Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

طاری کر دیا اور ہر ایک کو اس کے اختیار کئے ہوئے عمل پر چلا دیا،   اس کے ساتھ ہی ان پر حجت واقع ہو گئی،   کل بروزِ قیامت ان کی آنکھوں   کے سامنے اسے  ظاہر فرمایا جائے گا کہ جسے  آج ان سے  چھپایا ہوا ہے۔

جنتی محل کا کنگرہ ٹوٹ گیا: 

            ایک عابد فرماتے ہیں   میں  نے سحری کے وقت دو رکعت ادا کیں  ،   پھر سو گیا تو کیا دیکھتا ہوں   کہ ایک بلند و بالا  سفید کنگروں   والا محل ہے گویا کہ وہ ستاروں   کا ہو۔ میں  نے اسے  اچھا جانا اور پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ تو بتایا گیا کہ یہ میرا ہی ہے اور یہ دو رکعتوں   کا ثواب ہے۔ یہ سن کر میں   بے حد خوش ہوا اور اس کے گرد چکر لگانے لگا،   اچانک میں  نے دیکھا کہ اس کے کونے کا ایک کنگرہ  (کُنْ گُرَہ)  گرا ہوا ہے،   جس سے  وہ محل بدنما لگ رہا تھا،   مجھے دکھ ہوا تو میں  نے کہا: ’’کاش یہ کنگرہ اس جگہ بلندی پر ہوتا تو اس محل کا حسن کامل ہوتا کیونکہ اس ٹوٹی ہوئی جگہنے اسے  عیب دار بنا دیا ہے۔ ‘‘  تو وہاں   موجود ایک غلامنے مجھ سے  کہا کہ یہ کنگرہ  (کُنْ گُرَہ)  محل کے اسی مقام پر نصب تھا،   مگر جب آپ اپنی نماز میں   کسی دوسری جانب متوجہ ہوئے تو یہ گر گیا۔

حوروں   کے حسن میں   اضافہ: 

            ایک زاہد سے  مروی ہے کہ انہیں   اپنے جنتی مقام کا کشف ہوا تو انہوں  نے وہاں   حوریں   دیکھیں   جنہوں  نے بتایا کہ وہ ان کی بیویاں   ہیں   اور جب وہ نکلنے لگے تو حوریں   ان سے  بڑی محبت و لجاجت سے  کہنے لگیں  : ہم آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا واسطہ دیتی ہیں   کہ اپنے اعمال کو مزید آراستہ کریں   کیونکہ جب بھی آپ اپنے اعمال آراستہ کرتے ہیں   تو آپ کی خاطر ہمارے حسن میں   اضافہ ہو جاتا ہے اور ہم پر نعمتیں   بھی زائد کر دی جاتی ہیں  ۔

جنتی پھل گر گیا: 

        حضرت سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا  فرماتی ہیں   کہ ایک رات سحری کے وقت میں  نے کچھ تسبیحات پڑھیں  ،   پھر سو گئی،   دیکھتی ہوں   کہ ایک تر وتازہ اور سر سبز و شاداب درخت ہے جو اس قدر بڑا اور حسین ہے کہ بیان نہیں   کیا جا سکتا،   اس پر تین قسم کے پھل لگے ہوئے تھے،   میں   دنیا میں   ایسے  کسی پھل کو نہیں   جانتی،   وہ پھل کنواری لڑکیوں   کی چھاتی کی طرح دکھائی دیتے تھے،   کچھ سفید تھے،   تو کچھ سرخ اور کچھ زرد۔ وہ سب اس درخت میں   چاند اور سورج کی طرح چمک دمک رہے تھے۔ فرماتی ہیں   کہ مجھے وہ درخت بہت اچھا لگا،   میں  نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ تو ایک کہنے والےنے مجھے بتایا کہ یہ آپ کا ہے،   جس کا سبب آپ کی وہ تسبیحات ہیں   جو ابھی ابھی آپ نے پڑھی ہیں  ۔ فرماتی ہیں   میں   اس درخت کے ارد گرد گھومنے لگی،   تو سنہری رنگ کے کچھ پھل زمین پر گرے ہوئے پائے،   میں  نے کہا:  ’’کاش! یہ پھل بھی ان پھلوں   کے ساتھ درخت پر موجود ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ ‘‘  ایک شخص نے مجھ سے  کہا کہ یہ وہیں   لگے ہوئے تھے مگر جب آپ نے ایک تسبیح پڑھی تو سوچنے لگیں   کہ کیا گندھاہوا آٹا خمیرہ ہو گیا ہے یا نہیں   تو یہ پھل گر گئے۔

