Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے  مروی ہے کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  بغیر کسی مجبوری کے یعنی اپنے اختیار و مرضی سے  بھوکے رہتے تھے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا    فرماتے ہیں   کہ’’جب سے  امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا گیا ہے میں  نے پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ بات حجاج بن یوسف کے زمانے میں   ارشاد فرمائی۔ ([1])

 ڈکار کو دور کر لو: 

            حضرت سیِّدُنا ابو جُحیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ انہوں  نے سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں   ڈکار لی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اپنی ڈکار ہم سے  دور کر لو کیونکہ تم میں   سے  جو دنیا میں   طویل عرصہ شکم سیر رہے گا آخرت میں   سب سے  زیادہ بھوکا ہو گا۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ اللہ

 عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں  نے اس دن سے  لے کر آج تک کبھی پیٹ بھر کر نہیں   کھایا اور امید رکھتا ہوں   کہ اللہ

عَزَّ وَجَلَّبقیہ زندگی میں   بھی مجھے اس سے  محفوظ رکھے گا۔ ([2])

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   ) ان تمام روایات و اقوال کی بناپر مستحب یہ ہے کہ بندہ دنیا میں   پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے زیادہ تر بھوکا رہے،   کہ بھوکا رہنا اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی علامت ہے۔

بھوک میں   اعتدال: 

            جو شخص حد درجہ بھوک کے دو وقتوں   کے درمیان صرف ایک مرتبہ کھائے تو اس کی بھوک اس کے پیٹ بھرنے سے  زائد ہوتی ہے اور جو حد درجہ بھوک کے بعد درمیانہ شکم سَیر ہو تو اس کے پیٹ بھرنے،   کھانے اور بھوک میں   اعتدال ہوتا ہے اور جو ایک دن میں   دو مرتبہ کھائے یا بغیر بھوک کے کھائے اور پھر پیٹ بھی بھر لے تو اس کی شکم سیری اس کی بھوک سے  زائد ہے،   یہ مکروہ ہے اور ہر وہ شخص جو بھوک کے بعد کھائے اور شکم سیر ہونے سے  پہلے اپنا ہاتھ کھینچ لے تو اس کی بھوک اس کی شکم سیری سے  زائد ہوتی ہے اور یہ متوسط حالت ہے۔

سلف صالحین زندہ رہنے کے لئے کھاتے: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں  نے ایسے  لوگوں   کو بھی پایا جو شکم سیر ہو کر نہیں   کھاتے تھے بلکہ ان میں   سے  اگر کوئی کچھ کھاتا بھی تو صرف اس قدر کہ جب جان میں   جان آتی تو فوراً  کھانے سے  رک جاتا،   حالانکہ وہ کمزور اور دبلا پتلا ہوتا اور اس کی نیت یہ ہوتی کہ ساری عمر اُس کے لئے نہ تو کبھی کوئی کپڑا لپیٹا جائے اور نہ ہی وہ اپنے اہل کو کبھی کچھ پکانے کا حکم دے اور نہ ہی کبھی اُس کے اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل ہو۔ ‘‘  ([3])   مزید فرماتے ہیں   کہ مومن کبھی پیٹ بھر کر نہیں   کھاتا بلکہ اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پہلو تلے رہتی ہے۔ ([4])

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  مروی ہے کہ دو باتیں   قساوتِ قلبی کا باعث ہیں  : بہت زیادہ پیٹ بھر کر کھانا اور حد درجہ کلام کرنا۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت و ناراضی کے اسباب: 

        حضرت سیِّدُنا مکحول رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  مروی ہے کہ تین باتیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت اور تین باتیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا باعث ہیں  ۔ محبت کا باعث بننے والی باتیں   یہ ہیں  :  (۱) … کم کھانا  (۲) … کم سونا اور  (۳) … کم گفتگوکرنا اور ناراضی کا باعث بننے والی باتیں یہ ہیں: (۱) … زیادہ کھانا  (۲) … زیادہ باتیں کرنا اور  (۳) … زیادہ سونا۔  ([5])  

زیادہ سونے کے نقصانات: 

            زیادہ وقت سوئے رہنے کے نقصانات یہ ہیں  : غفلت کا طویل ہونا،   عقل وذہانت کا کم ہونا اور دل کا سہو میں   مبتلا ہو جانا۔ ان تمام صورتوں   میں    (اعمالِ صالحہ کا)  فوت ہو جانا پایا جاتا ہے اور  (اعمالِ صالحہ کے)  فوت ہو جانے میں   مرنے کے بعد حسرت ہی حسرت ہے۔ چنانچہ،   

            مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داود عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی والدہ ماجدہ نے ان سے  ارشاد فرمایا: ’’اے میرے لخت ِ جگر! رات کے وقت بہت زیادہ مت سویا کرو کیونکہ نیند کی کثرت بندے کو قیامت کے دن فقیر بنا دے گی۔ ‘‘  ([6])

            منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں   چند نوجوان اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوب عبادت کیا کرتے تھے،   جب ان کے پاس رات کا کھانا آتا تو ایک عالم کھڑا ہو کر کہتا: ’’اے سالکین کی جماعت! زیادہ مت کھانا،   ورنہ پانی زیادہ پیو گے تو سوؤ گے اور اس کے بعد زیادہ خسارہ اٹھانے والوں   میں   شامل ہو جاؤ گے۔ ‘‘  ([7])

 



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الجوع، الحدیث: ۹۱، ج۴، ص۹۵

[2]     جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث اکثرھم شبعا، الحدیث: ۲۴۷۸، ص۱۹۰۱

                                                شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم، فصل فی ذم کثرۃ الاکل، الحدیث: ۵۶۴۴، ج۵، ص۲۷

[3]     الزھد لابن مبارک، باب ما جاء فی الخشوع و الخوف، الحدیث: ۱۷۷، ص۵۷

[4]     المرجع السابق، باب ذکر الموت، الحدیث: ۲۷۱، ص۹۲

[5]     شعب الایمان للبیھقی ، باب فی المطاعم، فصل فی ذم کثرۃ الاکل، الحدیث: ۵۷۳۳، ج۱، ص۴۸ قول ابو اسحق الخواص

[6]     سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی قیام اللیل، الحدیث: ۱۳۳۲، ص۲۵۵۵

[7]     الزھد للامام احمد بن حنبل، بقیۃ زھد عیسیٰ علیہ السلام، الحدیث: ۵۲۸، ص۱۳۴

                                                الشفا، فصل و اما ما تدعو ضرورۃ الحیاۃ، الجزء الاول، ص۸۵



Total Pages: 332

Go To