Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اعتراض کرنے والےنے سمجھا ہے،   بلکہ ایسا اعتراض کرنے والا اخلاص کی پیچیدگیوں   کو کم سمجھنے والا اور عارفین کے طریقوں   سے  ناواقف ہے اور وہ عامل و عارف جن سے  یہ فعل منقول ہے وہ مخلص فقیہ تھے کیونکہ انہوں  نے دو فضیلتیں   ایک ساتھ جمع کر لیں  ۔ جب انہوں  نے اپنے عمل کا آغاز کیا تو اسے  مخفی رکھ کر ایک فضیلت پانے والے تھے مگر جب مقامِ سجدہ آیا کہ جس کا اظہار کئے بغیر ادا کرنا ممکن نہ تھا تو انہوں  نے لوگوں   کی خاطر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قربت چھوڑ دینا مناسب نہ سمجھا اور سر بسجود ہو گئے جیسا کہ حکم دیا گیا ہے اور اسی طرح قراء ت کی جیسا کہ مستحب ہے۔ پس اس طرح وہ دوسری فضیلت پانے والے بھی ہو گئے کیونکہ انہوں  نے اس عمل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے ظاہر کیا جیسا کہ پہلے انہوں  نے اسی کی خاطر عمل کو مخفی رکھا تھا اور اس لئے بھی کہ انہوں  نے لوگوں   کے دیکھنے کو تو چھوڑ دیا لیکن ان کی وجہ سے  اپنا عمل نہ چھوڑا۔ اگر عمل چھپا کر سجدہ ترک کرنے میں   فضیلت ہوتی تو جو شخص گھر میں   نماز پڑھ رہا ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسے  ملنے آ جائے تو اس کی خاطر نماز چھوڑ کر بیٹھ جائے۔

            ایک روایت میں   ہے کہ ایسے  شخص کے لئے دو اجر ہیں  ،   ایک چھپانے کا اور دوسرا ظاہر کرنے کا اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن  لوگوں   کی خاطر عمل ترک کر دینے کو ریاکاری شمار کرتے تھے اور وہ عمل جو لوگوں   کی خاطر کیا جائے شرک ہے۔ حالانکہ منقول ہے کہ ریاکاری کی وجہ سے  عمل نہ کرو اور نہ ہی حیا کی وجہ سے  عمل ترک کرو۔

        مخلوق سے  حیا شرک ہے جیسا کہ خالق سے  حیا ایمان کی علامت ہے اور اگر ایک مرتبہ کسینے لوگوں   کی خاطر عمل ترک کر کے شیطان کی اطاعت کر لی تو ان کی خاطر دوسری مرتبہ بھی اس کی اطاعت کرے گا۔

        اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو روزہ رکھے اور سارا دن اپنے گھر میں   نماز پڑھتا رہے تا کہ مخلوق اس کے عمل سے  آگاہ نہ ہو،   اب اگر وہ اپنے روزے کے ساتھ اعتکاف کی بھی نیت کر لے اور گھر سے  نکل کر مسجد چلا جائے اور وہاں   نماز پڑھنے لگے تو لوگ اس کے عمل سے  آگاہ ہو جائیں   گے۔ لیکن اسنے مسجد میں   جو اعتکاف کی نیت کر رکھی ہے لوگوں   کے دیکھنے کی وجہ سے  ترک نہیں   کرے گا اور نہ ہی اس کے عمل کا اظہار اس کی نیت کے ثبات کے لئے نقصان دہ ہے،   بلکہ اگر وہ پختہ عالم ہو گا تو اعتکاف سے  اس کے درجات میں   مزید اضافہ ہو گا۔ کیونکہ جس امام کی لوگ پیروی کرتے ہوں   اس کے اعمال کا لوگوں   پر ظاہر ہو جانا نقصان دہ نہیں   ہوتا بشرطیکہ اس کا مقصود اظہار نہ ہو اور نہ ہی وہ ان کی تعریف و مدح سرائی کو پسند کرے۔ البتہ! بعض اوقات اسے  اس اظہار میں   بھی اجر ملتا ہے کیونکہ اس میں   ذکر سے  غافل لوگوں   کے لئے تنبیہ اور عارفین کو نیکی کا شوق دلانا پایا جاتا ہے اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک سجودِ قرآن فرض ہے اور جو شخص آیتِ سجدہ سنے یا تلاوت کرے اس پر سجدہ کرنا لازم ہے اور اگر بے وضو ہو تو اس وقت سجدہ کرے جب وضو کرے۔

100نفلی حج سے  بہتر ہے: 

