Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        ایک رات امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ رات کے وقت گشت فرما رہے تھے کہ اچانک ایک دروازے سے  آپ نے جھانک کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں   کہ ایک بوڑھا شخص شراب کے مٹکے اور ایک لونڈی کے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور وہ لونڈی گانا گا رہی ہے۔ پس آپ دیوار پر چڑھ گئے اور اس سے  فرمایا:  ’’تیرے جیسے  بوڑھے شخص کا اس جیسے  کاموں   میں   ملوث پایا جانا کتنا برا ہے۔ ‘‘  تو اس بوڑھےنے کھڑے ہو کر عرض کی: ’’اے امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ! میں   آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا واسطہ دیتا ہوں   کہ

 میری بات ختم ہونے سے  پہلے کوئی فیصلہ نہ کیجئے گا۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’بولو۔ ‘‘  اسنے عرض کی: ’’اگر میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک نافرمانی کی ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تین نافرمانیوں   کے مرتکب ہوئے ہیں  ۔ ‘‘  امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے  دریافت فرمایا کہ وہ کونسی؟ تو وہ بولا:  (۱)  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جاسوسی کی حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس سے  منع فرمایا ہے اور  (۲)  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دیوار پر چڑھے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  (وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا (پ۲،  البقرۃ:  ۱۸۹) )   ([1])   (۳) … آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بغیر اجازت داخل ہوئے ہیں   حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  (لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ-ؕ  (پ۱۸،  النور:  ۲۷) )   ([2])   (یہ سن کر)  امیر المومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’تونے سچ کہا ہے،   کیا مجھے معاف کر سکتے ہو؟ ‘‘  اسنے کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے۔ پس امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس حال میں   وہاں   سے  باہر نکلے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں   سے  اشک رواں   تھے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بلند آواز میں   یہ فرمانے لگے: ’’اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عمر کی مغفرت نہ فرمائی تو وہ ہلاک و برباد ہو گیا،   تم ایک شخص کو پاؤ گے کہ جو برائی کی وجہ سے  اپنی اولاد اور اپنے پڑوسیوں   تک سے  چھپتا پھرتا ہے لیکن اب وہ کہا کرے گا کہ امیر المومنیننے اسے  دیکھ لیا ہے اور اسی جیسی باتیں   کرے گا۔ ‘‘  ([3])

عمل کا اظہار و اخفا: 

            سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں   سے  کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اگر اسنے روزہ نہ رکھا ہو تو قبول کر لے اور اگر روزے سے  ہو تو کہہ دے کہ میں   روزہ دار ہوں  ۔ ‘‘   ([4])

        شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عمل ظاہر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا حالانکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بخوبی جانتے تھے کہ اس کا چھپانا زیادہ بہتر ہے۔ عمل کا اظہار اس اعتبار سے  ہے کہ اس کے بھائی کے دل کو کوئی تکلیف نہ ہو اور اگر چھپانے سے  اس کے بھائی کے دل کو کوئی ٹھیس پہنچے تو مومن کی اعمال پر فضیلت وحرمت کی وجہ سے  عمل کا اظہار اسے  مخفی رکھنے سے  بہتر ہے۔ کیونکہ اعمال کا دارو مدار عامل پر ہوتا ہے اور ان کا اجروثواب عامل کی حیثیت کے مطابق دیا جاتا ہے نہ کہ عمل کی مقدار کے اعتبار سے ،   اس لئے کہ ایک ہی عمل میں   بعض اوقات اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کے لئے چاہے اسے  دوگنی جزا عطا فرماتا ہے۔

            معلوم ہوا کہ مومن عمل سے  افضل ہوتا ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ بندے سے  کہا گیا کہ اپنا عمل ظاہر کر کے اپنے بھائی کے دل سے  تکلیف اور ناپسندیدگی کے اثرات دور کر دے،   اس لیے کہ تیرے لئے ایسا کرنا عمل کو اس حالت میں   چھپانے سے  بہتر ہے کہ تیرا بھائی اپنے دل میں   دکھ محسوس کرے کیونکہ جب تیرا بھائی تجھے کسی ایسے  کھانے کی دعوت دے جو اسنے تیری خاطر بنایا ہو اور تو اس کے پاس نہ جائے اور معذرت کر لے تو وہ تیری معذرت تو قبول کر لے گا لیکن اگر وہ تجھے دعوت دینے میں   سچا تھا تو اس پر گراں  (ناگوار)  گزرے گا۔

عمل کے مخفی و ظاہر کرنے کے متعلق حکایت : 

            مروی ہے کہ ایک بزرگ چند لوگوں   میں   بیٹھے ہوئے دل ہی دل میں   قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہے تھے تا کہ کوئی ان کے عمل سے  آگاہ نہ ہو کہ اچانک جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو انہوں  نے سب کے سامنے سجدہ کیا جس سے  سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔  ([5])

حکایت کی وضاحت: 

            ان کے اس عمل کو دیکھ کر شاید کوئی کم سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص یہ کہہ دے کہ انہوں  نے اپنا عمل ظاہر کر دیا،   اس

لئے کہ انہوں  نے ایسا کام کیا جو ان کے عمل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ سجدہ نہ کرتے تو ان کا عمل مخفی رہتا اور یہی زیادہ فضیلت کا باعث تھا۔ جبکہ انہوں  نے خود ہی اس عمل کو ظاہر کر دیا جسے  وہ چھپا رہے تھے۔

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  یہ اعتراض معاملات سے  ناواقف ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ہم نے اسی قسم کا اعتراض کرتے ہوئے چند علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو بھی سنا ہے،   نیز کم علم مریدین و سالکین بھی اسی قسم کے اعتراضات کا شکار ہو جاتے ہیں  ۔ حالانکہ معاملہ ایسا نہیں   جیسا کہ اس بزرگ کے سجدے پر



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ گھروں میں پچھیت توڑ کرآؤ۔

[2]     ترجمۂ کنز الایمان: اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو۔

[3]     روح البیان، پ۱۸، النور، تحت الایۃ ۲۹، ج۶، ص۹۱۳ جامع الاحادیث للسیوطی، الحدیث: ۲۱۵۴، ج۱۴، ص۸۷

[4]     سنن ابی داود، کتاب الصیام، باب فی الصائم یدعی الی ولیمۃ، الحدیث: ۲۴۶۰، ۲۴۶۱، ص۱۴۰۵

[5]     یہ ان بزرگوں کے انتہائی تقویٰ کا عالم تھا کہ انہوں نے گوارا نہ کیا کہ آیتِ سجدہ پڑھیں اور بارگاہِ خداوندی میں سجدہ نہ کریں حالانکہ دل میں آیتِ سجدہ پڑھنے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے، پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سُن سکے، اگر اتنی آواز سے آیت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔   (بہارِ شریعت، جلد اول، ص ۷۲۸)



Total Pages: 332

Go To