Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ (۶۰)  (پ۲۷،  الرحمٰن:  ۶۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔

ایمان کا بدلہ: 

            ایک حدیث ِ پاک میں   ہے کہ’’ہم نے جسے  نعمت ِ ایمان سے  نوازا اس کی جزاجنت ہے۔ ‘‘  ([1])

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ  (لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)  کی جزاسوائے دیدارِ باری تعالیٰ کے کچھ نہیں  اور جنت جزائے اعمال ہے،   کیا آپ نے ملاحظہ نہیں   فرمایا کہ اگر آج یہاں   کسی کو ایمان سے  محروم کر دیا گیا تو کل وہ جنت سے  بھی محروم ہو گا اور اگر آج اسے  اسلام سے  روک دیا گیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکبھی بھی اس کی مغفرت نہیں   فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ (پ۶،  المآئدۃ:  ۷۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بے شک  جواللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہنے اس پر جنّت حرام کردی۔

            مزید ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ (۳۴)   (پ۲۶،  محمد:  ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک جنہوں  نے کفر کیا اوراللہ  کی راہ سے  روکا پھر کافر ہی مرگئے تواللہ  ہر گز انہیں   نہ بخشے گا۔

            پس یہ ایسا معاملہ ہے جس میں   کسی حیلہ کی گنجائش ہے نہ ہی کوئی راہِ نجات ہے۔

اہلِ تقویٰ و اہلِ مغفرت: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ (۵۶)   (پ۲۹،  المدثر:  ۵۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا۔

            منقول ہے کہ وہی لوگ اہل کہلانے کے حق دار ہیں   جنہیں   تقویٰ دیا گیا اور جنہیں   تقویٰ سے  نوازا جائے وہی اس بات کے اہل ہیں   کہ انہیں   بخش بھی دیا جائے۔ ([2])

            اس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مزید فرامینِ عالیشان درج ذیل ہیں  :

 (1)  اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ- (پ۲۶،  الفتح:  ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔

 (2)  وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ (۱۰)  (پ۲۶،  الحجرات:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اوراللہ سے  ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔

 (3)  اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (۵۶)  (پ۸،  الاعراف:  ۵۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  اللہ کی رحمت نیکوں   سے  قریب ہے۔

 (4)  تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ (پ۸،  الانعام:  ۱۵۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  پورا احسان کرنے کو اس پر جو نکوکار ہے۔

 (5)  وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ (۵۸)  (پ۱،  البقرۃ:  ۵۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور قریب ہے کہ نیکی والوں   کو اور زیادہ دیں  ۔

 (6)  مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ- (پ۱۰،  التوبۃ:  ۹۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  نیکی والوں   پر کوئی راہ نہیں  ۔

 (7)  وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًاؕ- (پ۲۵،  الشوری:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لئے اس میں   اور خوبی بڑھائیں  ۔

            پس جس کے اعمال نیک ہوں   گے وہ محسنین میں   سے  ہو گا اور جس کے اعمال برے ہوں   گے وہ گناہ گار شمار ہو گا۔ چونکہ جنت اور دوزخ کی تخلیق مخلوق کی تخلیق سے  پہلے ہوئی ،   لہٰذا جنت و دوزخ میں   سے  بندوں   کا جو حصہ ہے وہ بھی لکھا جا چکا ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی: ’’احسان کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ

 



[1]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی محبۃ اللہ عزوجل فصل معانی المحبۃ،الحدیث: ۴۲۷، ج۱، ص۳۷۲

[2]     تفسیر البغوی، پ۲۹، المدثر، تحت الایۃ ۵۶، ج۴، ص۳۸۸ مفھوماً



Total Pages: 332

Go To