Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ (پ۲۷،  الحدید:  ۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جھوٹی طمع نے تمہیں   فریب دیا یہاں   تک کہ اللہ  کا حکم آگیا۔

یہاں   ’’جھوٹی طمع  ‘‘  سے  خواہشاتِ نفسانیہ کی جھوٹی امیدیں   مراد ہیں   اور ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم ‘‘  سے  مراد ہے کہ موت آئی لیکن تم نے اس کے لئے کچھ بھی تیاری نہ کی۔ ان لوگوں   کی مثال اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ ذیل میں   بیان کردہ ان لوگوں   جیسی ہے جن کے مفلس ہونے اور مایوس ہونے کی خبر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس طرح دی ہے:

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗؕ- (پ۱۸،  النور:  ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہاں   تک جب اس کے پاس آیا تو اسے  کچھ نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اسنے اس کا حساب پورا بھر دیا۔

مرتبۂ صدیقین پر فائز ہونے کا طریقہ: 

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرمایا کرتے تھے کہ بندہ صدیقین کے مرتبہ تک حقیقت میں   اس وقت تک نہیں   پہنچ سکتا جب تک کہ اس میں   یہ چار چیزیں   نہ پائی جائیں  : ٭…مسنون طریقہ کے مطابق فرائض کی ادائیگی ٭…ورع و تقویٰ کے اعتبار سے  اکلِ حلال ٭…ظاہر و باطن میں   امورِ ممنوعہ سے  اجتناب اور ٭…مرنے تک اسی حالت پر صبر و استقامت کا مظاہرہ۔  ([1])

عمل کی کوئی انتہا نہیں  : 

            حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! موت کے علاوہ بندے کے کسی عمل کی کوئی انتہا نہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! مومن وہ نہیں   جو صرف کوئی عمل مہینہ و دو مہینے یا سال و دو سال تک کرے بلکہ مومن تو ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم پر قائم رہتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے  ڈرتا رہتا ہے۔ کیونکہ ایمان نرمی میں   سختی،   یقین میں   پختہ عزم،   صبر میں   کوشش اور زہد میں   علم کا نام ہے۔ چنانچہ،   

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (پ۲۶،  الاحقاف:  ۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک وہ جنہوں  نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے ۔

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ بالا کی تلاوت فرمایا کرتے تو فرماتے: ’’لوگوں  نے یہ کلمہ کہا لیکن پھر اس سے  رجوع کر لیا،   پس کون ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم پر ظاہر و باطن میں   اور تنگی و آسانی میں   ثابت قدم رہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معاملہ میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے  نہ ڈرے؟ ‘‘  اور ایک مرتبہ فرمایا: ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! انہوں  نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر استقامت اختیار کی اور لومڑیوں   کی طرح فریب سے  کام نہ لیا۔“  ([2])

خود فریبی کا شکار: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ جس کے نزدیک فضائل  (یعنی نوافل)  کی طلب فرائض کی ادائیگی سے  زیادہ اہمیت رکھتی ہو وہ دھوکے میں   مبتلا ہے اور جو فرائض کے علاوہ دوسرے کاموں   میں   مصروف ہو کر اپنے نفس سے  غافل ہو جائے وہ بھی دھوکے میں   مبتلا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اور دیگر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ لوگ اصولِ دین ضائع کرنے کی وجہ سے  وصالِ حق سے  محروم ہو گئے۔

        پس بندے کے لئے سب سے  افضل یہ ہے:

… وہ اپنے نفس کی معرفت حاصل کرے۔

… جس بھی حالت پر قائم ہو اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود اور اس کے احکام سے  واقفیت حاصل کرے۔

… جن امور سے  اسے  منع کیا گیا ہے سب سے  پہلے ان سے  اجتناب کرنے کے بعد علم کی مدد سے  ان فرائض پر عمل کرے جن کی تدبیر اسنے ابھی تک نہ کی ہو۔

٭...خواہشِ نفس پر عمل پیرا ہونے سے  پرہیز کرے۔

… اور نوافل کی ادائیگی میں   اس وقت تک مصروف نہ ہو جب تک کہ فرائض سے  فارغ نہ ہو جائے کیونکہ نَفْل کی ادائیگی سلامتی حاصل ہونے کے بعد ہی صحیح ہوتی ہے کہ جس طرح ایک تاجر کو راس المال حاصل ہونے کے

بعد ہی نفع حاصل ہوتا ہے اور جس پر سلامتی متعذّر و مشکل ہو وہ نَفْل کی ادائیگی سے  دور اور خود فریبی کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

فرض و نَفْل کی ادائیگی میں   اشکال : 

            بعض اوقات دقیق معانی اور مخفی علوم کی وجہ سے  نوافل اور فرائض آپس میں   خلط ملط ہو جاتے ہیں   اور بندہ نَفل کو فرض یا واجب خیال کرتے ہوئے ادا کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابو سعید رافع بن معلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نماز پڑھ رہے تھے کہ حضور نبی ٔمُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   آواز دی مگر انہوں  نے یہ گمان کرتے ہوئے جواب نہ دیا کہ ان کا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   کھڑے رہنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ پس سلام کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت



[1]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب الحلال و الحرام، الباب الاول، ج۶، ص۴۵۹

[2]     الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد عمر بن الخطاب، الحدیث:۶۰۱، ص۱۴۴



Total Pages: 332

Go To