Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            مزید ارشادفرمایا:

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌؕ-ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ-یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ (۱۶)  (پ۲۳،  الزمر:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں   اور ان کے نیچے پہاڑ اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں   کو اے میرے بندو تم مجھ سے  ڈرو۔

            منقول ہے کہ بندہ معرفت کے بعد اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّکی پہلی بار نافرمانی کرنے کے فوراً بعد آگ کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کے بعد وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیت میں   ہوتا ہے۔ یقیناً ہر ایک میں   کوئی نہ کوئی بری عادت ہوتی ہے جس سے  اس کے آگ میں   مبتلا ہو جانے سے  ڈرا جاتا ہے۔

خوفِ الٰہی کی حقیقت: 

            حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ اُس خائف کا خوف کبھی بھی صحیح نہیں   ہو سکتا جو یہ گمان کرتا ہو کہ وہ آگ میں   داخل نہیں   ہو گا اور اُس شخص کا خوف بھی سچا نہیں   ہو سکتا جو یہ گمان کرے کہ وہ آگ میں   داخل ہو گا۔ پس بندے کا یہ گمان کرنا ہی صحیح ہے کہ وہ آگ سے  چھٹکارا پا لے گا یعنی خوف کی ایک حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ آگ میں   داخل ہونے سے  ڈرے اور دوسرے یہ کہ اس میں   ہمیشہ رہنے سے  ڈرتا رہے۔

            اسی قسم کا ایک قول حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہے کہ ان کے سامنے ایک ایسے  شخص کاذکر کیا گیا جسے  جہنم سے  ایک ہزار سال کے بعد نکالا جائے گا تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رونے لگے اور فرمایا: ’’اےکاش! میں   بھی اس کی مثل ہوتا۔ ‘‘  ([1])

خود کو ’’عالم اور جنتی کہنا ‘‘  کیسا؟

            سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے یہ کہا کہ میں   جنتی ہوں   تو وہ جہنمی ہے اور جس نے کہا میں   عالم ہوں   تو وہ جاہل ہے۔ ‘‘  ([2])

اپنا مقام و مرتبہ پہچاننے کا طریقہ: 

        سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو جاننا چاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں   اس کے

مقام و مرتبہ کی کیفیت کیا ہے تو اسے  دیکھ لینا چاہئے کہ اس کے دل میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مقام و مرتبہ کی کیفیت کیا ہے۔ ‘‘   ([3])

مراقبہ کا دوسرا مقام

مقاماتِ جنت و جہنم کی معرفت:

        بندہ یقینی طور پر یہ بھی جان لیتا ہے کہ ہر نیک عمل کے لئے جنت میں   ایک نعمت اور عالم برزخ میں   آرام و سکون ہے اور اس کے ہر اچھے عمل اور خالص معرفت کا جنت میں   ایک مقام ہے جس کا ایک حصہ یہاں   عالم دنیا میں   تقسیم کیا گیا ہے تا کہ بندے کو اس کے حسنِ معاملہ کا اجر عطا کیا جائے اور وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس کے ہر برے عمل اور جہالت کے لئے آخرت میں   عذاب،   عالم برزخ میں   تکلیف اور جہنم میں   ایک ٹھکانا ہے اور یہاں   اس دنیا میں   صرف اس کا ایک حصہ تقسیم کیا گیا ہے تا کہ اس پر عمل کیا جائے۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے خیر و شر کے اس حصے کو چھپا کر ان کے اعمال کو ان پر مرتب ہونے والے احکام کی وجہ سے  ظاہر فرما دیا اور پھر اپنی حکمت سے  دنیا و آخرت کی جانب جانے والے نیکی و بدی کے دو راستے ظاہر فرمائے۔ اس کے بعد ان دونوں   کے معاملات کو مقدم کر کے خیر و شر میں   سے  ہر ایک کی جزاو سزا مؤخر کر دی تا کہ بندے کی جانب سے  افعال کی بجا آوری کو ثابت کیا جا سکے۔

            بندے کا ان اعمال کی بجا آوری کی کوشش کرتے ہوئے ابتلاو آزمائش میں   مبتلا ہونے کا سبب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر اس نفس کو آزمائے جو اس کی رحمت اور فضل و کرم اور محبت پانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال کے متعلق کوئی سوال نہیں   کیا جا سکتا،   اس لئے کہ وہ غالب،   بادشاہ اور قہار و جبار ہے،   بلکہ بندوں   سے  سوال کیا جائے گا کیونکہ وہ مغلوب و مجبور اور غلام ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّبے مثال ہے،   کیونکہ وہ حجت اور یکسانیت سے  پاک ہے اور بندوں   میں   سے  کسی کے برابر نہیں   کیونکہ وہ اندازوں   اور حد بندی سے  بالاتر ہے۔ بلکہ اسی کے لئے حجت ہے اور ہر شے میں   اسی کی قدرت نافذ ہے،   اس کی مثل کوئی شے نہیں  ۔

توحید پر دلالت کرنے والی آیاتِ بینات: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  جو کچھ ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توحید یعنی اس کی مشیت،   افعال اور اس کے شرک سے  پاک اور بے مثل ہونے کے متعلق ذکر کیا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   ان سب باتوں   کو محکم آیاتِ بینات میں   ذکر کیا ہے اور اس شخص پر تعجب کیا ہے جو خالق و مخلوق کو احکام میں   ہم پلہ قرار دیتا ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس شخص کے اس عمل کو نعمت کا انکار اور اپنی سلطنت میں   شرک قرار دیا ہے۔

        پس اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس میں   اسنے مشرکین اور ان کے واضح گمراہی میں   مبتلا ہونے کے بعد اپنے پیروکاروں   کو گمراہ کرنے کے متعلق خبر دی ہے ،   نیز مشرکین کے احکام میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّاور مخلوق کے درمیان یکسانیت قائم کرنے کی گمراہی کے متعلق بھی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ (۹۶)  تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ (۹۷)  اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۹۸) وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ (۹۹)  (پ۱۹،  الشعرٰآء:  ۹۶تا۹۹)

 



[1]     احیاء علوم الدین، کتاب التوبہ، باب بیان کیفیۃ تورع     الخ، ج۴، ص۳۳

[2]     المعجم الصغیر ، الحدیث: ۱۷۶، ج۱، ص۶۵

[3]     تفسیر روح البیان، پ۱، البقرۃ، تحت الایۃ ۱۰۳، ج۱، ص۱۹۶من اراد بدلہ من سرہ



Total Pages: 332

Go To