Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ہے کہ وہ لا یعنی باتیں   کیا کرتا ہو یا اس شے میں   بخل کرتا ہو جو نقصان دہ نہ ہو۔‘‘([1])    ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں  : ’’ہو سکتا ہے کہ وہ لایعنی باتیں   کرتا ہو اور ایسی اشیاء میں   بخل کرتا ہو جو نفع بخش نہ ہوں  ۔ ‘‘  ([2])

غیبت اور اس کی مثالیں  

 (۱) … بہت زیادہ سونے والاہے: 

        ایک صحابی نے کسی کے متعلق کہا کہ فلاں   بہت زیادہ سونے والا ہے تو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تونے اپنے بھائی کی غیبت کی ہے،   اس سے  عرض کرو کہ وہ تمہارے لئے بخشش طلب کرے۔  ‘‘  

 (۲) … فلاں   شخص کتنا کمزور ہے!

        مروی ہے کہ کسی صحابینے کہا کہ فلاں   شخص کتنا کمزور ہے۔ تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تمنے اس کا گوشت کھایا ہے۔ ‘‘  ([3])  

 (۳) … اس کا دامن کتنا طویل ہے!

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ایک مرتبہ کسی عورت کے بارے میں   کہا: ’’اس کا دامن کتنا طویل ہے! ‘‘   ([4]) اور ایک روایت میں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا کہ وہ کتنے چھوٹے قد والی ہے،   تو شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تونے اس کی غیبت کی ہے۔ ‘‘  ([5])   اور ایک روایت میں   ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تونے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اسے  سمندر کے پانی میں   ملایا جائے تو اس میں   بھی مل جائے۔ ‘‘  یہ در حقیقت غیبت کی مذمت میں   مبالغہ کے لئے ہے۔ ([6])

غیبت کسے  کہتے ہیں  ؟

            غیبت کی تعریف ایک روایت میں   اس طرح مروی ہے کہ سرکارِ دو جہاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنے بھائی کے متعلق کوئی ایسی بات کہی جو اس میں   موجود ہو تو اس نے غیبت کی۔ ‘‘   ([7])    حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی روایت،   مذکورہ روایت سے  بھی سخت ہے جس میں   حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تیرا اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ کرنا کہ جس کے ساتھ اسے  عیب سے  بری نہ کرے،   غیبت ہے۔ ‘‘ 

            غیبت کے متعلق یہ روایت پہلی روایت سے  زیادہ شدید اور سخت ہے۔ غیبت در حقیقت ایک لغوی نام ہے جبکہ اس کا شرعی معنی ہے کسی انسان کی عدم موجودگی اور سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ غیبت یہ ہے کہ بندہ اپنے بھائی کے متعلق کوئی ایسی بات کہے جو اس میں   پائی جاتی ہو۔

غیبت زنا سے  بھی سخت ہے: 

            سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیبت کو اپنے اس فرمانِ عبرت نشان سے  بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے کہ ’’غیبت زنا سے  بھی سخت ہے۔ ‘‘  ([8])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  جب بندہ اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں   اس کے متعلق کوئی ایسی بات کرے جس کے بارے میں   اسے  یقین ہو کہ وہ اس میں   پائی جاتی ہے لیکن وہ یہ بات اس کے سامنے نہ کہہ سکتا ہو یا پھر وہ بات اس کی شان میں   کمی کا باعث ہو یا پھر وہ اپنے بھائی کے اس عیب سے  بری ہونے کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کی غیبت کا مرتکب ہو گا۔ لہٰذا اگر خاموشی میں   غیبت سے  سلامتی کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تو یہ بھی بہت بڑی غنیمت ہوتی اور ایسا کیونکر نہ ہوتا جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے  مروی ہے کہ’’ابنِ آدم کے تین کلاموں   کے علاوہ ہر کلام اس کے خلاف ہے اور اس کے حق میں   نہیں  : اَمْرٌۢ بِالْمَعْرُوْف،   نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر۔ ([9])

لوگوں   سے  میل جول کے نقصانات: 

٭… لوگوں   سے  میل جول رکھنا نیکی کے کاموں   کو قوی کرنے والے عزم کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

٭… بندے کو خلوت میں   حاصل ہونے والے پختہ عہد کو توڑ دیتا ہے کیونکہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں   پر مدد کرنے والے لوگ بہت کم ہیں   اور گناہ و سرکشی کے کاموں   پر مدد کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہیں  ۔

٭… بندہ جب لوگوں   کو دنیاوی مشاغل میں   مصروف پاتا ہے تو اس کی دنیاوی اغراض کی طلب و حرص بھی قوی ہونے لگتی ہے۔

 



[1]     جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب حدیث من حسن اسلام المرء، الحدیث: ۲۳۱۶، ص۱۸۸۵ بتغیر قلیل

[2]     شعب الایمان للبیھقی، باب الجود و السخاء، الحدیث: ۱۰۸۳۶، ج۷، ص۴۲۵ ’’یغنیہ‘‘۔ بدلہ۔’’یعنیہ‘‘

[3]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث: ۶۷۳۳، ج۵، ص۳۰۴

[4]     المرجع السابق، الحدیث: ۶۷۶۸، ص۳۱۳ عن عائشۃ بنت طلحۃ انہ قالت

[5]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، الحدیث: ۲۵۷۶۶، ج۱۰، ص۲۰

[6]     سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، الحدیث: ۴۸۷۵، ص۱۵۸۱ بتغیر قلیل

[7]     صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم الغیبۃ، الحدیث: ۶۵۹۳، ص۱۱۳۰

[8]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث: ۶۷۴۲، ج۵، ص۳۰۶

[9]     جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب منہ کل کلام     الخ، الحدیث: ۲۴۱۲، ص۱۸۹۴



Total Pages: 332

Go To