Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭… غافل لوگوں   کو دیکھنے سے  عبادت میں   سستی پیدا ہوتی ہے۔

٭… غلط لوگوں   کی ہم نشینی طاعت میں   غفلت کا سبب بنتی ہے۔

٭… جاہلین کے کلام کی سماعت اور دنیادار مُردوں   کو دیکھنا وجدانِ فہم و ادراک اور نورِ علم کے خاتمے اور حلاوتِ تعلق کے نقصان کا باعث بنتے ہیں  ۔

            مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:  ’’مُردوں   کی ہم نشینی مت اختیار کرو،   ورنہ تمہارے دل بھی مُردہ ہو جائیں   گے۔ ‘‘  عرض کی گئی: ’’مُردے کون ہیں  ؟ ‘‘  تو آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:  ’’دنیا کی محبت رکھنے والے اور اس کو مرغوب جاننے والے۔ ‘‘ 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان : (وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیآءُ وَ لَا الْاَمْوَات  (پ۲۲،  فاطر:  ۲۲) )   ([1]) کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   زندہ و مردہ افراد سے  مراد فقراو اغنیاہیں  ۔ کیونکہ فقرا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کی وجہ سے  زندہ ہوتے ہیں   اور اغنیادنیا کی حرص پر مر جاتے ہیں  ۔

            لوگوں   سے  میل جول اور غافل لوگوں   کی ہم نشینی کا سب سے  بڑا نقصان انہیں   دیکھ کر یقین کا کمزور ہو جانا ہے اور اس سے  بھی بڑا نقصان یہ ہے کہ بندے کو جب یقین کی آزمائش میں   مبتلا کیا جاتا ہے تو وہ ہلاکت و دوری اور حجاب کا باعث بن جاتا ہے۔ یعنی بندے کے اُس یقین کی کمزوری کا باعث بنتا ہے جس کا اس سے  عالم غیب میں   وعدہ کیا گیا تھا اور عالم شہادت میں   جس پر وعید فرمائی گئی اور یہی وہ سب سے  بڑا خوف ہے جس میں   دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنی امت کے مبتلا ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مجھے سب سے  زیادہ اپنی امت پر یقین کی کمزوری کا اندیشہ ہے۔ ‘‘  ([2])

            اس کی وجہ یہ ہے کہ یقین کی کمزوری ہی درج ذیل امور کی اصل ہے: یعنی دنیا میں   رغبت،   کثرتِ دنیا کی حرص،   دنیا داروں   کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرنا اور ان سے  لالچ رکھنا۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک شخص اپنے گھر سے  اس حال میں   نکلے گا کہ اس کا دین اس کے ساتھ ہو گا لیکن واپس اس حال میں   لوٹے گا کہ اس کا دین اس کے ساتھ نہ ہو گا۔ وہ اِس سے  ملے گا تو کہے گا:  ’’تم تو ایسے  ایسے  ہو۔ ‘‘  اور اُس سے  ملے گا تو کہے گا:  ’’تو ایسا ایسا ہے۔ ‘‘  اور شاید کہ وہ ان سے  جدا ہو کر اس حال میں   گھر لوٹے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر ناراض ہوگا۔ ([3])

            ایک تابعی بزرگ کا قول ہے کہ خَلْوَتْ میں   بندے کی بہت زیادہ نیک اور اچھی اچھی خصلتیں   ہوتی ہیں   مگر جب وہ خَلْوَتْ سے  نکل کر لوگوں   کے پاس جاتا ہے تو لوگ ایک ایک کر کے اس کی تمام اچھی خصلتیں   ختم کرتے جاتے ہیں   یہاں   تک کہ وہ اس حال میں   گھر لوٹتا ہے کہ اس کی تمام خصلتیں   ختم ہو چکی ہوتی ہیں  ۔

یقین کو قوی کرنے والی باتیں  : 

        قوتِ یقین ہر نیک عمل کی اصل ہے،   کیونکہ یقین کے قوی ہونے میں   یہ باتیں   پائی جاتی ہیں  : سرعتِ انتقال،   اُخروی ٹھکانے میں   قیام کی طوالت،   فانی اشیاء کی بہت کم ترجیح،   باقی رہنے والی اشیاء کی جانب پیش قدمی،   حرص کی کمزوری،   قلت ِ طلب،   لالچ کا فقدان،   دنیاوی مشاغل سے  فراغت اور اُخروی و پسندیدہ امور میں   مشغولیت۔

        درج بالا تمام امور میں   بندے کا اخلاص اس کے اعمال میں   پایا جاتا ہے اور اس کے زہد کی حقیقت اس کے احوال کے تصرف،   امید کی کمی اور اعمال کی خوبصورتی میں   ہوتی ہے۔ کیا آپ نے اس شخص کے اوصاف نہیں   سنے جس کی خبر دیتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا کہ اسے  اس کے مال کی کثرت نے غافل کر دیا یہاں   تک کہ اسنے اپنا اُخروی یعنی جہنمی ٹھکانا بھی دیکھ لیا۔ آپ اس سے  کسی شخص کو اسی وقت ڈرا دھمکا سکتے ہیں   جب اسے  یقینی علم حاصل ہو اور پھر جب وہ اپنی آنکھوں   سے  اپنا اُخروی ٹھکانا دیکھ لے تو اس سے  ڈر جائے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے: 

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ (۱)  (پ۳۰،  التکاثر:  ۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تمہیں   غافل رکھا مال کی زیادہ طلبینے۔

                 یعنی کثرتِ مال کے جمع کرنےنے تمہیں   مشغول رکھا یہاں   تک کہ تم قبروں   میں   اتر گئے۔ پھر ارشاد فرمایا:

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ (۵)(پ۳۰،  التکاثر:  ۵) تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   ہاں   اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبّت نہ رکھتے۔

یعنی اگر تم یقینی علم رکھتے تو آخرت کے لئے عملِ صالح میں   مصروف ہو کر لہو و لعب سے  غافل ہو جاتے حالانکہ لہو و لعب شک کا تقاضا کرنے والا ہے جو یقین کی ضد ہے۔ پس تم امورِ آخرت میں   مشغول ہو کر دنیا کی کثرت سے  غافل ہو جاتے جیسا کہ علمِ یقین نہ ہونے کی وجہ سے  لہو و لعب کی کثرت میں   مشغول ہو گئے تھے۔ چنانچہ اللہ

 عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے: 

 اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ (۱۲)  (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اب ہم نے دیکھا اور سنا ہمیں   پھر بھیج کہ نیک کام کریں   ہم کو یقین آ گیا۔

        اور مذکورہ آیتِ مبارکہ کے نزول سے  پہلے یہ ارشاد فرمایا:

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور برابر نہیں زندے اور مردے۔

[2]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۸۸۶۹، ج۶، ص۳۰۸

[3]     المستدرک علی الصحیحین، کتاب الفتن والملاحم، باب بعضکم علی بعض     الخ، الحدیث: ۸۳۹۷،  ج۵، ص۶۲۳



Total Pages: 332

Go To