Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

امام یافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْکَافِینے مِرْاٰۃُ الْجِنَان میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو شَیْخُ الْاِسْلَام قُدْوَۃُ الْاَوْلِیاءِ الْکِرَام یعنی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے سردار و پیشوا کے لقب سے  یاد فرمایا ہے۔  ([1]) اور اَعْلَام لِلزِّرْکلی میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو واعظ،   زاهد،   فقيه کے القابات سے  یاد فرمایا گیا ہے۔  ([2]) ابو العباس شمس الدين احمد بن محمد بن ابي بكر بن خِلِّكَان  (متوفی ۶۸۱ھ)  وفیات الاعیان میں   فرماتے ہیں   کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار ان صالحین میں   ہوتا ہے جو بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔  ([3])

اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کو جن پیارے القابات سے  یاد فرمایا ہے ان کا تذکرہ بالتفصیل گزر چکا ہے۔ اور عاشقِ اعلیٰ حضرت،   شیخ طریقت،   امیرِ اہلسنّت،   بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فیضانِ سنت میں   ارشاد فرماتے ہیں   کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو طالِبُ المکّی پائے کے عالم،   مُحَدِّث ومُفکِّر بَہُت بڑے ولیُّ اللہ اور تصوُّف کے زبردست امام گزرے ہیں  ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام محمدغَزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَالینے تصوُّف میں   ان کی کتاب قُوْتُ الْقُلُوب سے  خوب اِستِفادہ فرمایا ہے۔ ([4])

وصال: 

            شیخِ طریقت،   امیرِ اہلسنّت،   بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سنت میں   نقل فرماتے ہیں  : بوقتِ وفات کسینے حضرت سیِّدُنا ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی خدمت سراپا عظمت میں   عرض کیا: حضور مجھے کچھ وصیت فرمائیے۔ فرمایا: اگر میرا خاتمہ بالخیر ہو جائے تو میرے جنازے پر بادام و شکر لٹانا۔ عرض کیا: مجھے کیسے  پتا چلے گا؟ فرمایا: میرے پاس بیٹھے رہو اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں   دو اگر میں  نے تمہارا ہاتھ بَقُوَّت دبا لیا تو سمجھ لینا میرا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔ چنانچہ،   ہاتھ میں   ہاتھ دے دیا جب وقتِ رخصت قریب آیا تو آپ نے اس کا ہاتھ زور سے  دبا لیا اور روح قفسِ عنصری سے  پرواز کر گئی،   جب جنازہ مبارکہ اٹھایا گیا تو اس پر شکر اور بادام لٹائے گئے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یومِ عرس ۶ جمادی الآخرہ ۳۸۶ ھ ہے۔ بغدادِ معلی میں   مقبرہ مالکیہ میں   آپ کا مزار فائض الانوار زیارت گاہِ خواص وعام ہے۔  ([5])

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے  نکلے

محبوب کی گلیوں   سے  ذرا گھوم کے نکلے

تصانیف: 

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تصوف اور توحید پر کتب تحریر فرمائیں  ،   آپ کی مشہور تصنیف ’’قوت القلوب ‘‘  ہے جس کے متعلق کَشْفُ الظُّنُون میں   ہے کہ طریقت کی باریکیوں   میں   اسلام میں   اس کی مثل کوئی کتاب نہیں   لکھی گئی اور نہ ہی حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  پہلے کسینے تصوف کی ان باریکیوں   کو احاطۂ تحریر میں   لانے کی جرأت کی تھی۔ ([6])

٭٭٭

پانچواں   مرحلہ

کچھ قُوتُ الْقُلُوب کے بارے میں  

قوت القلوب کا شمار تصوف کی ابتدائی اور بنیادی کتب میں   ہوتا ہے مگر یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے  اس موضوع پر پہلی کتاب ہے،   چوتھی صدی ہجری میں   اگرچہ علم تصوف پر دو کتابیں   لکھی گئی یعنی اللمع اور قوت القلوب۔ دونوں   علما و مشائخ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کے ہاں   مقبول ہوئیں   مگر قوت القلوبنے فقید المثال مقبولیت حاصل کی جس کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ اکثر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے اس سے  نہ صرف استفادہ کیا بلکہ اس کے اسلوب کو بھی اپنایا ہے۔

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی کتاب قوت القلوب کی بے شمار خوبیوں   میں   سے  ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپسے  پہلے اس اسلوبِ بیان کو کسینے اختیار نہیں   کیا،   اس میں   آپ نے جہاں   علم تصوف کے بند دروازوں   کو کھولا ہے وہیں   درست معانی اور خوبصورت الفاظ بھی اس کتاب میں   جمع کر دیئے ہیں  ،   اس کے ساتھ ساتھ علوم مع اصول و فروع اس طرح ذکر کیے ہیں   کہ بلاشبہ یہ کتاب اُس علم و فن کی کسی بھی کتاب کا بدل قرار دی جا سکتی ہے مگر اس علم کی کوئی بھی کتاب قوت القلوب کا بدل نہیں   بن سکتی مثلاً قوت القلوب کو علم تصوف کے ساتھ ساتھ بلاشبہ اصولِ حدیث  ([7]) کی کسی بھی ابتدائی و بنیادی کتاب کا بدل قرار دیا جا سکتا ہے مگر اصولِ حدیث کی کوئی بھی کتاب قوت القلوب کا بدل نہیں   بن سکتی اور یہی اس کتاب کی انفرادیت ہے۔ اگرچہ بعض کتب میں   یہی اسلوب اپنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر ان سب کی اصل قوت ہی ہے۔

 



[1]     مراۃ الجنان و عبرۃ الیقظان، ج ۲، ص ۳۲۳

[2]     اعلام للزرکلی، ج ۶، ص۲۷۴

[3]     وفیات الاعیان، ج ۴، ص۱۲۱

[4]     فیضانِ سنت، ج ۱، ص ۶۷۱   ٭المنتظم لابن جوزی، ج۱۴، ص۳۸۵

[5]     فیضانِ سنت، ج ۱، ص ۶۷۱     

[6]     کشف الظنون، ج ۲، ص۱۳۶۱

[7]     قوت القلوب کی 31ویں  فصل کے آخری حصہ کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلاشبہ صاحب قوتنے جو بنیادی اصول بیان کیے ہیں  ان کی بنا پر اسے کسی بھی اصول حدیث کی کتاب کا بدل قرار دیا جا سکتا ہے یہاں  تک کہ آپ کے ذکر کردہ انہی اصولوں  میں  سے ایک اصول کو اعلیٰ حضرتنے بھی فتاویٰ رضویہ شریف میں  بطورِ دلیل ذکر کیا ہے۔ جس کا مطالعہ آپ اسی مقدمہ میں  ’’اعلیٰ حضرت اور صاحبِ قوت‘‘ کے عنوان کے علاوہ ’’احادیث و آثار سے استدلال‘‘ کے عنوان کے تحت بھی کر سکتے ہیں ۔



Total Pages: 332

Go To