Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کے لئے خوش خبری ہے جسے  اس کا عیب لوگوں   کے عیوب سے  غافل کر دے اور وہ اپنے فالتو مال کو خرچ کر دے لیکن فضول باتوں   سے  رکا رہے۔ ‘‘([1])  (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  خاموشی کے متعلق کثیر روایات مروی ہیں   اور ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہی کافی ہے کیونکہ ہمارا مقصود تمام روایات کو جمع کرنا نہیں  ۔

خلوت کی اہمیت و فضیلت: 

        خلوت دل کو مخلوق سے  فارغ،   ارادے کو خالق کے معاملہ کے ساتھ مجتمع اور عزم کو ثابت قدمی پر قوت مہیا کرتی ہے،   کیونکہ لوگوں   سے  میل جول میں   عزم کی کمزوری،   ارادوں   کا انتشار اور نیت کا ضعف پایا جاتا ہے۔ خلوت نفس کی دنیاوی لذتوں   میں   سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں   کو کم کر دیتی ہے کیونکہ نفس کا آنکھوں   کے ذریعے دنیا کا مشاہدہ کرنا ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ آنکھ دل کا دروازہ ہے جس سے  آفات داخل ہوتی ہیں   اور یہیں   شہوتیں   اور لذتیں   پائی جاتی ہیں  ۔ چنانچہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ جس کی لذتیں   کثیر ہوں   اس کی حسرتیں   دائمی ہوتی ہیں  ۔ ([2])

            خلوت فکر آخرت پیدا کرتی ہے اور بندہ جب یقین کا مشاہدہ کرتا ہے تو خلوت پسند کرنے لگتا ہے،   پھر عام بندوں   کا تذکرہ بھلا کر مسلسل معبودِ حقیقی کے ذکر میں   مشغول ہو جاتا ہے۔

            خلوت ہی سب سے  بڑی عافیت ہے۔ چنانچہ شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  عافیت کا سوال کرو،   وہ یقین کے بعد بندے کو عافیت سے  بڑھ کر کوئی شے عطا نہیں   فرماتا ([3])   اور ایک روایت میں   ہے کہ دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں   سے  کنارہ

کشی ہی میں   عافیت ہے۔ ‘‘  ([4])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خلوت کو اس مفہوم میں   داخل فرمایا کہ جس کا سوال کرنا نہ صرف مستحب ہے بلکہ یقین کے بعد یہ سب سے  افضل حالت ہے۔ سالک و مرید اسی وقت ارادت وسلوک میں   سچا ہو سکتا ہے جب خلوت میں   لذت و حلاوت پائے اور جن انعاماتِ خداوندی کو جماعت میں   حاصل نہ کر سکا خلوت میں   ان کی زیادتی پائے۔ بلکہ وہ پوشیدگی و تنہائی میں   ایسی قوت و نشاط پا سکتا ہے جو ظاہری حالت میں   نہیں   پا سکتا۔ اس کا اُنس تنہائی میں  ،   اس کا آرام خلوت میں   اور اس کے بہترین اعمال پوشیدگی میں   سرانجام پاتے ہیں  ۔

            لوگوں   سے  میل جول کے احوال میں   خلوت کی مثال مقاماتِ محبت میں   خوف جیسی ہے،   خوف تمام عابدین کی اصلاح کرتا ہے جبکہ محبت محبین میں   سے  خواص کے درجات کی بلندی کا باعث ہوتی ہے۔ اسی طرح خلوت اور تنہائی تمام مریدین اور سالکین کی اصلاح کرتی ہے جبکہ لوگوں   کا اُنس خواص ائمہ و علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے لئے انعامات کی زیادتی کا باعث بنتا ہے۔ مگر خلوت،   عقلِ کامل کی اور تنہائی و وحدت،   مضبوط ایمان کی محتاج ہوتی ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اور حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِث سے  مروی ہے،   فرماتے ہیں   کہ جب تم تنہائی سے  وحشت محسوس کرو اور مخلوق سے  اُنس پاؤ تو میں   تم پر ریاکاری سے  امن میں   نہیں   ہوں   اور حضرت سیِّدُنا ابو محمد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ ساری خیر وبھلائی ان چار باتوں   میں   جمع ہو گئی ہے اور ابدال بھی انہی چار باتوں   پر عمل کر کے ابدال بنتے ہیں   اور وہ باتیں   یہ ہیں  :  (۱) … پیٹوں   کا خالی ہونا  (۲) … خاموشی  (۳) … مخلوق سے  کنارہ کشی اور  (۴) … شب بیداری۔

            حضرت سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ولی کا لوگوں   سے  میل جول ذلت کا اور اس کا تنہا رہنا عزت کا باعث ہے اور ایسا بہت کم ہوا ہے کہ میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو تنہائی کے علاوہ دیکھا ہو۔  ([5])

            عارفین فرماتے ہیں   کہ تنہائی سے  محبت راہِ حق پانے کی علامت ہے۔

استقامت کی علامت : 

            صحیح توبہ کے بعد ارادے کی سچائی اور استقامت پر عزم کی پختگی کی علامت یہ ہے کہ سالک  (سیِّدُنا ابو محمد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بیان کردہ)  مذکورہ چاروں   صفات کو ان کی اضداد پر ترجیح دے۔ اس حال میں   کہ دل کا وجود ان اوصاف کے ہاں   پایا جائے اور ان کی وجہ سے  اسے  شرح صدر حاصل ہو اور ان کے ذریعے حسنِ خلق بھی پایا جائے کیونکہ ان اوصاف کی ضد یہ چیزیں   ہیں  : دنیا کے دروازے،   غفلت کی چابیاں   اور خواہشِ نفس کے راستے۔ اس لئے کہ پیٹ بھر کر کھانے میں   دل کی قساوت اور اس کی ظلمت پائی جاتی ہے جس سے  صفاتِ نفس قوی ہوتی ہیں   اور اس کی لذتیں   پھیلتی ہیں   اور نفس کے طاقتور و توانا ہونے اور پھیلنے سے  ایمان کمزور ہوتا ہے اور اس کے انوار بجھ جاتے ہیں  ۔ پس نفس کے کمزور ہونے اور اس کی فطرت و طبیعت کے بجھنے سے  ایمان قوی ومضبوط ہوتا ہے اور انوارِ یقین کی شعاعیں   وسیع ہو جاتی ہیں  ۔ اس وقت بندہ شہ رگ سے  بھی قریب تر کا قرب اور محبوبِ حقیقی کی ہم نشینی کا شرف پاتا ہے۔ چونکہ پیٹ بھر کر کھانا دنیاوی رغبت کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  منقول ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے  پہلی بدعت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی پیدا ہوئی کیونکہ جب لوگوں   کے پیٹ بھر جاتے ہیں   تو ان کی شہوتیں   بھی بے لگام ہو جاتی ہیں  ۔ ([6])

 



[1]     الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث: ۴۰۵۳ ،ج۲، ص۸۵

[2]     وفیات الاعیان، الرقم ۶۰۴ الظاھری، ج۴، ص۹۱

[3]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۴۶، ج۱، ص۳۰ السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب عمل الیوم واللیلۃ، باب مسئلۃ المعافاۃ، الحدیث :۱۰۷۲۰، ج۶، ص۲۲۱

[4]     الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث: ۴۰۵۳ ،ج۲، ص۸۵

[5]     صفۃ الصفوۃ، الرقم ۷۸۸ مالک بن قاسم، ج۲، الجزء الرابع، ص۲۱۴

[6]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الجوع، الحدیث: ۲۲، ج۴، ص۸۲



Total Pages: 332

Go To