Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

مروی طویل حدیثِ پاک میں   تذکرہ کیا ہے،   یعنی مومن کو تین کاموں   کے علاوہ کسی کام کے لئے سفر نہیں   کرنا چاہئے:  (۱) … آخرت کے لئے زادِ راہ تیار کرنے کی خاطر

  (۲) … معاش کی خاطر  (۳) … حلال شے میں   لذت حاصل کرنے کی خاطر۔ چنانچہ عاقل پر لازم ہے کہ اپنے اوقات چار حصوں   میں   تقسیم کر لے:  (۱) … ایک ساعت میں   اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے  مناجات کرے  (۲) … ایک ساعت میں   اپنے نفس کا محاسبہ کرے  (۳) … ایک ساعت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کردہ کائنات میں   تفکر و تدبر کے لئے خاص کر دے  (۴) … ایک ساعت کو کھانے پینے جیسی ضروریات کے لئے خالی رکھے کیونکہ اسی ساعت میں   اسے  باقی اوقات میں   امور سر انجام دینے کے لئے مدد و معاونت حاصل ہو گی۔

            عقل مند کی صفات میں   سے  تین مجمل صفات بھی ہیں  ،   عقل مند کی علامت یہ ہے کہ  (۱) … اپنی شان اور حالت کے اعتبار سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف متوجہ رہے  (۲) … اپنی زبان کی حفاظت کرے اور  (۳) … اپنے زمانے کو اچھی طرح جاننے والا ہو۔  ([1])  اور بعض روایات میں   ہے کہ وہ اپنے بھائیوں   کی عزت کرنے والا ہو۔

            پس وقتِ مباح کی ابتدا میں   مصائب و حاجات پیش آتی ہیں   اور فاقے کرنا پڑتے ہیں  ،   لہٰذا وقت سے  پہلے تکلف سے  کام نہ لے ورنہ اپنے وقت سے  غافل ہو جائے گا۔

دنیاوی مشاہدہ کے چار مقامات: 

        دنیاوی مشاہدہ کے چار مقامات ہیں   اور ہر بندہ اپنے حال کے لحاظ سے  اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق اس کا مشاہدہ کرتا ہے:  ٭… بعض عبرت وبصیرت کی نگاہ سے  دنیا دیکھتے ہیں  ،   یہ اولو الالباب ہیں   جن کے قلوب سے  حجاب اٹھا دیئے جاتے ہیں   اور یہی وہ لوگ ہیں   جو ہاتھ اور آنکھیں   رکھنے والے اور مقامِ عبرت پر فائز ہیں  ۔ یہ مقام ان علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا ہے جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں  ٭… بعض دنیا اور دنیا والوں   کو رحمت و حکمت کی نگاہ سے  دیکھتے ہیں  ،   یہ ڈرنے والوں   کا مقام ہے٭… بعض دنیا اور دنیا والوں   کو ناراضی اور غصے کی آنکھ سے  دیکھتے ہیں  ،   یہ مقامِ زاہدین ہے۔٭… بعض شہوت و رشک کی آنکھ سے  دیکھتے ہیں  ،   یہ ہلاک ہونے والوں   کا مقام ہے اور مراد وہ دنیادار لوگ ہیں   جو صرف دنیا کمانے کی جستجو میں   مگن رہتے ہیں   اور اس کے نہ ملنے پر حسرت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

مشاہدہ کی کیفیات و انعامات: 

اگر بندے کو دنیا دیکھنے کی غرض سے  عبرت و حکمت کی نگاہ عطا کی جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  دنیا پر غلبہ عطا فرما کر اپنے ماسوا سے  مستغنی فرما دیتا ہے۔

اگر خائف کو دنیا دیکھنے کی خاطر رحمت کی نگاہ دی جائے تو اس کے مقام پر رشک کیا جاتا ہے اور اسے  ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   عظیم نعمتوں   سے  سرفراز کیا جائے گا۔

اگر زاہد کو ناراضی کی نگاہ عطا فرمائی گئی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا میں   اسے  زہد کے باعث نہ صرف دنیاوی آلائشوں   سے  نکال دیتا ہے بلکہ اسے  چھوٹی سلطنت کے فوت ہو جانے کے عوض بڑی سلطنت عطا فرماتا ہے۔

