Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کرتا ہے بلکہ امورِ آخرت کی طلب میں   رہتا ہے اور انہی کو پسند کرتا ہے۔ اس پر دنیا کے عیوب منکشف ہوتے ہیں  ،   باطنی اسرار کھلتے ہیں   اور مخفی دھوکا و فریب ختم ہو جاتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ حقیقی مومن بن جاتا ہے۔چنانچہ اس میں   حضرت سیِّدُنا حارثہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے  اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں   کہ جب انہوں  نے سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی:  ’’میں  نے اپنے نفس کو دنیا سے  جدا کیا تو گویا میں   اپنے پاک پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کے عرش کو واضح طور پر دیکھ رہا ہوں   اور گویا کہ جنتیوں   کو دیکھ رہا ہوں   وہ ایک دوسرے کی زیارت کر رہے ہیں   اور دوزخیوں   کو دیکھ رہا ہوں   کہ وہ بھی ایک دوسرے کو دکھ بھری کیفیت سے  دیکھ رہے ہیں  ۔ ‘‘   ([1])

            اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قلبِ مومن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’قلوب چار قسم کے ہوتے ہیں  :  (جن میں   سے )  ایک قسم وہ ہے جس میں   چراغ روشن ہو اور اس سے  مراد قلبِ مومن ہے۔ ‘‘   ([2])

            دنیا میں   زہد اختیار کر کے اور نفسانی خواہشات ترک کر کے دل کو  (ماسوا اللہ سے )  خالی کیا جا سکتا ہے اور دل میں   روشن ہونے والے چراغ سے  مراد وہ نورِ یقین ہے جس کے سبب یہ غیب کا مشاہدہ کرتا ہے۔

شب بیداری: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں  : جو شخص 40 راتوں   تک اخلاص کے ساتھ بیدار رہے اس پر ملکوتِ آسمانی کھول دیئے جاتے ہیں  ۔ مزید فرماتے ہیں   کہ ہر قسم کی خیرو بھلائی چار چیزوں   میں   ہے،   ان میں   سے  ایک شب بیداری بھی ہے۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر طویل رات قیام کرنے کے بعد جب نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو ان کا سونا ان کے لئے مکاشفہ و مشاہدہ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  قرب کا باعث بنتا ہے اور ابدالوں   کے اوصاف میں   ہے کہ ان کا کھانا بھوک،   سونا غلبۂ نیند اور کلام ضرورت کے وقت ہوتا ہے۔ پس جو رات بھر حبیب حقیقی کی خاطر بیدار رہے وہ دن کے وقت کبھی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا کیونکہ اسی نے اسے  رات کے وقت اپنی خدمت میں   حاضر رہنے کے لئے بیداری کی دولت عطا فرمائی۔ چنانچہ، 

            مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دن بازار گئے تو اہلِ بازار کا شور و غل اور ان کا کثرت سے  کلام کرنا سن کر ارشاد فرمایا: ’’میرے خیال میں   ان لوگوں   کی رات بری ہے کیونکہ یہ قیلولہ نہیں   کرتے۔‘‘([3])

قیلولہ سنت ہے: 

        تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’قیلولہ  (یعنی دن کے وقت کچھ دیر آرام)  کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں   کرتے اور دن کے قیلولہ سے  رات کے قیام پر مدد حاصل کیا کرو۔ ‘‘   ([4])

خاموشی کی فضیلت: 

            خاموشی  ([5]) عقل کو بارآور کرتی ہے اور ورع و تقویٰ کی تعلیم دیتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے سبب بندے کو صحیح تاویل اور راجح علم کی دولت سے  مالا مال کر کے راہِ نجات عطا فرماتا ہے اور جب بندہ خاموشی کو ترجیح دینے لگتا ہے تو اسے  صحیح قول و عمل کی توفیق سے  بھی نوازتا ہے۔

خاموش رہنے کا طریقہ: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں  نے ایک کنکر سے  خاموش رہنا سیکھا،   جسے  میں  نے اپنے منہ میں   30 سال تک ڈالے رکھا،   جب بھی کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتا تو اس سے  میری زبان میں   لکنت آ جاتی اور میں   خاموش ہو جاتا۔ ([6])

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں  نے اپنے نفس سے  عہد کیا کہ میرے منہ سے  جو بھی لایعنی بات نکلے گی میں   اس کے بدلے دو رکعت ادا کروں   گا،   لیکن یہ کام مجھ پر آسان رہا،   پھر میں  نے خود پر ہر کلمے کے بدلے ایک روزہ رکھنا لازم ٹھہرا لیا،   یہ بھی مجھے آسان معلوم ہوا لیکن میں   رکا نہیں   یہاں   تک کہ میں  نے اپنے نفس پر ہر کلمے کے عوض ایک درہم صدقہ کرنا لازم کر لیا تو یہ کام اس پر مشکل بن گیا اور آخر کار میں   لا یعنی بات کرنے سے  رک ہی گیا۔

زبان کے متعلق  (6)  فرامینِ مصطفٰے: 

 (1) … حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! نجات کس شے میں   ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’اپنی زبان پر قابو رکھو اور چاہئے کہ



[1]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد و قصر الامل، الحدیث: ۱۰۵۹۰، ج۷، ص۳۶۲

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی سعید، الحدیث: ۱۱۱۲۹، ج۴، ص۳۶

[3]     الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبار الحسن بن ابی الحسن، الحدیث: ۱۵۳۵، ص۲۸۰

[4]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۲۸، ج۱، ص۱۷

[5]     تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہاں استعمال ہونے والی تنظیمی اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ’’زبان کا قفلِ مدینہ‘‘ بھی ہے جس سے مراد خاموش رہنا اور زبان کو فضول گوئی سے محفوظ رکھنا ہے۔ چنانچہ زبان کے قفلِ مدینہ کے متعلق مزید جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے،’’ قفلِ مدینہ‘‘ کا مطالعہ کیجئے جو شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کا تحریری گلدستہ ہے۔

[6]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصمت، باب قلۃ الکلام و التحفظ فی النطق، الحدیث: ۴۳۸، ج۷، ص ۲۵



Total Pages: 332

Go To