Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

(3)  اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ- (پ۲،  البقرۃ:  ۲۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  کیا اس گمان میں   ہو کہ جنت میں   چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں   کی سی روداد نہ آئی۔

 (4)  اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-  (پ۲۵،  الجاثیۃ:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا جنہوں  نے برائیوں   کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں   کہ ہم انہیں   ان جیسا کردیں   گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔

 (5)  سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ (۲۱)  (پ۲۰،  العنکبوت:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہی بُرا حکم لگاتے ہیں  ۔

                پس ان کے گمانوں   کو باطل قرار دیا اور ان کے حکم کو رد کر دیا پھر اپنا فیصلہ ارشاد فرمایا:

سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْؕ- (پ۲۵،  الجاثیۃ:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اِن کی اُن کی زندگی اور موت برابر ہو جائے۔

            یعنی جس طرح وہ زندگی میں   احسان اور نیک عمل کیا کرتے تھے تو موت بھی ان کے لئے ایک اچھی جزاہو گی اور جیسے  زندگی میں   فساد برپا کرتے اور برے اعمال سرانجام دیا کرتے تھے تو موت بھی ان کے لئے بری ہو گی۔ چنانچہ،   

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہدایت یافتہ اور عقل مندوں   کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے حکم کو بڑی توجہ سے  سنتے ہیں  ،   پس ارشاد فرمایا:

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ- (پ۲۳،  الزمر:  ۱۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جو کان لگا کر بات سنیں   پھر اس کے بہتر پر چلیں  ۔

            منقول ہے کہ یہاں   القَوْلسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عزیمتیں   اور اس کی وعید سننا مراد ہے۔ ([1])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ (۴۷)  (پ۲۴،  الزمر:  ۴۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور انہیں   اللہ کی طرف سے  وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں   نہ تھی۔

        منقول ہے کہ ایسا ان کے جھوٹے گمان اور دھوکے میں   مبتلا کرنے والی نقصان دہ امید سے  پہلے ہوا۔

            ایک قول کے مطابق وہ ایسے  عمل کرتے جنہیں   نیکی گمان کیا کرتے تھے مگرحساب کتاب کے وقت انہیں   معلوم ہو گا کہ وہ سب گناہ تھے۔ صحیح عمل وہی ہے جو حساب کے بعد بھی صحیح ہی ہو اور حق وہ ہے جو میزانِ عدل میں   بھاری ہو۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- (پ۸،  الاعراف:  ۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے۔

        ایک قول ہے کہ یہاں   حق سے  مراد علم و عمل ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرامینِ مبارکہ ہیں  :

 (1)  وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ (پ۸،  الاعراف:  ۵۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور بے شک  ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے  ہم نے ایک بڑے علم سے  مفصل کیا۔

 (2)  فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ (پ۸،  الاعراف:  ۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ضرور ہم ان کو بتادیں   گے اپنے علم سے ۔

 (3)  وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ (۴۸)  (پ۲۴،  الزمر:  ۴۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں   کُھل گئیں   اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے۔

            منقول ہے کہ وہ گناہ کرنے میں   تو جلدی کرتے مگر توبہ میں   تاخیر کرتے رہتے اور اس کے ساتھ ساتھ مغفرت کی امید بھی رکھتے۔

            یہ آیتِ مبارکہ خائفین کو غم میں   مبتلا کرنے والی اور عارفین کو خوف دلانے والی ہے۔ اس حال میں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات کی خبر دی ہے کہ اسنے کافروں   کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ پھر اسنے مومنین کو حکم دیا کہ وہ آگ سے  بچتے رہیں   اور کافروں   کے جہنمی اوصاف ذکر فرمائے اور اپنے بندوں   کو اس سے  ڈرایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ  اتَّقُوا  النَّارَ  الَّتِیْۤ  اُعِدَّتْ  لِلْكٰفِرِیْنَۚ (۱۳۱)  (پ۴،  اٰل عمران:  ۱۳۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  اور اُس آگ سے  بچو جوکافروں   کے لئے تیار رکھی ہے۔

 



[1]     تفسیر البغوی، پ۲۳، الزمر، تحت الایۃ۱۸، ج۴، ص۶۵ بتغیر قلیل



Total Pages: 332

Go To