اور جس کو حسرت و رشک کی نگاہ سے  آزمایا جائے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  ہلاکت و بربادی میں   ڈال دیتا ہے،   پس وہ ہلاکتوں   کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔

… جو شخص کسی ذات کے خلق کا یا کسی صفت کے معنی کا مشاہدہ کرے تو اس کا وہ مشاہدہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ خلق یا صفت کسی نعمت یا عذاب کے مشاہدہ کا موجب ہوں   اور یہی وہ مقامِ معرفت ہے جس پر بندہ فائز ہو جاتا ہے۔ عارفین کو اخلاق و اوصاف پر دلالت کرنے والے جن افعال کا مشاہدہ ہوتا ہے ،   یہ مشاہدہ بھی ویسا ہی ہے،   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے سامنے ان معانی کو ظاہر فرمایا تا کہ وہ ان سے  اس کی ذات پر استدلال کرتے ہوئے اس کا مشاہدہ کر سکے۔

جس نے نفسانی خواہش کی آنکھ سے  کسی شہوت کو دیکھا تو اس کا یہ دیکھنا ہی اسے  خواہشاتِ نفسانیہ کی جانب لے جاتا ہے اور شیاطین اسے  اچک لیتے ہیں  ،   ہوائیں   اسے  انتہائی دور دراز کسی پست زمین میں   لے جاتی ہیں  ،   مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب لے جانے والے اور حبیب کی مجلس میں   بٹھانے والے یعنی سچ کی مجلس میں   عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور سلوک کے تمام راستے الٹ ہو جاتے ہیں  ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب سے  محروم : 

        جو قرب نہ پا سکے وہ ہلاکت و دوری میں   جا گرتا ہے اور اس سے  مراد وہ ناامید،   نقصان اٹھانے والا،   خائن اور

فتنے میں   مبتلا شخص ہے جس کا حال ہمیشہ ماضی سے  برا اور مستقبل حال سے  بھی زیادہ برا ہو گا۔ پس ایسے  شخص کے لئے زندہ رہنے کے بجائے مر جانا ہی بہتر ہے کیونکہ اس کی زندگی اسے  حبیبِ حقیقی سے  مزید دور کر دے گی اور اس کا اس حالت پر باقی رہنا اسے  راہِ حق سے  بھی روک دے گا،   اس کا خواہشاتِ نفسانیہ کے حصول میں   دیوانہ ہو جانا مزید دوری کا باعث بنے گا اور غلبۂ نفس اسے  نیکی کے کام کرنے سے  بھی روک دے گا۔

عمر کے خاتمہ سے  مراد : 

        جب بندہ عملی خرابی کی حالت میں   ہو اور یہ عملی خرابی مزید بڑھتی رہے تو گویا کہ اس کی عمر ختم ہو چکی ہے۔ جس طرح وقت یا کوئی شے فوت اور ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ عمر کا تعلق اُن اشیاءسے  نہیں   جو کسی ایک ہی شے کی طرح یکبارگی ختم ہو جاتی ہیں   بلکہ عمر تو ایک کے بعد دوسرے وقت میں   نئے سرے سے  پیدا ہوتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حکمت سے  ایک ایک جز کر کے ختم ہوتی ہے اور بندے کو ایک کے بعد دوسرے وقت اور ایک کے بعد دوسرے دن کی مہلت اور چھوٹ دی جاتی ہے تا کہ وہ اس پر اس طرح چڑھتا رہے جس طرح کوئی سیڑھی پر ایک ایک زینہ کر کے چڑھتا ہے۔ اسی طرح بندہ اپنی عمر کے ایک وقت سے  غافل ہو کر دوسرے وقت میں   اس کام کو بجا لانے کے بجائے اس وقت کو بھی کسی دوسرے کام میں   گزار دیتا ہے اور بعض اوقات وقت گزر جانے کے بعد کوئی کام یاد تو آتا ہے مگر اگلے وقت میں   اسے  پھر بھول چکا ہوتا ہے۔ پس اس کی مشغولیت وفراغت اور یاد رکھنا و بھول جانا سب یکساں   و برابر



[1]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۲۶ ابو ذر الغفاری، الحدیث: ۵۵۱، ج۱، ص۲۲۲



Total Pages: 332

Go To