الخ، الحدیث: ۹۷، ص۶۸۱ ملتقطاً

[2]     المفردات للراغب اصفھانی، کتاب الخاء، ص۲۷۳، کتاب الطاء، ص۵۲۷ بتغیر

[3]     تفسیر البغوی، پ۱۴، النحل، تحت الایۃ۲۶، ج۳، ص۵۵



Total Pages: 332

Go To