Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ان کا سامان اور سواری کا جانور لے کر ان کے اہل کی جانب چل دیئے جبکہ زبان سے  یہ کہہ رہے تھے:  ’’ اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ ! یہ تیرا بندہ تھا اور اسنے تیرا پیغام پہنچایا اور تیرے حکم پر عمل کیا،   جبکہ اسے  ابتلا و آزمائش نے اس مشقت میں   ڈالا لیکن اسنے میری خواہش کی مخالفت کی حالانکہ اسے  کچھ معلوم نہ تھا کہ اس کا انجام اتنا بڑا ہو گا۔ ‘‘  چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی جانب وحی فرمائی کہ یہ کوئی اظہارِ ناراضی نہیں   اور نہ ہی میں  نے ایسا اپنی بات نہ ماننے کی وجہ سے  کیا ہے بلکہ یہ تو مغفرت و رحمت کا باعث ہے،   اسنے میرے حکم کی مخالفت کی حالانکہ اس کی موت کا وقت قریب آ چکا تھا تو میں  نے اس کے لئے یہ پسند نہ کیا کہ وہ مجھے نافرمانی کی حالت میں   ملے،   لہٰذا میں  نے اسے  اس مصیبت سے  دوچار کر دیا جو اس کے نزدیک ناپسندیدہ تھی اور اس پر اپنی ایک مخلوق کو مقرر کر دیا جو اسے  میری ملاقات کے لئے پاک کر دے۔ میرے نزدیک یہ اس کے لئے مرتبۂ شہادت سے  اعلیٰ مقام ہے۔ اس نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ سنا تو عرض کی: ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ،   تو ہی اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن اور اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہے۔

دو باتوں   میں   سے  بہتر کا جاننے والا: 

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک حقیقی عالم وہ ہے جب اس کے سامنے دو بھلائیاں   ہوں   تو وہ ان میں   سے  بہتر کو جان لے اور اس کے فوت ہونے سے  پہلے پہلے اس پر عمل کر لے اور انہی دو بھلائیوں   میں   سے  جس میں   شر کا پہلو مخفی ہو اسے  جان کر اعراض کرے تا کہ دوسری بہتر بھلائی سے  غافل نہ ہو جائے اور دو برائیوں   میں   سے  بہتر برائی کا جاننے والا ہو کہ جب مجبوراً ان کا شکار ہو تو بہتر پر عمل کرے اور اسی طرح دو برائیوں   میں   سے  زیادہ بری کو بھی جاننے والا ہو تاکہ اس سے  دور رہنے کی فکر کرتا رہے۔

        ان معانی میں   دقیق علوم اور غریب مفاہیم ہیں   جو سوال کرنے والوں   کے لئے راہنمائی اور جاننے والوں   کے لئے عبرت اور نشانیوں   کا باعث ہیں  ۔ لہٰذا دو برائیوں   میں   سے  بدتر کو جاننا اور شر کو خیر سے  ممتاز کرنا عقلی دلائل اور ظاہری علوم سے  ہی ممکن ہے۔

٭٭٭

٭شیطان کا محبوب اور مبغوض٭

حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ایک مرتبہ شیطان سے  اس کی اصل صورت میں ملاقات ہوئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے  فرمایا: اے ابلیس! مجھے یہ بتا کہ تجھے لوگوں میں سب سے  زیادہ کس سے  محبت اور سب سے  زیادہ کس سے  نفرت ہے؟ تو شیطان نے جواب دیا کہ مجھے بخیل مومن سے  زیادہ محبت ہے اور فاسق سخی سے  سب سے  زیادہ بغض۔ حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: وہ کیوں؟ جواب دیا: کیوں کہ بخیل کا بخل میرے لئے کافی ہے جب کہ فاسق سخی کے بارے میں مجھے خوف رہتا ہے کہ اللہ تعالٰیاس کی سخاوت کو قبول کرلے۔ پھر شیطان نے واپس جاتے ہوئے کہا: اگر آپ حضرت یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نہ ہوتے تو میں یہ بات نہ بتاتا۔

 (احیاء علوم الدین،  کتاب ذم البخل وذم حب المال،   بیان ذم البخل،   ج۳،  ص۳۴۲)

فصل:  27

مریدوں   کی بنیادی باتوں   کا بیان

مخلوق کے حجابات: 

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ مخلوق پر تین قسم کے حجاب ہیں  :  (۱) … درہم کا حجاب  (۲) … سلطنت کی خواہش اور  (۳) … عورتوں   کی فرمانبرداری کا حجاب۔

            عارفین کہتے ہیں   کہ تین امورنے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بندوں   کا تعلق منقطع کر رکھا ہے اور وہ یہ ہیں  :

                                                                                                 (1) … ارادے میں   سچائی کی کمی۔

                                                                                                 (2) … راہِ حق سے  جہالت و ناواقفیت۔

                                                                                                 (3) … علمائے سو کا خواہشِ نفس کے مطابق کلام کرنا۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ جب مطلوب حجاب میں   ہو اور اختلاف کی موجودگی میں   کوئی دلیل نہ پائی جائے تو حق کبھی منکشف نہیں   ہوتا اور جب حق ہی منکشف نہ ہوتو مرید حیران و ششدر رہتا ہے۔

سالک کی سات عادات اور ان کی علامات: 

        ایک سالک و مرید میں   سات باتوں   کا پایا جانا بہت زیادہ ضروری ہے: 

 (1) … ارادے میں   سچائی کا ہونا،   اس کی علامت ہے زادِ راہ کا تیار ہونا۔

 (2) … طاعت کے اسباب اختیار کرنا،   اس کی علامت ہے برے دوستوں   کو چھوڑ دینا۔

 (3) … اپنے حالِ نفس کی معرفت کا ہونا،   اس کی علامت ہے آفاتِ نفس سے  آگاہ ہونا ۔

 (4) … عالم ربانی کی مجلس میں   بیٹھنا،   اس کی علامت ہے عالم ربانی کو دوسروں   پر ترجیح دینا۔ 

 (5) … توبہ نصوح کا ہونا تاکہ اس کے سبب حلاوتِ طاعت پائے اور ہمیشہ ثابت قدم رہے،   توبہ کی علامت ہے خواہشِ نفس کے اسباب کا خاتمہ اور نفس کو اس کی مرغوب اشیاءسے  دور رکھنا ۔

 (6) … ایسی حلال اشیاءکھانا جو مذموم نہ ہوں  ،   اس کی علامت ہے رزقِ حلال تلاش کرنا اور اس میں   شرعی حکم سے  موافقت رکھنے والے کسی مباح سبب کی بنا پر علم کو پیشِ نظر رکھنا۔

 (7) … نیک کام میں   مدد کرنے والے کسی رفیق کا ہونا،   اچھے رفیق کی علامت ہے اس کا نیکی اور تقویٰ کے کام میں   تعاون کرنا اور گناہ و سرکشی سے  منع کرنا۔

            پس یہی سات عادتیں   اور خصلتیں   ارادت کی غذا ہیں   کہ جن کے بغیر ارادت قائم ہی نہیں   ہو سکتی۔

 



Total Pages: 332

Go To