Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سات عادتوں   کی اصل: 

        مذکورہ سات باتوں   پر عمل کرنے کے لئے چار چیزوں   سے  مدد حاصل کی جاتی ہے اور یہی چاروں   چیزیں   مرید کے لئے نہ صرف اصل کی حیثیت رکھتی ہیں   بلکہ انہی کے سبب وہ دیگر فرائض و ارکان کی ادائیگی پر قوت و توانائی بھی حاصل کرتا ہے:  (۱) …بھوک  (۲) … شب بیداری  (۳) … خاموشی اور  (۴) … خلوت۔

        پس یہی وہ چار صفات ہیں   جو نفس کے لئے قید و بند کی حیثیت رکھتی ہیں   اور ان کے ذریعے نفس کو مارنا اور قید کرنا صفاتِ نفس کو کمزور کر دیتا ہے،   نفس کے معاملے کا اچھا ہونا انہی چاروں   صفات پر مبنی ہے اور ان میں   سے  ہر صفت کا دل پر ایک اچھا تاثر ہے۔

بھوک کے فوائد و فضائل: 

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  بھوک کے دو بنیادی فائدے ہیں :

٭ بھوک خونِ دل کم کرتی ہے،   جس سے  دل صاف و شفاف ہو جاتا ہے اور دل کی اسی صفائی میں   ہی اس کا نور پِنْہاں   ہے۔

٭بھوک دل کی چربی کو پگھلاتی ہے،   جس سے  دل میں   رقت و نرمی پیدا ہوتی ہے اور دل کی رقت ہی ہر خیر و بھلائی کا ذریعہ ہے کیونکہ دل کی سختی و قساوت ہر شر و برائی کا ذریعہ و سبب بنتی ہے۔

        جب خونِ دل کم ہوتا ہے تو دل کی جانب شیطان کے جانے کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے کیونکہ خونِ دل شیطان کا ٹھکانا ہے اور جب دل میں   رقت پیدا ہوتی ہے تو شیطان کا غلبہ بھی کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ دل کے سخت ہونے کی صورت میں   وہ اس پر اپنا تسلط جما لیتا ہے۔

        فلسفی کہتے ہیں   کہ نفس مکمل طور پر خون کا نام ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب انسان مرتا ہے تو اس کے جسم میں   سوائے خون اور روح کے کچھ بھی کمی نہیں   ہوتی۔ جبکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ خون محض نفس یعنی روح کا ٹھکانا ہے۔

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول ہی صحیح ہے کیونکہ ان کا قول تورات کے موافق ہے۔ چنانچہ تورات میں   ہے: ’’اے موسیٰ! عروق  (یعنی رگیں   جن سے  خون پورے جسم میں   آتا جاتا ہے)  نہ کھایا کرو کہ یہ نفس کی جائے پناہ ہیں  ۔ ‘‘  یہ روایت اس حدیثِ پاک کی تصدیق کرنے والی ہے جس میں   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’شیطان انسان کے جسم میں   خون بہنے کی جگہوں    (یعنی شریانوں   اور وریدوں  )  میں   چلتا ہے،   لہٰذا بھوک اور پیاس سے  اس کی گزرگاہیں   بند کر دو۔ ‘‘  ([1])

            علمائے کوفہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے خون کو نفس کا نام دیا ہے،   وہ کہتے ہیں   کہ جب پانی میں   کوئی ایسا جانور مر جائے جس میں   بہنے والا خون نہ ہو تو پانی ناپاک نہیں   ہوتا یعنی ان کی مراد بھونرے،   جھینگر اور مکڑیاں   ہیں  ۔ ([2])

            پس بھوک میں   خون کم ہوتا ہے اور خون کی کمی شیطان کے راستے کی تنگی کا باعث بنتی ہے اور نفس کا ٹھکانا اس کے ساقط ہونے کی وجہ سے  کمزور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بھوک کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا: ’’اے حواریوں   کی جماعت! پیٹوں   کو بھوکا،   جگروں   کو پیاسا اور جسموں   کو لباس سے  عاری رہنے دو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے باعث تمہارے دل دیدارِ باری تعالیٰ کے قابل ہو جائیں  ۔ ‘‘  یعنی حقیقت ِ زہد اور طہارتِ قلب کے باعث دیدارِ باری تعالیٰ کے قابل ہو جائیں  ۔

            الغرض بھوک زہد کی چابی اور آخرت کا دروازہ ہے … اس میں   نفس کی ذلت،   اہانت،   کمزوری اور عاجزی پِنْہاں   ہے … اس میں   حیاتِ قلب اور صلاحِ قلب مضمر ہے … بھوک کا کم از کم فائدہ یہ ہے کہ بھوکا شخص عموماً خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور خاموشی ہی میں   سلامتی ہے جو عقل مندوں   کا مقصود ہوتی ہے۔

جامع الخیر چار باتیں  : 

        حضرت سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ساری بھلائیاں   ان چار باتوں   میں   جمع ہو گئی ہیں  اور ان ہی کے سبب ابدال ابدال بنتا ہے اور وہ یہ ہیں  :  (۱)  پیٹوں   کا خالی ہونا  (۲)  خاموشی  (۳)  شب بیداری اور  (۴)  لوگوں   سے  کنارہ کشی۔ مزید فرماتے ہیں   کہ جو شخص بھوک اور تکلیف پر صبر نہ کر پائے وہ کبھی بھی اس امر کو ثابت نہیں   کر سکتا۔

دل کی نورانیت و جِلا: 

        حضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم اٹھا کر فرماتے کہ صدیقین مرتبۂ صدیقین پر بغیر بھوک اور شب بیداری کے فائز نہیں   ہو سکتے کیونکہ بھوک دل کو منور کرتی اور جِلا بخشتی ہے،   دل کے منور ہونے سے  غیب کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے اور جِلا سے  یقین کی پاکیزگی و طہارت ملتی ہے،   پس جب یہ نور و جِلا روشنی و رقت پر داخل ہوتے ہیں   تو دل گویا کہ صاف و شفاف آئینے میں   چمکنے والا ایک ستارہ بن جاتا ہے جو غیب کا مشاہدہ غیب سے  کرتا ہے۔

            جب دل کو باقی رہنے والی ذات کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے تو فنا ہو جانے والی اشیاءسے  کنارا کر لیتا ہے۔ جب سزا کا وبال آنکھوں   سے  دیکھتا ہے تو نفسانی خواہشات کی لذتوں   میں   اس کی رغبت کم ہو کر رہ جاتی ہے۔ پھر جب آخرت اور بلند درجات کا مشاہدہ کرتا ہے تو طاعات اسے  مرغوب ہو جاتی ہیں  ۔ امورِ آخرت امورِ دنیا کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں   اور امورِ دنیا غائب ہو جاتے ہیں  ۔ غائب حاضر بن جاتا ہے اور حاضر غائب،   وہ اسی کی طلب میں   رہتا ہے اور اسی میں   رغبت رکھتا ہے۔ لہٰذا چھپ جانے والے کو پسند نہیں   کرتا اور نہ ہی اس کی خواہش



[1]     صحیح البخاری، کتاب الاعتکاف، باب ھل یدرا المعتکف عن نفسہ؟، الحدیث: ۲۰۳۹، ص۱۵۹ دون قولہ ’’فضیقوا    الخ‘‘

[2]     بدائع الصنائع، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۳۱



Total Pages: 332

Go To