Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

فرمایا:  ’’تمہیں   کس چیزنے جواب دینے سے  روکے رکھا؟ ‘‘  عرض کی: میں   نماز پڑھ رہا تھا۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  کیا تمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   سن رکھ؟  ([1])  اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ- (پ۹،  الانفال:  ۲۴)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں   اس چیز کے لئے بلائیں   جو تمہیں   زندگی بخشے گی۔

سرکار صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بلاوے پر لبیک کہنا: 

            پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حضرت سیِّدُنا ابو سعید رافع بن معلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حالتِ نماز میں   بلانا اس لئے تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں   باطنی علوم سکھائیں   یا پھر ان کا علم ملاحظہ فرمائیں   کہ وہ اس پر کیسے  عمل کرتے ہیں  ؟ اور حضرت سیِّدُنا ابو سعید رافع بن معلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پکار پر لبیک کہنا نماز پڑھنے سے  افضل تھا کیونکہ ان کی نماز نَفْل تھی اور وہ اپنی مرضی سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں   حاضر تھے جبکہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جواب دینا ان پر فرض تھا اور جواب دینے کے باجود وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مطیع و فرمانبردار ہی رہتے،   پس شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پکار پر ان کے جواب دینے کی فضیلت نماز پڑھتے رہنے پر ایسے  ہی ہے جیسا کہ فرض کی فضیلت نَفْل پر ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ۵،  النسآء:  ۸۰)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک  اُسنے اللہ کا حکم مانا۔

        دوسری جگہ ارشادفرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ- (پ۲۶،  الفتح:  ۱۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں   وہ تو اللہ ہی سے  بیعت کرتے ہیں  ۔

            جب اللہ عَزَّ وَجَلَّدونوں   جہانوں   میں   اپنے ایک عام بندے کے ساتھ ہوتا ہے تو کیا اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نہ ہو گا،   پس یہاں    (تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت بجا لاتے ہوئے)  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا اس کی رضامندی کے حصول میں   زیادہ مؤثر اور آخرت میں   ان کے لئے زیادہ اجر و ثواب کا باعث تھا۔

متشدد صوفی: 

            عہدِ نبوی میں   دو افرادنے عبادت میں   مواخات قائم کی اور لوگوں   سے  جدا ہو گئے،   ایکنے دوسرے سے  کہا: ’’آؤ! چلیں   اور آج لوگوں   سے  الگ ہو کر کہیں   بیٹھ جائیں   اور خاموش ہو جائیں   اور جو بھی ہم سے  بات کرے گا اس کا جواب نہ دیں   گے تاکہ یہ عمل ہماری عبادت میں   اضافے کا باعث ہو۔ ‘‘  چنانچہ دونوں  نے سب سے  الگ ہو کر خاموشی اختیار کر لی،   اچانک سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ان کے پاس سے  گزرے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   سلام کیا مگر انہوں  نے کوئی جواب نہ دیا۔ راوی کہتے ہیں   کہ ہم نے ان کے پاس سے  گزرتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’غلو کرنے والے اور حد سے  زیادہ معاملات میں   غوروفکر کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ ‘‘  پس  (جب ان دونوں   کو معلوم ہوا تو)  انہوں  نے سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہو کر معذرت کی اور اپنے عمل سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   توبہ کی۔

مسلمانوں   کی جاسوسی: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق مروی ہے کہ ایک رات آپ نے دورانِ گشت

ایک دروازے میں   سے  چراغ کی روشنی دیکھ کر جھانکا تو پایا کہ کچھ لوگ شراب کے پاس بیٹھے ہیں  ۔ آپ کو کچھ نہ سوجھا کہ کیا کریں  ؟ لہٰذا آپ مسجد گئے اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس دروازے کے پاس لے آئے،   انہوں  نے بھی یہ سب کچھ دیکھ لیا تب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے  پوچھا: ’’آپ کیا کہتے ہیں   کہ ہم کیا کریں  ؟ ‘‘  انہوں  نے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میرے خیال میں   ہم نے وہ کام کیا ہے جس سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں   منع فرمایا تھا کیونکہ ہم نے چھپی ہوئی برائی کی جاسوسی کی ہے اور اس پر آگاہ ہو گئے ہیں   حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  ہم سے  پردے میں   رکھا تھا اور ہمیں   حق نہیں   کہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پردے کو ظاہر کریں  ۔ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے  فرمایا: میرے خیال میں   آپ صحیح اور سچ کہہ رہے ہیں  ،   میں   آپسے  الگ ہو جاتا ہوں  ۔ پس وہ ایک دوسرے سے  الگ ہو گئے۔  ([2])

            ایک روایت میں   ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:  ’’میرے خیال میں   ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی ہے جبکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   جاسوسی کرنے سے  منع فرمایا تھا۔ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ آپسچ کہتے ہیں  ۔ لہٰذا ان کا ہاتھ تھاما اور واپس پلٹ گئے۔ ([3])

حاضر دماغ بوڑھا: 

 



[1]     صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۴۴۷۴، ص۳۶۶ مفھوماً

[2]     نصاب الاحتساب، الباب الثانی  والخمسون، ص۳۳۹

[3]     تفسیر القرطبی، پ۲۶، الحجرات، تحت الایۃ ۱۲، ج۸، الجزء السادس عشر، ص۲۴۰



Total Pages: 332

Go To