Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭  پیٹ بھر کر کھانا دنیا میں   رغبت رکھنے کا ذریعہ ہے۔

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی شکم سیری  (پیٹ بھر کر کھانے)  کے متعلق فرماتے ہیں   کہ پیٹ بھر کر کھانا دنیا میں   رغبت رکھنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ بعض صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  منقول ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے  پہلی بدعت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی پیدا ہوئی۔ ([1]) کیونکہ جب لوگوں   کے پیٹ بھر جاتے ہیں   تو ان کی شہوتیں   بھی بے لگام ہو جاتی ہیں  ۔ ([2])

٭   آپ کی قرآنِ کریم سے  محبت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمان ہے: تم میں   سے  ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ صرف قرآنِ کریم کے متعلق ہی کسی سے  سوال کیا کرے،   اگر وہ قرآنِ کریم سے  محبت کرے گا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بھی محبت کرنے والا ہو گا اور اگر قرآنِ کریم سے  محبت نہ ہو گی تو اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بھی محبت نہ ہو گی۔

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان ذکر کرنے کے بعد جو کلام کیا ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ کو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے کلام سے  کس قدر محبت تھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں   کہ حقیقت میں   بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا ہے کیونکہ جب آپ کسی بات کرنے والے کو محبوب جانیں   گے تو یقیناً اس کے کلام کو بھی پسند فرمائیں   گے اور اگر اسے  ناپسند کرتے ہوں   گے تو یقیناً اس کی باتوں   کو بھی ناپسند کریں   گے۔  ([3])

یقیناً مخلوق پر حجاب ڈال دیا گیا ہے کہ وہ کلام باری تعالیٰ کی حقیقت سمجھے اور اس کی مراد کے راز کی معرفت حاصل کرے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی معرفت کی حقیقت لوگوں   سے  چھپا رکھی ہے اور انہیں   اسی قدر اپنے کلام کی معرفت عطا فرمائی ہے جس قدر انہیں   اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائی ہے،   اس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام سے  اس کی صفات،   افعال اور احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کا کلام در حقیقت اس کی صفات کا ہی ایک حصہ ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں   آسانی بھی ہے اور سختی بھی،   امید بھی ہے اور خوف بھی کیونکہ رحمت اور لطف،   انتقام و گرفت اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے اوصاف ہیں  ۔ پس اگر کسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت اس طرح نصیب نہ ہو جیسے  کوئی خود کو جانتا ہے تو سوائے اللہ  عَزَّوَجَلَّکے کوئی بھی اس کے کلام اور اوصاف کی حقیقت نہ جان سکتا ۔

لہٰذا مخلوق میں   جو سب سے  زیادہ کلامِ باری تعالیٰ کے معانی جانتا ہے وہی سب سے  زیادہ اس کی صفات کے معانی کا عارف ہوتا ہے اور جو سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اوصاف،   اخلاق اور احکام کا مفہوم جاننے والا ہوتا ہے وہی خطاب کے رازوں  ،   حروف کی شکل اور کلام کے باطنی مفہوم کا عارف ہوتا ہے اور سب سے  زیادہ وہی اس کا حقدار ہے جو سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والا ہے اور جو سب سے  زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے وہی سب سے  زیادہ اس کے قریب ہوتا ہے اور سب سے  زیادہ قریب وہی ہوتا ہے جسے  وہ اپنے کرم سے  ترجیح دے کر خاص کر لیتا ہے۔ ([4])

معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی عارف باللّٰہ تھے،   اور آپ کو قرآنِ کریم سے  حد درجہ محبت تھی،   نیز آپ علومِ قرآن سے  بھی خوب آگاہ تھے جس کی بے شمار مثالیں   قوت القلوب میں   ملاحظہ کی جا سکتی ہیں  ۔ بالخصوص 16سے  لے کر 19تک کی فصلوں   میں   تلاوت اور آدابِ تلاوت وغیرہ کے متعلق اسلاف کے طریقہ ہائے کار مذکور ہیں ۔ اور سترہویں   فصل میں   حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے قرآنِ کریم کے غریب  (یعنی انوکھے،   مشکل اور عجیب)  الفاظ کی جو تفسیر بیان کی ہے،   وہ آپ کے علم کا منہ بولتا ثبوت ہے،   اس فصل میں   خالص علمی بحث کی گئی ہے جو عوام کی عقل سے  بالاتر ہے اور صرف اہلِ علم ہی اس سے  استفادہ کر سکتے ہیں۔

٭   عبادت و ریاضت: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام عفيف الدينعبد اللّٰه بن اسعد بن علي يافعي عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْکَافِی  (متوفی ۷۶۸ ھ)  اپنی کتاب مِرْاٰۃُ الْجِنَان میں   فرماتے ہیں  : حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے راہِ سلوک کی منزلیں   سخت مجاہدے کر کے طے کیں   اور پھر آخر عمر میں   صاحب اسرار و مشاہدہ بزرگانِ دین میں   شمار ہونے لگے۔  ([5])

حضرت سیِّدُنا امام یافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْکَافِی کے اس قول سے  معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے ابتدائی دور میں   راہِ سلوک کی منزلیں   طے کرتے ہوئے کس قدر جانفشانی سے  مجاہدے و ریاضت سے  کام لیا۔ اس کی ایک جھلک قوت القلوب کے ابتدائی چند ابواب سے  سمجھی جا سکتی ہے جن میں   حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے دن اور رات کے اوقات کو نہ صرف مختلف ذکر و اذکار کے لیے تقسیم فرمایا ہے بلکہ بے شمار اوراد و وظائف مع فضائل ذکر کئے ہیں  ۔ حجۃ الاسلام حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَالینے اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں   تقریباً جس قدر اوراد و وظائف وغیرہ ذکر کئے ہیں   ان کا ماخذ قوت القلوب ہی ہے۔

تعریفی کلمات :

 



[1]     موسوعۃ لابن الدنیا، کتاب الجوع، الحدیث: ۲۲، ج۴، ص۸۲

[2]     قوت القلوب، الفصل السابع والعشرون، ج ۱، ص۱۷۴

[3]     قوت القلوب، الفصل السابع عشر، ج ۱، ص۱۰۴

[4]     قوت القلوب، الفصل السادس عشر، ج ۱، ص۹۲

[5]     مراۃ الجنان و عبرۃ الیقظان، ج ۲، ص ۳۲۳



Total Pages: 332

Go To