Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

توہینِ رسالت کفر ہے: 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک منافق امام کےمتعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ نماز میں

  صرف سورہ عَبَس ہی تلاوت کرتا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کسی کو بھیج کر اس کی گردن اڑوا دی۔  ([1])

        پس امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے اس عمل سے  اس کا کافر ہونا مراد لیا کیونکہ وہ اپنے اور اپنی قوم کے ہاں   نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقام و مرتبہ کو کم دکھانا چاہتا تھا۔

اسرائیلی حکایت: 

         (حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  حضرت سیِّدُنا وہب بن منبہ یمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی سے  ایک انتہائی عجیب اسرائیلی حکایت میں   مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیائے فانی سے  اپنے پاس بلا لیا تو ان کے بعد ان کی اولاد میں   سے  کچھ مردوں   کو ان کا بہترین خلیفہ بنایا،   وہ سب ایک زمانے تک بیت المقدس کو آباد کرتے رہے اور اس کی تعظیم بجا لاتے رہے یہاں   تک کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں   سے  ایک شخص ان کا خلیفہ بنا جس نے سب سے  پہلے اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ کی مخالفت کی اور ان کی شریعت کو چھوڑ دیا،   زمین میں   تکبر کیا اور سرکشی اختیار کی اور یہ کہا کہ میرے دادا حضرت سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور میرے باپ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک مسجد بنائی تو میں   کیوں   نہ اس کی مثل ایک مسجد بناؤں   اور لوگوں   کو اپنی شریعت کی جانب دعوت دوں   جیسا کہ انہوں  نے دی۔ پس اسنے ایک ایسی مسجد بنائی جس سے  وہ بیت المقدس کا مقابلہ کر سکے اور دعویٰ کیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسنے لوگوں   کا رخ اس مسجد کی طرف موڑ دیا اور خوب مال و دولت خرچ کیا اور بیت المقدس کو ویران کر دیا یہاں   تک کہ اسے  بالکل ہی چھوڑ دیا گیا۔ بعض لوگ اس کے دین میں   چاہتے ہوئے اور بعض ڈرتے ہوئے داخل ہونے لگے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک علاقے میں   موجود اپنے ایک نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکم دیا کہ اس قوم کے پاس جاؤ جہاں   وہ جمع ہو اور ان کی مسجد اور ان کے مجمع عام میں   بلند آواز سے  کہو: ’’اے مسجد ِ ضرار! اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نام کی قسم کھائی ہے کہ وہ ضرور تجھے تیرے آباد کاروں   سے  خالی کر دے گا اور انہیں

  تجھ ہی میں   قتل کرے گا اور انہیں   تیری ہی لکڑیوں   سے  کچلے گا،   کتے تیرے اندر ہی ان کا خون پئیں   گے اور ان کا گوشت کھائیں   گے۔ ‘‘  پس بلند آواز سے  شہر میں   بھی یہ ندا دینا اور کچھ کھانا نہ پینا،   نہ کہیں   سایہ میں   ہونا اور نہ ہی اپنی سواری کے جانور سے  اترنا یہاں   تک کہ اس بستی میں   لوٹ آؤ جہاں   سے  نکلے تھے۔

            فرماتے ہیں   کہ انہوں  نے ایسا ہی کیا تو لوگ ہر طرف سے  ان پر ٹوٹ پڑے،   لاٹھیوں   سے  مارا اور پتھروں   سے  خوب زخمی کر دیا مگر وہ اپنی سواری پر ہی بیٹھے رہے اور اس سے  نہ اترے،   بہرحال انہیں   کافی تکلیف اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد دن کے آخری حصے میں   وہ جس بستی سے  آئے تھے ادھر واپس چل دیئے اس حال میں   کہ انہوں  نے پیغام پہنچا دیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر حاصل ہونے والی تکالیف اور آزمائش پر صبر کیا۔

