Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ (۹)  (پ۲۵،  الدخان:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  بلکہ وہ شک میں   پڑے کھیل رہے ہیں  ۔

            اس کے بعد انہیں   دو مرتبہ وعید سنائی اور وہ نعمتیں   مانگنے سے  ڈرایا جن میں   مشغول ہو گئے تھے یعنی وہ دنیاوی نعمتوں   کی کثرت میں   مصروف ہو گئے۔ ایک قول کے مطابق اس سے  ان کا مال جمع کرنا اور پھر اسے  راہِ خدا میں   خرچ کرنے سے  روکے رکھنا مراد ہے۔

مانع توبہ باتیں  : 

            تین امور بندوں   کو توبہ سے  منقطع کر دیتے ہیں   اور توبہ کرنے والوں   کو استقامت پر نہیں   رہنے دیتے:

 (۱) … کمائی  (۲) … خرچ کرنا  (۳) … مال جمع کرنا۔

            یہ اسباب مخلوق سے  تعلق رکھتے ہیں  ،   یعنی مخلوق کے وجود سے  ان کا وجود وابستہ ہے اور مخلوق سے  جدائی کے سبب یہ بھی ختم ہو جاتے ہیں  ۔ پس جو شخص ان تینوں   اسباب سے  جدا ہو جائے تو مخلوق میں   زاہد شمار ہو گا اور جو مخلوق میں   رغبت رکھے گا تو وہ ان اسباب کو بھی مرغوب جانے گا۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں   جو لوگوں   سے  میل جول رکھے گا وہ ان کی خاطر مدارات بھی کرے گا اور جو ان کی خاطر مدارات کرے گا وہ ان کے لئے ریاکاری بھی کرے گا اور جو ان سے  ریاکاری کرے گا وہ اسی مصیبت میں   گرفتار ہو گا جس میں   وہ گرفتار ہوئے اور جیسے  وہ ہلاک ہوئے ایسے  ہی یہ بھی ہلاک ہو جائے گا۔

راہِ حق پانے کا ذریعہ: 

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں  نے مخلوق سے  کنارہ کش ہونے والے ایک ابدال سے  عرض کی: ’’راہِ حق کیسے  پائی جا سکتی ہے؟ ‘‘  ایک قول ہے کہ میں  نے عرض کی:  ’’میری کسی ایسے  عمل پر راہنمائی فرمایئے جس پر عمل کروں   تو پاؤں   کہ میرے دل کو ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معیت حاصل ہے۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا:  ’’مخلوق کو مت دیکھو کیونکہ اسے  دیکھنا ظلمت ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی:  ’’میرے لئے ایسا کئے بغیر کوئی چارہ نہیں  ۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’ان کی باتیں   مت سنا کرو،   کیونکہ ان کی باتیں   قساوتِ قلبی کا باعث ہوتی ہیں  ۔ ‘‘  عرض کی: ’’اس کے بغیر بھی میرے لئے کوئی چارہ نہیں  ۔ ‘‘  تو فرمانے لگے:  ’’ان کے ساتھ معاملات مت کیا کرو کیونکہ ان سے  معاملات کرنا وحشت کا سبب ہے۔ ‘‘  عرض کی: ’’میں   تو ہر لمحہ ان کے ساتھ ہوتا ہوں   اور ان سے  معاملات کئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں   پاتا۔ ‘‘  تو فرمانے لگے: ’’پھر ان کے ساتھ سکونت مت اختیار کرو کیونکہ ان کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہلاکت ہے۔ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’یہ بیماری بھی مجھ میں   ہے۔ ‘‘  تو فرمانے لگے:  ’’اے فلاں  ! کیا تو غافلین کو دیکھتا رہتا ہے،   جاہلین کی باتیں   سنتا رہتا ہے،   باطل لوگوں   کے ساتھ معاملات کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنے دل میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی دائمی معیت پائے! یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں   ہو سکتی۔ ‘‘ 

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  گوشہ نشینی،   تنہائی،   خاموشی اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یعنی بھوک،   شب بیداری وغیرہ اس کی بہت زیادہ فضیلت مروی ہے،   بلکہ ہم نے جو تنبیہات ذکر کی ہیں   اور جن کی جانب ہم نے اشارہ کیا ہے یہ سب کچھ اس شخص کے لئے کافی ہے جو آخرت کا طلب گار ہو اور حصولِ آخرت کے لئے صحیح کوشش کرے اور معاملہ اور باہمی تجارت کا بھی خواہش مند ہو اور یہی حقیقی مومن ہے ۔

 (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)  یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا نہ تو نیکی کرنے کی کوئی قدرت ہے اور نہ برائی سے  بچنے کی کوئی طاقت۔  

٭… ٭… ٭

فصل: 28

مراقبۂ مقربین اور مقاماتِ اہلِ یقین کا بیان

مراقبہ کا پہلا مقام

اوقات کی اہمیت: 

            جب بندے کا یقین مضبوط و قوی ہوتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ اس کے اوقات وہی ہیں   جن میں   اس کی تربیت کی گئی اور جو اس کی زندگی اور پرورش کا سبب ہیں   اور یہی اوقات دوبارہ عالم برزخ میں   اس کے سامنے آئیں   گے اور قیامت کے دن دوبارہ اس پر وارد ہوں   گے،   جنت میں   اس پر لوٹائے جائیں   گے،   اگر وہ جنت میں   داخل ہو گا تو وہاں   اسے  اسی حساب سے  بدلہ دیا جائے گا جو اسنے یہاں   دنیا میں   ان اوقات سے  معاملہ کیا ہو گا اور وہاں   اسی قدر اسے  عطا کیا جائے گا جس قدر یہاں   توفیق سے  نوازا گیا تھا،   اس سے  اوقات کے سوا کسی شے کے متعلق سوال نہ ہو گا اور نہ ہی ساعات کے علاوہ کسی شے کا حساب لیا جائے گا،   نہ اوقات کے علاوہ کسی شے پر اسے  بدلہ دیا جائے گا۔ جس طرح اسے  کسی دوسرے کی شکل میں   نہیں   اٹھایا جائے گا اسی طرح اس کے سامنے دوسروں   کے اوقات بھی نہ رکھے جائیں   گے اور جس طرح دنیا میں   اس کے ساتھ کسی دوسرے کا معاملہ نہ کیا گیا وہاں   بھی اسے  کسی دوسرے کی جزانہ دی جائے گی،   البتہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ابتداکرنے والا ہے اور وہی دوبارہ لوٹانے والا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

 (۱) كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ (۲۹)  (پ۸،  الاعراف:  ۲۹)                          

تر جمعہ ٔ کنز الایمان : جیسے  اسنے تمہارا آغاز کیا ویسے  ہی پلٹو گے۔

 (۲) اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ (۳۵)  (پ۲۹،  القلم :  ۳۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہم مسلمانوں   کو مجرموں   سا کر دیں  ۔

 



Total Pages: 332

Go To