        بعض اوقات بندے کی ایک حالت دوسری حالت سے  بہتر ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو نصر تمار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار سے  مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَارِثْ کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کی: ’’میں  نے نفلی حج کا پختہ ارادہ کر رکھا ہے،   کیا آپ مجھے کوئی نصیحت کریں   گے؟ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا بشر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے  فرمایا:  ’’ تونے کتنا زادِ راہ اکٹھا کیا ہے؟ ‘‘  اسنے بتایا کہ دو ہزار درہم۔ تو آپ نے پوچھا:  ’’ تیرا حج سے  کیا مقصود ہے؟ کیا سیر کرنا چاہتا ہے یا بیت اللہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا کی زیارت کا شوق ہے یا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا چاہتا ہے؟ ‘‘  بولا: ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا مقصود ہے۔“ فرمایا:  ’’اگر تجھے گھر بیٹھے بٹھائے دو ہزار درہم خرچ کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا مل جائے اور تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کا یقین بھی ہو تو کیا ایسا کرے گا؟ ‘‘  کہنے لگا: ’’ہاں  ۔ ‘‘  تو فرمایا: ’’جاؤ! جاکر یہ سارے درہم دس افراد کو دے دو کسی ایسے  قرض دار کو جو ان کے ذریعے اپنا قرض اتار لے ایسے  فقیر کو جو اپنی پراگندگی سے  نجات حاصل کر لے کسی تنگ دست عیالدار کو جو اپنے عیال کو ضروریاتِ زندگی مہیا کر سکے کسی یتیم کی کفالت کرنے والے کو جو اس سے  فرحت پائے اور اگر تمہارا دل مضبوط ہو کہ یہ سب درہم صرف ایک

ہی شخص کو دے دو تو ایسا ہی کرو کیونکہ تیرا کسی مسلمان کے دل میں   خوشی و سرور پیدا کرنا،   کسی پریشان حال کی مدد کرنا،   محتاج کی مصیبت دور کرنا اور کسی کمزور یقین والے شخص کی مالی معاونت کرنا حجِ فرض کی ادائیگی کے بعد 100 نَفْلی حج کرنے سے  زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ بس اٹھو اور جیسا ہم نے کہا ہے ایسے  ہی کرو ورنہ جو کچھ تمہارے دل میں   ہے وہ بیان کرو۔ ‘‘  تو وہ بولا:  ’’اے ابو نصر! میرے دل میں   سفر کی نیت زیادہ قوی ہے۔ ‘‘  اس کی یہ بات سن کر حضرت سیِّدُنا بشر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرا دئیے اور اس سے  ارشاد فرمایا: ’’جب مال،   تجارت کے میل کچیل اور شبہات سے  جمع کیا گیا ہو تو نفس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مال کو کوئی ایسی خواہش پورا کرنے میں   خرچ کیا جائے جو مشروع ہو۔ لہٰذا نیک اعمال کا مظاہرہ کرتا ہے،   حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قسم یاد فرما رکھی ہے کہ وہ سوائے متقین کے کسی کے اعمال قبول نہیں   فرمائے گا۔ ‘‘  ([1])

ایک حال چھوڑ کر دوسرا اپنانا: 

        اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا بشر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  عرض کی گئی کہ فلاں   شخص بڑا مالدار ہے،   بہت زیادہ نماز و روزہ کا پابند ہے۔ تو آپ نے فرمایا:  ’’وہ تو بہت بڑا مسکین ہے کیونکہ اسنے اپنا حال ترک کر کے دوسروں   کا حال اپنا رکھا ہے،   اس لئے کہ اس کا حال یہ تھا کہ بھوکوں   کو کھانا کھلاتا،   مساکین پر خرچ کرتا کہ یہی اس کے لئے خود کو بھوکا رکھنے اور اپنے نفس کی خاطر نماز پڑھتے رہنے سے  افضل تھا جبکہ وہ دنیا کی خاطر اپنے پاس مال جمع کئے ہوئے ہے اور فقیروں   سے  وہ مال اسنے روکا ہوا ہے۔ ‘‘  ([2])

            بعض اوقات فرائض میں   سے  جس کی ادائیگی سب سے  زیادہ ضروری ہوتی ہے اس کا التباس نوافل کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے جس کا سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  اپنے بندوں   کی آزمائش اور اُس کی کارفرما حکمت ہے۔

 



[1]     احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغرور، بیان اصناف المغترین، ج۳، ص۵۰۰

[2]     المرجع السابق



Total Pages: 332

Go To