            جب ان کے راستے میں   موجود ایک دوسرے علاقے کے نبینے ان کے متعلق سنا تو آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور سلام کرتے ہوئے کہا: ’’آپ نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا پیغام پہنچا دیا اور اس کے حکم پر عمل کیا،   یقیناً آپ تھک گئے ہیں   اور آپ نے اس قوم کی جانب سے  بہت تکلیف اٹھائی ہے اور بھوکے و پیاسے  بھی ہیں  ،   جسم اور لباس پر آپ کا خون بہ رہا ہے،   آئیں   میرے گھر چلیں  ،   کچھ کھائیں   پئیں  ،   آرام کریں   اور اپنے جسم اور لباس کو دھو لیں  ۔ ‘‘  انہوں  نے جواب دیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جب مجھے بھیجا تو عہد لیا تھا کہ کچھ کھاؤں   نہ کچھ پیوں   اور نہ ہی سایہ میں   بیٹھوں   یہاں   تک کہ اپنے اہل کے پاس لوٹ آؤں  ۔ ‘‘  تو وہ نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بولے:  ’’ میں   بھی تو آپ کے اہل میں   سے  ہی ہوں   کیونکہ میں   بھی آپ کی مثل نبی ہوں   اور آپ کا دینی بھائی ہوں  ،   میرے خیال میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مراد صرف وہی قوم تھی جس کی جانب آپ کو بھیجا گیا تھا،   کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی دشمن تھی،   لہٰذا آپ کو ان کا کھانا کھانے سے  منع فرمایا گیا اور ان کے سائے میں   بھی بیٹھنے سے  روکا گیا،   میرا یہ خیال نہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ پر میرے گھر میں   داخل ہونا حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہی آپ پر میرا کھانا کھانا حرام ہے کیونکہ میں   تو اخوت و نبوت میں   آپ کا شریک ہوں  ۔ ‘‘ 

        کہتے ہیں   کہ اس نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کی بات مان لی اور ان کے گھر تشریف لے گئے اور جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا اور شدید بھوک کی وجہ سے  انہیں   کھانے کی خواہش پیدا ہوئی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے میزبان نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جانب وحی فرمائی جنہوں  نے انہیں   اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی کہ اس سے  کہہ دو: ’’تونے اپنی خواہش اور پیٹ کو میرے حکم پر ترجیح دی ہے،   کیا میں  نے تم سے  عہد نہ لیا تھا کہ جس بستی سے  نکل رہے ہو واپس لوٹنے تک کچھ نہیں   کھاؤ پیو گے اور نہ ہی کہیں   آرام کرو گے؟ اگر تم نے اپنی رائے سے  اجتہاد نہ کیا ہوتا اور نہ ہی اپنے علم کی حد کے اعتبار سے  کچھ کہا ہوتا تو میں   تم دونوں   سے  ناراض ہو جاتا،   حالانکہ میرے نزدیک اس کا یہ عذر معمولی ہے۔ کیونکہ میں  نے اس سے  عہد لیا لیکن اسنے اپنی خواہش کو ترجیح دی اور میرا عہد چھوڑ دیا۔ ‘‘  جب اس میزبان نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں   بتایا جو انہیں   کہنے کا حکم دیا گیا تھا تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اس حال میں   کہ اپنا تہ بند کھینچ رہے تھے اور بڑی تیزی سے  سوار ہو کر چل دیئے،   انہیں   کچھ سمجھ نہیں   آ رہا تھا کہ وہ کس حالت میں   ہیں  ۔ پس وہاں   سے  اس حال میں   چل دیئے کہ چہرے پر بھوک اور پیاس کے اثرات نمایاں   تھے اور جسم اور لباس پر خون کے۔ پھر پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا۔ جب وہ ایک گھاٹی سے  نیچے اترے جس کے نیچے گھنے درخت تھے،   اچانک ان کے سامنے ایک شیر آ گیا،   جس نے انہیں   شکار کر لیا اور پھر وہ شیر وہیں   راستے میں   بیٹھ کر دھاڑنے لگا گویا کہ وہ ان کی سواری اور سامان کی حفاظت کر رہا ہو،   جب بھی کوئی انسان پاس سے  گزرنے لگتا تو وہ دھاڑ مار کر اسے  وہاں   سے  دور بھگا دیتا۔

            جب اس میزبان نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ وہاں   گئے،   شیر انہیں   دیکھ کر ہٹ گیا اور راستہ خالی کر دیا۔ پس انہوں  نے کفن دفن کا اہتمام کیا اور اس کے بعد



[1]     روح البیان، پ۳۰، عبس، تحت الایۃ ۲، ج۱۰، ص۳۳۱



Total Pages: 332

Go To