            پس یہ تمام باتیں اہلِ بصیرت کے لئے عبرت اور اہلِ تقویٰ و اہلِ ذکر کےلئے نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

٭40 دن کا فاقہ٭

صاحبِ قوت حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے دادا مرشد حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبدُاللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی 40 دن بھوکے رہتے پھر کچھ کھاتے ۔  (احیاءُ العلوم،   ج۳،   ص۹۸)

مراقبہ کا تیسرا مقام

قیامت کی ہولناکی: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  منقول ہے کہ اگر بندہ دنیا کے پہلے دن سے  لے کر قیامِ قیامت تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت و عبادت میں   مصروف رہے تب بھی قیامت کے دن اپنے اس عمل کو حقیر جانے گا جب وہ اس دن کے زلزلے اور ہولناکیاں   دیکھے گا۔

موت کی سختی: 

            سرکارِ مدینہ،   راحت قلب و سینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ملک الموت کا روح قبض کرنا تلوار کی ایک ہزار ضربوں   سے  سخت ہے۔  ‘‘  ([1])

موت اور دخولِ جنت کے درمیان کی ہولناکیاں  :

            اگر موت کا ایک بال برابر درد تمام مخلوق پر ڈال دیا جائے تو وہ سب مر جائیں  ،   بے شک  مخلوق اور اس کی موت اور دخولِ جنت کے درمیان ایک لاکھ ہولناکیاں   ہیں  ،   ان میں   سے  ہر ہولناکی موت سے  ایک لاکھ گنا زائد ہے،   جن سے  بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے  ہی نجات پا سکے گا۔ پس اسے  ایک لاکھ ایسی رحمتوں   کی ضرورت ہو گی جو اسے  ان ہولناکیوں   سے  نجات دیں  ۔ رحمتوں   کی یہ تعداد ایسی ایک لاکھ نیکیوں   پر منقسم ہے جو اسے  دنیا میں   عطا کی گئیں   اور جو ظہورِ رحمت کا ٹھکانا اور کل بروزِ قیامت عطائے رحمت کا راستہ ہوں   گی۔

            رب حکیم عَزَّ وَجَلَّکی یہی حکمت اوررب رحیم عَزَّ وَجَلَّکی یہی مدبرانہ تقسیم ہے کیونکہ نیک اعمال جزاکے راستے ہیں   اور تمام نیکیاں   ایک ہی رحمت سے  ہیں  ،   جس کے سبب بندے کے لئے نجات کا راستہ پیدا ہوا۔ چونکہ ثواب کی جگہیں   اعمال کے راستوں   میں   ہوتی ہیں  ،   لہٰذا پہلی بخشش و عطا یہاں   دنیا میں   عطا ہو گی۔ مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہترین توفیق اور اس کی عنایت کا لطف یہاں   دنیا میں   حاصل ہو گا۔ جبکہ بروزِ قیامت جو جزاملے گی وہ اس کی رحمت کے فضل و کرم اور اس کی نعمت کی تکمیل سے  ہو گی اور یہی غالب علم والے کا اندازہ ہے جیسا کہ اللہ

عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

 



[1]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۴۰۰ عبدالعزیز بن ابی رواد، الحدیث: ۱۱۹۳۴، ج۸، ص۲۱۸



Total Pages: 332

Go To